سیرت نگاری کےمعاصر رویے

علمی وتنقیدی جائزہ

متعلقہ لنکس

آج جس موضوع پہ گزارشات بیان کرنے جا رہا ہوں وہ ایک خالص علمی موضوع ہے جس کا تعلق براہ راست ہماری دینی اور ملی زندگی سے ہے- کیونکہ اس کے ساتھ ہماری روحیں جڑی ہیں؛ اس کی صحیح تفہیم اور ادراک کا ہونا ہماری ملت کی حیات کا ضامن ہو سکتا ہے-
آج جس موضوع پہ چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا عوام و خواص کیلئے گو کہ وہ نیا نہیں ہے - مزید یہ کہ اس کے جس خاص پہلو کی جانب آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا وہ پہلو اہل علم کے ہاں تو اجنبی نہیں ہوگا لیکن عامۃ الناس میں بہت کم لوگ اس سے واقف ہوں گے-
پاکستان دُنیا کی نظر میں ایک جغرافیہ ہے، ایک خطۂ زمین ہے، ایک مملکت ہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے کے اندر یہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا راز ہے پاکستان کا وجود خالصتاً رُوحانی وجود ہے۔
اُس نگاہِ کرم کا کمال ہی یہ تھاکہ پوری محفل بیٹھی ہے اور اُس محفل میں ہر آدمی کو گمان ہے کہ حضور میرے ساتھ مخاطب ہیں۔طالب و مرشد ، قائدو کارکن اور باپ و بیٹے کے ان تینوں رشتوں کو اگر آپ دیکھیں تو اندازہ لگائیں کہ ہمارے اوپر کتنی زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
ا مَّا بعد !اسلام کا بنیادی اور انتہائی مقصد بنی نوعِ انسان کوامن وسلامتی اور عدل و احسان سے مشرف کرکے قربِ الٰہی سے سرفراز کرنا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کوپیدا ہی اپنے قرب و وصال کی خاطرکیا ہے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے-: ’’وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِ نْسَ اِلاَّلِےَعْبُدُ وْنَ ج ‘‘
اسی تجدید عہد، عزمِ عمل کے لیے ہم سب اپنے قائد و مرشدِ کریم کے روبرو اکٹھے ہیں۔ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین مسلسل یہی پیغام دے رہی ہے کہ حضور سلطان الفقر ششم، بانیٔ اصلاحی جماعت و بانیٔ عالمی تنظیم العارفین حضرت سلطان محمد اصغرعلی صاحب کے پیغام کا دائرۂ کار
ہزاراں ہزار بلکہ بے حد و بے شمار حمدوسپاس واحد لاشریک ذات حق کے لئے کہ وحدانیت جس کی صفت مخصوص اور جلال و کبریائی وعظمت و برتری کا وصف خاص ہے‘ اس کے بعد درود نا محدود ہو حضرت محمدﷺ پر
سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور جس نے درجات کو عابدوں کے لئے اور مراتب قرب کو عارفوں کے لئے محفوظ فرمایا ہے اور بے حد و بے حساب اور لا محدود درود و سلام ہوں سرورِ دو عالم، حبیب ِکبریا حضرت محمد
تصوف کو اصطلاحِ قرآنی میں’’تصدیق بالقلب‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس کا بنیادی مقصد معاشرے کے اندر روحانی آسودگی کی فراہمی، عوام خواص کیلئے اطمینانِ قلب ،ظاہری وباطنی گناہوں سے محفوظ رہنے کے لئے ﴿تاکہ متوازی وصحیح اسلامی معاشرے کا قیام ممکن ہوسکے﴾
سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور جس نے درجات کو عابدوں کے لئے اور مراتب قرب کو عارفوں کے لئے محفوظ فرمایا ہے اور بے حد و بے حساب اور لا محدود درود و سلام ہوں سرورِ دو عالم، حبیب ِکبریا حضرت محمد

خطاب: صاحبزادہ سُلطان احمدعلی
نومبر 2019

قابل صد احترام علماء کرام، مشائخ عظام،مہمان گرامی بھائیو، بزرگو، ساتھیو حاضرین ناظرین اور سامعین اسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاۃ !

آج جس موضوع پہ گزارشات بیان کرنے جا رہا ہوں وہ ایک خالص علمی موضوع ہے جس کا تعلق براہ راست ہماری دینی اور ملی زندگی سے ہے- کیونکہ اس کے ساتھ ہماری روحیں جڑی ہیں اس کی صحیح تفہیم اور ادراک کا ہونا ہماری ملت کی حیات کا ضامن ہو سکتاہے اور ہوا بھی ہے – اس کے برعکس اس کی کج فہمی اور صحیح ادراک اور تفہیم نہ ہونا ہماری ملی زندگی کی تباہی کا موجب بن سکتا ہے اور بنا بھی ہے- اس لیے کہ وہ موضوع ہمارے ایمان کی حرارت و تپش سے جڑا ہے کیونکہ وہ موضوع ’’خاتم النبیین سید المرسلین امام الانبیاء محمد مصطفٰے احمد مجتٰبی (ﷺ) کی ذات گرامی، آپ (ﷺ)کی حیاتِ طیبہ کی مختلف جہات اور آپ (ﷺ)کے وجود سے رونما ہونے والی اس عملی ہدایت کا وہ پیغام اور وہ اسوہ حسنہ ہے جس کو ہمارے ہاں ’’سیرت النبی(ﷺ)‘‘ کہا جاتا ہے-

عصرِ حاضر میں مطالعۂ سیرت کی بات کی جائے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں سیرتِ رسول (ﷺ) کے باب میں جس سطح پر اسلامیات کے ضمن میں سیرت النبی (ﷺ) کی تعلیم دی جاتی ہے وہ ناکافی ہوتی ہے لیکن ہر مسلمان کے ایمان، اس کی سیرت اور اس کے کردار کی تشکیل کیلئے یہ اولین ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ اسے سرکارِ دو عالم(ﷺ) کی سیرتِ مبارکہ سے آشنا اور آگاہ کیا جائے-

اگر آپ ابتداً دیکھیں جب اس موضوع کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اس وقت جو آئمہ سیرت کی کتب میں آپ کو اکثر مغازی ملیں گے- یعنی سرکار دو عالم (ﷺ) کی حیات مبارکہ میں جو جنگیں ہوئیں وہ چاہے غزوات تھے یا سرایا- جن میں سرکار دو عالم (ﷺ) نے شرکت فرمائی یا اپنے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کو بھیجا ؛اول اس چیز (یعنی مغازی) کو اس میں شامل کیا جاتا تھا- صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)کی زندگیوں میں اس موضوع کی اہمیت تو یقیناً بے تحاشہ تھی لیکن چونکہ اس کا عملی نمونہ ان کے پاس موجود تھا؛ ان کی یاداشتوں میں ان کے کردار کی صورت میں سرکار دو عالم (ﷺ) کی ذات گرامی کی سنت اور زندگی مبارک کا ایک ایک پہلو نقش تھاجس کے مطابق وہ اپنے قول و فعل اور اپنی زندگی کے فیصلے مرتب کرتے تھے –

لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جس طرح باقی علومِ اسلامیہ کی درجہ بندی ہوئی، ان کی تدوین ہوتی گئی اسی طرح سیرت النبی(ﷺ) کے موضوع کی بھی تدوین ہوتی گئی، علومِ اسلامیہ میں یہ ہمیشہ ایک الگ اور مستقل موضوع کے طور پہ ممتاز رہا- یہ بہتر سے بہتر ایک مدون صورت میں سامنے آتا گیا اور پھر ساتھ ساتھ اس کی درجہ بندی بھی ہوتی گئی- اگر آپ ابتداء میں دیکھیں تو حدیث رسول(ﷺ) میں تمام پہلو سموئے ہوئے تھے- مثلاً فقہ،تفسیر، حدیث، سیرت-اس وقت علم سے مراد یہی تھا کہ یہ آدمی سرکارِ دو عالم (ﷺ) کی ذات گرامی اور حدیث سے واقف ہے-

باوجود اس کے کہ اندرونی سطح پہ اختلاف تھا لیکن فتوحات پہ فتوحات ہوتی گئیں اور سلطنت اسلامیہ مسلسل پھیلتی چلی گئی-ایک جزیرہ نماء عرب سے نکل کے افریقہ، یورپ، ایشیاء کوچک، وسط ایشیا، فار ایسٹ اور بلادِ ہند میں اسلام آیا،اسلامی حکومتیں قائم ہوئیں اور ایک سے بڑھ کر ایک مشکلات کا سامنا رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مشکلات کے حل کے لیے اس دین و ملت میں ایسے ایسے نفوسِ قدسیہ، عالی ذہن اورعظیم دماغ پیدا کیے جنہوں نے علم کی ان مختلف برانچوں کی خدمت کی- شروع میں علم اپنی ایک ہی جہت میں تھا لیکن جیسے جیسے ضرورت پڑی تو پھر لوگ اس میں سپیشلائزڈ کرتے گئے- یعنی فقہاء کا طبقہ، محدثین کا طبقہ، مفسرین کا طبقہ اور آئمہ کلام کا طبقہ الگ الگ نمایاں ہوتا گیا- اسی طرح سیرتِ رسول (ﷺ) ایک الگ سپیشلائزیشن کا موضوع بن گیا- جیسے ان تمام علوم میں ایک تنوع آگیا تو یہ اپنی اپنی ڈائریکشن میں سپیشلائزڈ سبجکٹ بنتے چلے گئے اسی طرح سیرت النبی (ﷺ) میں بھی صرف غزوات اور سرایا نہ رہے بلکہ سرکار دو عالم (ﷺ) کی بعثت سے لے کے حضور (ﷺ) کی وفات تک تمام چیزیں سیرت میں شامل ہو گئیں- پھر اس کے بعد یہ سلسلہ سرکار دو عالم (ﷺ) کی بعثت سے بھی قبل آپ کی ولادت تک جا پہنچا- پھر اس پہ جب آئمہ کرام نے حدیث مبارکہ، عربوں کی روایات، خاندانِ بنوہاشم کی تاریخ، عرب قبائل کی تاریخ، دیگر جتنے بھی مذاہب تھے مثلاً نصاریٰ، یہود، مجوس، ہنود؛ ان کی کتب میں جیسے جیسے عرق ریزی کی اور خاتم الانبیا (ﷺ) کی ذات مبارکہ سے متعلق بشارات کو نمایاں کیا، کتب مرتب کیں تو جہاں دیگر مذاہب کے لوگوں نے اس بنیاد پہ آپ (ﷺ) پر ایمان لانا شروع کیا وہیں قبل از اسلام موجود مذاہب کی کتب میں آمدِ مصطفےٰ (ﷺ) کا تذکرہ بھی سیرت کا مستقل موضوع بن گیا-

یہ موضوع سرکارِ دو عالم(ﷺ) کی ولادت تک محدود نہ رہا بلکہ سرکاردوعالم(ﷺ) کی ولادت سے قبل دیگر ادیان کا مطالعہ بھی سیرت کا حصہ بنتا چلا گیا-یوں سرکار دو عالم (ﷺ) کے جلوہ افروز ہونے کے ہزاروں برس قبل تک جتنی انسانی تاریخ پھیلی تھی سیرت کا مطالعہ ان سب تک محیط ہو گیا – اس پر آئمہ سیرت نے ایسی لازوال خدمات سرانجام دیں کہ آج چودہ صدیاں بیتنے کے باوجود بھی شمعِ تعلقِ مصطفےٰ (ﷺ) ہر سینۂ مومن میں فروزاں ہے- سیرت کی ابتدائی کتب میں دو چار کتب مشہورِ عام ہوگئیں مثلاً ’طبقات ابن سعد‘،’سیرت ابن ہشام‘-لیکن تقریباً اس کے بعد اسلام میں اور اسلام کے نام لیواؤں میں یہ ایک ایسا موضوع تھا جس سے دور رہنا ایک صاحب ایمان کے لیے ممکن نہ تھا-

پھر تاریخ وقت کے دھارے میں بہتی رہی، پھر فتنے پھوٹے مثلاً معتزلہ کا فتنہ، خوارج کا فتنہ، اس کے بعد عقائد باطلہ مختلف صورتوں میں اہلِ اسلام میں ابھرتے ڈوبتے رہے، مسلمانوں میں فکر یونان سے کی ’’تقلیدِ کورانہ‘‘کا فتنہ اور دیگر – ان فتنوں کی سرکوبی کیلئے جہاں دیگر علوم و فنون مسلمانوں کیلئے تیغ و سنانِ علمی کی حیثیت رکھتے تھے وہیں سیرتِ رسول (ﷺ) بھی وہ بنیادی موضوع تھا جس سے ہمیشہ آئمہ کرام نے حق و باطل کا فرق پہچاننے کیلئے استفادہ کیا اور اس سے امت کو رہنمائی دیتے رہے-اس کے بعد سیرت میں الگ الگ منہج بنتے گئے، حضور کریم (ﷺ) کے فضائلِ روحانیہ پہ ، شمائلِ مبارکہ اور معمولاتِ دُنیوی کی روایات و تشریحات پہ مختلف نکتہ ہائے نظر تشکیل پاتے چلے گئے جن کی اپنی ایک تاریخ ہے- (to cut a long story short) تو قارئین کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ اٹھارویں صدی کے وسط سے نو آبادیات کا آغاز ہوا اور رفتہ رفتہ دنیائے اسلام مغرب کے نرغے میں آ گئی-ہماری بڑی بڑی سلطنتیں تاخت و تاراج ہوئیں اور مختلف مغربی طاقتوں؛ کہیں فرانس نے، کہیں پرتگال نے، کہیں ہالینڈ نے، کہیں برطانیہ نے، کہیں اٹلی نے اپنا اپنا قبضہ جمایا اور نہ صرف یہ کہ ہم سیاسی طور پہ ان کی کالونی بن گئے بلکہ علمی اور فکری طور پہ بھی مغلوب و مفتوح ہوتے گئے ۔انہوں نے اپنے طاغوتی عزائم کے پیش نظر اسلام اور اسلامی فکر کے مختلف پہلوؤں پر اپنے سامراجی عزائم کی خاطر تحقیق کرنا اور تشریح کرنا شروع کیا-جس میں انہوں نے سب سے بڑا حملہ خاتم الانبیاء (ﷺ) کی ذات گرامی اور سیرتِ طیبہ پر کیا-

ہند و پاک میں بھی اکثر و بیشتر برطانوی اہلکار (کیپٹن، کرنل، لارڈز، گورنر جنرلز، صوبوں کے گورنرز بھی) سیرت کے موضوع پہ متنازع و متعصبانہ اپروچ کے ساتھ کتب و رسائل لکھتے رہے-نہ صرف یہ کہ خود لکھتے رہے بلکہ پاک و ہند میں بسنے والے دیگر مذاہب کے متعصب و متشدد لوگوں کو بھی ریاستی وسائل و تحفظ فراہم کر کے پیغمبرِ اسلام (ﷺ) کے خلاف لکھواتے رہے-یہ اختلاف اپنی جگہ مگر اس کے متضاد بعض مغربی اہلِ قلم نے مثبت رویے سے بھی سیرت نگاری کی ہے ، ان کو ’’ڈس کریڈٹ‘‘ نہیں کیا جانا چاہئے- اس سے اگلی بات بھی ضرور ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ انہیں ’’ڈس کریڈٹ‘‘ نہ کرنے کا اور ان کی کاوشوں کو ’’ایڈمائر‘‘ کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں لیا جانا چاہئے کہ انہوں نے کلیتاً عیسوی روایتِ سیرت نگاری سے آزاد ہو کر لکھا ہے-نہیں! انہوں نے توصیفی کام بھی اپنی عیسوی مغربی روایتِ علمی کے تحت ہی کیا ہے-

ہمارے ہاں یہ بڑا امتیاز اور شرف سمجھا جاتا تھا بلکہ اب زیادہ سمجھا جاتا ہے کہ پڑھا لکھا وہ شخص ہے جس کی ڈگری کے اوپر مغرب کے کسی ادارے کی سٹیمپ لگی ہو اور المیہ یہ ہے کہ اگر یہ سٹیمپ نہ ہو تو سمجھا جاتا ہے کہ یہ زیادہ اعلٰیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہے -یہاں ایک ستم ظریفی کا ذکر کرتا چلوں کہ مجھے یاد ہے کہ پانچویں چھٹی جماعت میں علامہ اقبال اور قائد اعظمؒ کے متعلق ہمیں جتنے مضامین پڑھائے جاتے تھے ان میں یہی رَٹا لگایا جاتا تھا کہ ’’وہ گورنمنٹ کالج یا سندھ مدرسۃ الاسلام سے فراغت کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان چلے گئے‘‘-یعنی ہمارے دل و دماغ پر یہ چھاپ بٹھائی گئی کہ اعلیٰ تعلیم وہی کہلائے گی جو آپ مغرب سے حاصل کر کے آئیں گے-

اب یہاں پہ بڑے پیچیدہ سوالات پیدا ہو جاتے ہیں اس مختصر تاریخ کے پیرائے جو ناچیز نے آپ کے سامنے دہرائی- بڑی اہم بات یہ ہے کہ مغربی ساماجیوں کے ہاتھ ہمارا پولیٹیکل سسٹم تو آ ہی گیا تھا ، ان کے ہاتھ ہماری سوچنے کی روِش بھی آ گئی کہ مسلمان کے سوچنے کا زاویہ کیا ہے؟ اور ان کی سوچ کا محور و مرکز کیا ہے- انہوں نے یہ محسوس اور معلوم کر لیا کہ مسلمان کے سوچنے، بولنےاور کام کرنے کا محور و مرکز اس کے نبی(ﷺ) کی ذات گرامی ہے- کیونکہ مسلمان شاید کسی بھی چیز پہ دانستہ یا نادانستہ سمجھوتا کر جائے مثلاًضمیر، قبیلہ، سلطنت، کھیت، پانی، ہتھیار، افواج وغیرہ وغیرہ-لیکن اگر کسی بات پہ مسلمان کا ضمیر نہیں خریدا جا سکتا تو وہ اس کے محبوب کریم (ﷺ) کی محبت، حرمت اور ناموس ہے – یعنی ان کے ہاتھ ایک رگ آگئی تو انہوں نے کہا کہ یہ بھی اب ہماری سامراجیت سے محفوظ نہیں رہے گی-اس کے بعدیہ بھی بتانا چاہوں گا کہ پھر انہوں نے یہ اندازہ لگایا کہ کیسے مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کے افکار کو گرفتارکیا جا سکتا ہے؟ جس وقت ہمارے ہاں پرنٹنگ پریس اور چھاپہ خانوں کی مخالفت کی جا رہی تھی اور قلمی نسخے لکھ کر کتابوں کی ترویج یا کتابوں کی حفاظت کا جو پرانا طریق تھا اسی پہ ہمارے علماء اسلام نے اسرار کیا جو کہ ہمارے لئے جمود کی کیفیت تھی جبکہ ان کے ہاں اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے انہوں دھڑا دھڑ اپنے افکار کتب کی صورت میں پوری دنیا میں ایکسپورٹ کیے جو کہ اُن کے اقتدار کی وجہ سے ہمارے ہاں بھی پہنچے، محض پہنچے ہی کیا بلکہ سرایت کر گئے-

ہمارے نام نہاد پڑھے لکھے طبقہ کے پاس سیرت النبی (ﷺ) کا وہ مواد موجود تھا جس کو مستشرقین نے تشکیل دیا تھا- اسی طرح آج بھی ہمارے ہاں جو ایک نام نہاد پڑھا لکھا طبقہ کہلاتا ہے اگر ان کی لائبریروں میں آپ کو سیرت کی کوئی کتب ملیں گی تو وہ مغربی مصنفین ہی کی لکھی ہوئی ہونگی ، ہمارے ہاں کے پڑھے لکھوں میں انہی کتب کو بنیادی حوالہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے-

مغربی عیسوی علمی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مستشرقین نے کئی مسائل کو بہانہ بنا کر ایک بنیادی بات چھیڑ دی کہ اسلام ایک طرز حیات ضرور ہے مگر اس کی فکر کی لپیٹ زیادہ تر انسانوں کو ان کے معاشرت، سماج اور سیاست پر مشتمل ہے -اس مادی نقطۂ نظر کو سامنے رکھ کے انہوں نے سرکار دو عالم (ﷺ) کے باطنی فضائل و کمالات جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے آپ (ﷺ) کو عطاہوئے، ان کا انکار کرنا شروع کیاجس سے مغرب مرعوب مسلمانوں میں بھی یہ روایت پختہ ہوئی کہ نبی کو ماننا ہے تو اس کیلیے نبی کی ظاہری، سماجی، سیاسی معاشرتی زندگی کافی ہے؛نبی کے باطنی فضائل و کمالات اور معجزات کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے ، اِس پہ علمی بہانہ یہ بنایا کہ ایسی چیزیں عقل کے احاطہ سے باہر ہیں لہٰذا انہیں ماننا نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں بلکہ واقعتاً ایک غیر ضروری سا کام ہے (استغفر اللہ، نعوذ با اللہ)- عیسوی روایت کے مستشرقین کو بغور پڑھ لیں ، اگر وہ عیسائیت کی بات کریں گے تو کہیں بھی سیدہ مریم (علیھاالسلام) اور سیدنا عیسیٰ روح اللہ (علیہ السلام) کے فضائل و معجزات یا ان سے ما قبل انبیاء (علیھم السلام) کے بیان کئے جانے والے معجزات و کمالات کا انکار نہیں کریں گے لیکن جب بات پیغمبرِآخر الزماں (ﷺ) کی آئے گی تو پھر فضائل و معجزات سے انکار کی بیسیوں تاویلیں تراش لی جائیں گی-یہ فکر کا ایسا فالج ہے جو فقط مستشرقین کی کتب تک محدود رہنے والے پڑھے لکھوں کے ذہن کو اپاہج بنا کے چھوڑتا ہے-

افسوس ایسی جہالت پہ جو علم کے نام پہ کمائی جائے اور حیف ایسی غفلت پہ جو باخبری کے نام پہ کمائی جائے

اسی بنیاد پر مسلمانوں کے اندر کئی فرقے کھڑے کیے گئے جس کا ایک پورا اکیڈیمک ریفرنس موجود ہے-وقت کے دامن میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ یہاں اس پر تفصیلی بحث کی جائے لیکن قارئین کی توجہ اس جانب دلانا چاہتا ہوں کہ دین کو محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے- یہ بھی دین کی محدودیت ہی کے مترادف ہے کہ خاتم النبیین (ﷺ)کی ذات گرامی کے ساتھ میرا تعلق میرے بدن اور میری عقل سے بعد میں میری روح سے اولاً شروع ہوتا ہے؛ اس تعلق کو گھٹاتے گھٹاتے میرے لیے اس کو صرف بدن تک لا کے محدود کر دیا جائے-کیونکہ روحِ ایمان سرکار دوعالم (ﷺ) سے مسلمان کا روحانی اور باطنی تعلق ہے جسے کوئی متزلزل نہیں کر سکتا- اس لیے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان کو زیر و زبر تو کیا جا سکتا ہے لیکن مسلمان کو زیر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا وجود اندر سے تپش آموز ہوتا ہے اور وہ تپش اسے محبت مصطفٰے(ﷺ) کی برکت سے ملتی ہے-

جہاں تک اسلام کے سیاسی اور سماجی شعور کی بات ہے کوئی اس سے ہرگزیہ مراد نہ لے کہ مَیں اس کی نفی کر رہا ہوں اور نہ ہی اس کی نفی کی قطعاً کوئی گنجائش ہے-اس لئے جو سیرت کا معاشرتی مطالعہ ہے اس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اسلامی معاشرت کہلاتی ہی وہ ہے جو سیرت النبی (ﷺ) سے اخذ کردہ ہو- اس کے علاوہ سیاست کے جو اسلامی اصول ہیں ریاست کیا ہے؟ریاست کے اداروں کے حقوق کی تشکیل کیسے ہو گی؟عوام اور خواص کی رائے کہاں تک قبول کی جائے گی؟ امراء،سالار اور عادل کے کیا کیا مناصب و فرائض ہونگے جنگ کے کیاکیا قوائد ہونگے؟ سلطنت کی سرحدوں کا کیسے کیسے معاملہ طے کیا جائے گا؟ مسلمان اور غیر مسلم کے کیا کیا حقوق ہونگے؟ کس مجرم کو کس حد تک کتنی سزا دی جائے گی؟ کس مسئلے پہ کتنی شدت اور کتنی نرمی اختیار کی جائے گی؟ یہ سارا کچھ اگر اسلام کے سیاسی اصولوں میں طے ہے تویہ سب کچھ سیرت النبی(ﷺ) سے اخذ ہوتاہے-اسی طرح اسلامی معیشیت کے تمام بُنیادی اصول سیرتِ رسول (ﷺ) سے اخذ ہوتے ہیں- وہ چاہے فقہ شافعی میں ہوں،حنبلی میں ہوں حنفی میں ہوں یا مالکی میں؛ جتنے بھی بُنیادی اصول ہیں وہ سارے کے سارے حدیثِ مصطفٰے اور سیرت النبی (ﷺ) سے ملیں گے-اسلام کی معاشیات، معاشرت اور نظامِ سیاست کا کسی صورت انکار ممکن ہی نہیں ہے جو انکار کرتا ہے اس کو اسلام کی روح کاعلم ہی نہیں ہے کہ اسلام کیا ہے ؟

اسلام اپنی بنیاد میں ہی غلبہ کا اشارہ رکھتا ہے حتیٰ کہ اس وقت بھی جب مادی و دنیاوی اعتبار سے اس کے پاس چاہے کچھ بھی نہ ہو یہ اس وقت بھی قوت و شوکت ، جلال و سطوت اور غلبہ و فتح پہ رغبت دیتا ہے :

’’ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ‘‘[1]

’’وہی ہے جس نے اپنے رسول (ﷺ) کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اسے سب ادیان پر غالب و سر بلند کر دے خواہ مشرک کتنا ہی ناپسند کریں‘‘-

یہ نظریہ اس دین کے اور نبی آخر الزماں (ﷺ) کے بعثت مبارک کے اولین مقاصد میں سے ہے- جس وقت سرکار دو عالم (ﷺ) مکہ میں تھے اور آپ نے ابھی اپنی دعوت کا آغاز کیا تھا تو صرف چند لوگ تھے جو اسلام کے نام لیوا تھے جن میں کچھ عورتیں، چند غلام،تھوڑے سے نوجوان-ان لوگوں میں بھی گنے چنے بااختیار لوگ تھے وگرنہ اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن کی عرب کلچر میں، وہاں کے سرداروں اور قبائلی نظام کے رہنے والے لوگوں میں زیادہ شہرت نہیں تھی-وہ بہت کم تعداد میں تھے اور مکہ سے باہر بھی پوری طرح اسلام کا تعارف نہیں پھیلا تھا- لیکن جب اسلام کی فکر پھیلنا شروع ہوئی تو سردرانِ مکہ کو اپنی سرداری اپنے ہاتھوں سے جاتی ہوئی نظر آئی، وہ بھانپ گئے کہ یہ صرف عقیدے، کلمے، توحید یا رسالت کی بات نہیں ہے بلکہ اس کا پھیلاؤ کہیں زیادہ ہے- پھر وہ سردار سرکار دو عالم (ﷺ) کے چچا حضرت ابو طالب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ اپنی اس دعوت کو ترک کر دیں- اس روایت کو امام ابن ہشام نے اپنی سیرت میں بیان کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں کہ جب آپ (ﷺ) کے چچا نے جا کر آپ (ﷺ) سے یہ بات کی کہ قریش کہتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں ہم سے لے لیں لیکن جو دعوت آپ پھیلا رہے ہیں اس کو روک دیں- اس روایت کے راوی سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم (ﷺ) نے اپنے چچا کو فرمایا:

’’نَعَمْ، كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُوْنِيْهَا تَمْلِكُوْنَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِيْنُ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ‘‘[2]

’’(مجھے ان سے اور کچھ نہیں چاہئے البتہ) مَیں ان سے وہ ایک کلمہ کہلوانا چاہتا ہوں جس کے کہنے کے بعد سارا عرب ان کے سامنے جھک جائے گا اور اس کی وجہ سے اہل عجم بھی انہیں جزیہ بھیجا کریں گے‘‘-

یعنی ایک کلمہ ہے اگر تم اس کا اقرار و اعتراف کرلو تو اس کے بدلے میں تمہیں عرب و عجم عطا کر دیا جائے گا- اس کے بعد ابو جہل نے کہا کہ ہم ایک کلمہ نہیں دس کلمے کہنے کو تیار ہیں:

’’آپ (ﷺ) کے چچا نےپوچھا وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا:’’لاالہٰ الاللہ محمد رسول اللہ‘‘ –

جب سرکار نے یہ کلمہ پڑھا تو انہوں نے کہا اسی اصول سے تو ہمارا اختلاف ہے- لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ عرب و عجم کی حکمرانی کی گفتگو اُس وقت ہو رہی ہے جب اسلام مکہ سے باہر نکلا ہی نہ تھا جب چند خواتین، غلاموں، جوانوں اور ایک دو با اثر لوگوں کے علاوہ حلقۂ بگوش اسلام عرب ہوئے ہی نہیں تھے- سیاسی و سماجی طور پہ ادبی اعتبار سے بھی اسلام ابھی اپنی قوت اور شوکت میں نہ آیا تھا اس وقت بھی سرکار دو عالَم (ﷺ) نے انہیں فرمایا کہ جو کلمہ مَیں کَہ رہاہوں یہ کلمہ تمہیں عرب و عجم کا سردار بنا دے گا- اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبے کی خواہش اور صورت ’’لاالٰہ الا للہ محمد رسول اللہ‘‘ کہتے ہی وجود میں پیدا ہو جاتی ہے- اس لئے اگر مسلمان مغلوب ہو کر نہیں رہ سکتا تو صرف اور صرف اسی کلمے کی بدولت-بے شک ہماری ایلیٹ اشرافیہ بک جائے مغرب کے ہاتھوں، بے شک ہماری اشرافیہ اسلامی طرزِ حیات کی بجائے مغربی طرزِ حیات کا سودا کر لے مگر ایک عام مسلمان جس کے ضمیر میں ’’لاالٰہ الاللہ محمدرسول اللہ‘‘ کی تاثیر ہوتی ہے وہ اپنے سر کی قیمت پر بھی کسی چیز کو قبول نہیں کرتا-بلکہ بزبانِ حکیم الامت وہ کہتا ہے کہ:

پشتِ پازن تختِ کیکاؤس را
سر بدہ! از کف مدہ ناموس را

’’تختِ کیکاؤس کو ٹھوکر مار ،جان دے دے مگر ناموس ہاتھ سے نہ دے‘‘-

یعنی مسلمان کی ناموس ’’لاالٰہ الا للہ محمد رسول اللہ‘‘میں ہے- اس لئے دین کا جو سیاسی غلبہ، معاشی و سماجی نظام ہے اُس سے کسی بھی صورت انکار ممکن ہی نہیں لیکن اس کایہ مطلب بھی نہیں نکالا جا سکتا کہ عقلی معیار پہ سیرتِ طیبہ (ﷺ) کا صرف یہی پہلو پورا اترتا ہے اور باقی پہلؤں کو متروک کر دیا جائے، معاصر سیرت نگاروں کا یہ رویہ کہ اس ایک جہت کو اتنا غالب کر کے بیان کیا جائے کہ سیرتِ مصطفٰے(ﷺ) کی دیگر جہات(بالخصوص حضور نبی کریم (ﷺ) کے معجزات، فضائل و کمالاتِ روحانی) کے فیضان سے جوانانِ اُمت محروم ہو جائیں، یہ بھی کسی طور مناسب نہیں- فی زمانہ سیرتِ رسول (ﷺ) کے موضوع میں مسلمانوں کیلیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہماری اکثر تحریکیں جن کو ہم عرب دنیا میں، ہند میں، عجم و فارس میں اور دیگر کئی جگہ پر دیکھتے ہیں، ان کا مطالعہ کرتے ہیں، ان سے بات چیت کرتے ہیں تو ان کی ساری کی ساری توجہ دین کی سیاسی ہیئت کے اوپر ہے، گو کہ اِس سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن عشقِ مصطفےٰ (ﷺ) کی روحانی جہت جو کہ روحِ دین و ایمان ہے اس کے بارے میں یہ ڈھکوسلا (False excuse) بتایا جاتا ہے کہ جدید ذہن اس کو تسلیم کرنے پہ تیار نہیں ہے –

یاد رکھیں! معجزات و فضائلِ نبی (ﷺ) کا انکار تاریخی طور پہ دو گمراہ فرقوں معتزلہ اور خوارج نے کیا- اس کے بعد جتنے بھی ایسے لوگ آئے ہیں جو معجزاتِ رسول (ﷺ) یا کمالاتِ فضائل و شمائلِ مصطفےٰ (ﷺ) کا انکار کرتے ہیں وہ یا تو معتزلی سوچ سے متاثر تھے یا خوارج کے استدلال سے – ورنہ جن کے سینے دولتِ ایمان سے منور تھے انہیں سرکارِ دو عالم (ﷺ) کے شرفِ باطنی و روحانی پہ ایک لمحہ اور ایک لحظہ کیلئے بھی کبھی وسوسہ پیدا نہیں ہوا- اس لیے سیرت النبی (ﷺ) میں بعض ایسے پیچیدہ مسائل ہیں جن کو بیان کیا جاتا ہے تو انسان دیکھتا ہے کیا میرے ایمان کیلیے یہ ایک محفوظ و مضبوط منہج ہے؟

اُردو زبان میں سیرت کی ایک مشہور کتاب ہے جس کےعموماً ایکڈیمک ریفرنس دیئے جاتے ہیں اس میں جہاں مدینہ کی سرداری کا مسئلہ بیان ہوا کہ سرکار دو عالم (ﷺ) کو مدینہ کا سردار کیوں بنایا گیا؟ تو چونکہ سیرت نگار اور شارح کی ساری توجہ اسی پہ تھی کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس کی فقط سیاسی جہت کو اجاگر کیا جائے تو انہوں نے کہاکہ اوس خزرج میں جھگڑے تھے، صلح کا کوئی امکان نہ تھا، مدینہ کی شہری ریاست کو یکجا کرنے کا کوئی طریق نظر نہ آتا تھا تو اس کیلیے اہل مدینہ کو ایسے اجنبی سردار کی ضرورت تھی جو دونوں کیلیے قابل قبول ہو- یہ لفظ کہ سرکار دوعالم (ﷺ) کے سردارِ مدینہ بن جانے کی ایک وجہ سرکار (ﷺ)کی اجنبیت تھی- (معاذاللہ! استغفراللہ!)- بندہ ناچیز اس استدلال سے مؤدبانہ اختلاف کرتے ہوئے کہنا چاہتا ہے کہ اہل مدینہ کے دل سے پوچھو کہ کیا انہوں نے ایک ’’اجنبی‘‘کو اپنا سردار قبول کیا یا اُس کو جس کے انتظار میں وہ صدیوں سے اپنے آباؤ اجداد کے خطوط لے کے بیٹھے تھے اور نسل در نسل یہ نصیحتیں کرتے آئے تھے کہ انتظار میں رہنا نبی آخر الزماں خاتم الانبیاء (ﷺ) کا مقامِ ہجرت ظہور اسی سرزمین پہ ہو گا – لہٰذا بھلے آفتیں، مصیبتیں، بیماریاں اورتکلیفیں آئیں اس بستی کو چھوڑ کر نہ جانا-انہوں نے ولادت و بعثتِ مصطفےٰ (ﷺ) سے صدیوں قبل یہ خطوط لکھے کہ یا رسول اللہ(ﷺ)ہم آپ کے انتظار میں بیٹھے ہیں،اگر ہم گزر جائیں تو ہماری نسلیں آپ (ﷺ)کے انتظار میں بیٹھیں گی اور یارسول اللہ (ﷺ) ہم آپ پہ ایمان لائے، اگر آپ (ﷺ) ہمارے ہوتے ہوئے آئے تو ہم آپ (ﷺ) کے معاون ہونگے لیکن اگر آپ (ﷺ) ہمارے گزر جانے کے بعد آئیں تو آپ (ﷺ) ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرما دیجیے گا- اہلِ مدینہ تو صدیوں سے خاتم الانبیاء (ﷺ) کو دو عالَم کا سردار مان کر بیٹھے تھے-اجنبیّت کس بات کی؟

کتابِ مذکورہ میں گو کہ اس کے آگے پیچھے کئی بار ذکر ہوا کہ عبداللہ بن اُبی کی سرداری کے لیے سنار کو تاج بنانے کا حکم ہو چکا تھا-آپ کبھی عبداللہ بن اُبی منافق کا الگ سے مطالعہ کریں کہ سرکار دو عالم (ﷺ) سے اس کی منافقت کے اسباب کیا تھے؟ اس کی منافقت کے اسباب ہی یہ تھے کہ وہ سردار بننے والا تھا، کئی قبائل اس کی سرداری کو قبول کر چکے تھے اور درمیان میں اسلام کا پیغام آن پہنچا اور اہل مدینہ کو تصدیق ہو گئی کہ جس کے انتظار میں یثرب کی بستی آباد کئے بیٹھے تھے وہ ہجرت کر کے جلوہ فرما ہونے والا ہے – تو کہاں گیا ابن اُبی کا تاج اور کہاں گئی اس کی تاجوری-

اس لیے میرے بھائیو اور ساتھیو! یہ جو اسلام اور سیرتِ رسول(ﷺ) کی سیاسی تشریح اور سیاسی تناظر ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خاتم الانبیاء (ﷺ) کی ذاتِ گرامی کو اُمّت کے سامنے اس طرح پیش کیا جائے گویا امت سے ان (ﷺ) کاتعلق اور اُن (ﷺ) سے امت کا تعلق ایک سیاسی قائد اور ایک سیاسی کارکن کے طور پر ہو- امت کو یہ ضرور بتایا جائے کہ آپ (ﷺ) ہی دُنیاوی معاملات میں، معیشت و معاشرت اور عدالت و سیاست میں ہمارے رہبر و رہنما اور ’’آئیڈیل‘‘ ہیں اور ہم ان کے نظریے کے امین ہیں- لیکن اپنے نبی (ﷺ) کے ساتھ میرا صرف یہی تعلق نہیں ہے بلکہ میرا اپنے نبی کے ساتھ تعلق شفاعت، آخرت، ایمان اور عشق و روحانیت کا بھی ہے-

سیدنا عبد اللہ بن سلام (رضی اللہ عنہ) جلیل القدر صحابی ہیں جو کہ یہود کے نامور علما میں شمار ہوتے تھے یہود میں ان کی بڑی منزلت تھی – ان کے ایمان لانے کی جو حدیث پاک بیان کی جاتی ہے اسلام کی محض سیاسی ترکیب کے قائلین اور عمرانیات مذہب کی مہارت کے دعویدار عموماً اُس حدیث کا دوسرا حصہ بیان کرتے ہیں، دانستہ یا نادانستہ وہ پہلا حصہ بیان نہیں کرتےجو عام طور پہ بیان کیا جاتا ہے کہ عبد اللہ بن سلام (رضی اللہ عنہ) بھی اسلام کے اسی سیاسی نقطۂ نظر سے متاثر ہوئے کہ جب انہوں نے حضور نبی پاک (ﷺ) کا کلام سنا :

يا أيها الناس أطعموا الطعام ، و أفشوا السلام و صلوا الأرحام وصلوا والناس نيام تدخلوا الجنة بسلام‘‘

’’ بھوکے کو کھانا کھلاؤ، سلام میں پہل کرو، خونی رشتوں کو جوڑے رکھو ، نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں اور جنت میں داخل ہو سلام کے ساتھ ‘‘-

یہ حصہ تو بلا شک و لاریب طور پہ افصح الفصحا (ﷺ) کے کلامِ نبوت کی دلیل اور آفاقیتِ اسلام کااعلان و اعلام ہے-لیکن اس سے پہلے بھی ایک بات سیدنا عبد اللہ بن سلام (رضی اللہ عنہ) نے بیان کی ہے ، جسے عمرانی و سیاسی تعبیر کے ماہرین عموماً بیان نہیں کرتے؛ فرماتے ہیں کہ جب شور اٹھا کہ مدینہ میں مسلمانوں کا نبی آ رہا ہے لوگ جمع ہورہے تھے تو مَیں بھی دیکھنے گیا کہ مسلمانوں کا نبی کیسا ہے؟ میں نے ان سے کلام نہیں کیا، ابھی ان کی مجلس میں نہیں بیٹھےلیکن مَیں نے دور سے آپ (ﷺ) کے چہرہ مبارک کی زیارت کی اور جب میں نے چہرہ دیکھا تو سرکار علیہ السلام کا چہرہ دیکھتے ہی میرے دل نے گواہی دی کہ یہ چہرہ کسی نبی کا چہرہ ہی ہو سکتا ہے- لہذا جہاں خصائل مصطفٰے (ﷺ)کی اہمیت ہے وہاں شمائل مصطفٰے (ﷺ) کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- وہ چیز جس نے ابن سلام جیسے باوقار سردار اور مستند عالم کو کلام و گفتگو سے بھی پہلے متاثر کیا وہ رسول اللہ (ﷺ) کا چہرہ مبارک تھا-اللہ تعالیٰ نے حضور (ﷺ)کے وجود کو جو وسعت و زیبائی عطا کی، جو اعجاز و کمال عطا کیا اس کا انکار کسی صورت بھی مسلمان سے ممکن نہیں ہے-

سیرت النبی (ﷺ) کے بارے اِس طرح کی مادہ پرستانہ سوچ ہمارے مسائل کا حل نہیں ہو سکتی بلکہ کئی مسائل کو بگاڑتی ہے-سامراجی طاقتوں کو موقعہ فراہم کرتی ہے کہ ہماری روحانی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ہم پہ اندر سے وار کر سکیں- کہنے میں یہ بات ذرا مشکل ہے اور شاید زیادہ سخت بھی لیکن بہت حد تک درست بھی ہے کہ معاصر سیرت نگاری بالخصوص جو مستشرقین کی تقلید میں کی جا رہی ہے یا ان کے ہاں اپنی پہچان بنانے کیلئے کی جا رہی ہے یہ کسی بھی طور اِس عظیم اور لطیف موضوع سے انصاف نہیں ہے- یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سیرت جیسے عظیم المرتب اور حساس موضوع پہ ایسی مادہ پرستانہ اپروچ اور سوچ علی المرتضیٰ اور حسّان بن ثابت (رضی اللہ عنہما) کی میراث نہیں بلکہ ذولخویصرہ اور واصل بن عطا کی میراث ہے-اِس مقام پہ اقبال کی سمجھ آتی ہے کہ وہ دانشِ فرنگ کو تقلیدِ کورانہ سے اجتناب پہ کیوں راغب کرتا ہے-

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

سیرت النبی(ﷺ) کے بارے میں جو ہماری مادہ پرستانا اپروچ ہے یہ ہم نے کہاں سے درآمد کی؟ پچھلے دنوں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے مسئلہ پہ سیرت النبی (ﷺ) کے مختلف پہلؤں کی روشنی میں پارلیمنٹ کے حکومتی بنچوں سے ایک خاتون کا بیان سوشل میڈیا پہ چلتا رہا [3]-عزیزانِ گرامی! انہوں نے جتنے بھی مسائل سیرت النبی (ﷺ) کے متعلق ڈسکس کیے فی الاصل وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہیں مگر وہ بعض مستشرقین کی کتب میں اسی طرح لکھے ہوئے ہیں جیسے انہوں نے بیان کیے-آپ خود بتائیں کہ جب اپنے نبی(ﷺ) کی ذات گرامی کے متعلق آپ کے علم کا مآخذ مستشرقین کی کتب ہوں گی تو آپ ایمان کی کونسی رمق اور رونق وہاں سے حاصل کریں گے؟

مثلاً مغرب کے مشہور سیرت نگار ولیم مونٹگمری واٹ کے دو تھیم ہیں ’’Muhammad at Mecca‘‘اور ’’Muhammad at Medina‘‘- آپ کو اکثر سیرت نگاروں کے ہاں ولیم مونٹگمری واٹ کا حوالہ ضرور ملے گا- اِس سارے تھیم کی بُنیاد یہ جملہ ہے جو ہزار مرتبہ استغفار پڑھتے ہوئے آپ سے شیئر کرتا ہوں:

“Muhammad failed in Mecca as a Prophet but succeeded in Medina as stateman”

ہمارا نام نہاد پڑھا لکھا مادہ پرست و مغرب پرست کنفیوژ طبقہ جو ایسی کتب کو اپنے مطالعۂ سیرت اور فہمِ سیرت کی بُنیاد بناتا ہے اُن کے سیرت پاک سے متعلق کسی بھی قول یا استدلال کا بھلا کیونکر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ روح کانپ جاتی ہےکہ آج ایمان اس درجہ آن پہنچا ہےکہ انہوں نے ہمارے مغرب زدگان میں یہ تقسیم پیدا کردی کہ نبی پاک (ﷺ) مکہ میں پیغمبر تھے اور مدینہ میں سیاسی لیڈر-یہ درست ہے کہ کئی مستشرقین نے سرکار دو عالم (ﷺ) کے والد، شوہر، سالار و کمانڈر، منصف، عادل، قاضی، قبائلی و ریاستی سربراہ ہونے کی حیثیت کو بہت خوب سراہا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ سارا کچھ ہم ایک سیاسی لیڈر کے طور پر قبول کرتے ہیں جبکہ اصل میں وہ نبوتِ مصطفےٰ (ﷺ) کا انکار کرتے ہیں-

ایک دوسری مشہور کتاب سے مثال لیجئے جس کا ہمارے ہاں بھی چرچا رہا اور اس کو دنیامیں پڑھا بھی بہت گیاجس میں پروفیسر مائیکل ہارٹ نے ایک سو ’’با اثر‘‘آدمیوں (جبکہ تاجرانِ کتبِ اُردو کے بقول ایک سو ’’عظیم‘‘آدمیوں) کی فہرست مہیا کی ہے:

“The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History”.

اس میں تاریخِ انسانی کی ایک سو سب سے با اثر شخصیات میں انہوں سب سے اوپر سرکار دو عالم(ﷺ) کااسم گرامی لکھا-اِدھر ہمارے اُردو تاجرانِ کتب نے کٹ وٹ کر کے اس کتاب کے اردو ترجمے چھاپ مارے اور ٹائٹل میں یہ دکھایاکہ حضور (ﷺ) کا اسم گرامی سب سے اوپر ہے جس کی بنیاد پر ہر مسلمان اس کو اس عقیدت اور پیار سے ’’خرید‘‘رہا ہےکہ میرے نبی کو غیرمسلم بھی مانتے ہیں کہ نبی جیسا انسان کائنات میں نہیں آیا-

مسلمان اسی پر خوش ہو گئے کہ حضور (ﷺ) کا نام انہوں نے سب سے اوپر لکھاہے- خدا کے بندو! کیا آپ نے اس کتاب کا مقدمہ بھی پڑھا ہے؟ مقدمے کے علاوہ جو وضاحتیں پروفیسر مائیکل ہارٹ نے لوکل ویسٹرن آڈئینس کی تشفی کیلئے لکھی ہیں وہ آپ کو کیوں نظر نہیں آتیں؟ مصنف نے وضاحت کے ساتھ کَہ رکھا ہے کہ یہ با اثر شخصیات کی فہرست ہے عظیم لوگوں کی فہرست نہیں، مصنف کا مؤقف ہے کہ وہ حضور اکرم (ﷺ) کو تاریخِ انسانی کا ’’با اثر‘‘ آدمی مانتا ہے ’’عظیم‘‘نہیں مانتا – لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جوشیلے جذباتی مسلمانوں کو ساحرانِ فرنگ کے پینترے کون سمجھائے ؟

ان امثال اور استدلال کا مقصد یہ ہے کہ اگر فقط ظاہری رہن سہن اور فقط سیاسی زندگی کے مطالعے سے سرکار دو عالم (ﷺ) کی ذات گرامی پرایمان کامل ہو سکتاتو بہت سے مستشرقین دولتِ ایمان سے محروم نہ رِہ جاتے-کتنے ایسے مستشرقین سیرت نگار زندہ ہیں اور ان میں کئی گزر گئے جن کا بڑا عمدہ کام آپ کو سیرت میں نظر آئے گا لیکن زندگی میں اور وقتِ نزع ان کو کلمۂ حق کی گواہی نصیب نہیں ہوئی- میرے نزدیک اس مسئلہ پہ صوفیہ کا وہی استدلال منطبق ہو گا جو انہوں نے آدم علیہ السلام کے سجدہ سے متعلق جبریل و ابلیس کے نقطۂ نگاہ کا فرق بیان کرتے ہوئے قائم کیا ہے-صوفیہ کے نزدیک ابلیس کے سجدہ ریز نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اُس کی نگاہ فقط ’’آب و گِل‘‘پہ تھی جبکہ جبرائیل کی نگاہ ’’و نفخت فیہ من روحی‘‘پہ تھی- جس نے خاک جانا وہ خاک ہوا ، جس نے نور جانا وہ نور ہوا –

میرے پاس ناموں کی پوری ایک فہرست ہے جن سیرت نگاروں نے حضور (ﷺ) پہ کتب لکھی ہیں مگر جاتے ہوئےکلمے سے محروم رہےاور آج بھی جو زندہ ہیں ان میں بھی کئی ایسے ہیں جن کا سیرت پہ بہت شاندار کام کہا جا سکتا ہےمگر کلمۂ حق کی گواہی سے محروم ہیں-

اس تمام بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر سرکار دوعالم (ﷺ)کی ذاتِ گرامی سے آپ کا تعلق فقط سیاست، معاشرت، مادیت پرستی اور ظاہر پرستی کا ہے تو سینے میں کبھی بھی ذاتِ مصطفےٰ (ﷺ) پہ ایمان نہیں اتر سکتا-کیونکہ ایمان اس وقت دل میں اترتا ہے جب حضور (ﷺ) کی ذاتِ اقدس سےآپ کی روح اور آپ کے قلب کا تعلق پیدا ہوتا ہے- جب حضور (ﷺ) کے ان معجزات اور کمالات پر بندے کا یقین مکمل ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کو اپنی عطائے خاص کے ساتھ عطا فرمادیے ہیں –

اگر آپ کتب حدیث کی ورق گردانی کریں چاہے مسانید ہوں، سنن ہوں، جامع ہوں مستدرک ہوں، کتبِ حدیث کی جو بھی قسم ہو تو معلوم ہوگا کہ محدثینِ کرام کا یہ طریق ہے کہ وہ اُن میں فضائل و مناقب نبی (ﷺ) پرالگ الگ ابواب مرتب کرتے ہیں-امام بخاری، امام مسلم اور امام ترمذیؒ نے پورے پورے باب نقل کئے ہیں- اگر میں تجاوز نہیں کر رہا تو ’سنن الترمذی‘کے متعلق یہ کہنا بجا ہو گا کہ سرکار دو عالم (ﷺ) کی ذات گرامی سے عشق اور محبت نئے ولولوں اور جذبوں سے سرشار ہوتے ہیں جب آپ جامع ترمذی کے ابوابِ مناقب و فضائل کا مطالعہ کرتے ہیں- آئمہ دین سرکار دو عالم (ﷺ) کے معجزات و کمالات باطنی پہ نہ صرف یقین رکھتے تھے ؛ بلکہ اس یقین کواصلِ ایمان کہتے ہیں-

امام ابن کثیر ؒ جیسے محدث و مفسر نے معجزات نبی (ﷺ) پہ الگ مبسوط کتاب لکھی ہے- اس کے علاوہ بھی آپ قاضی عیاض ، امام بیہقی، امام ابو نعیم اصبہانی، امام عبد الرحمان جامی ، شاہ عبد الحق محدث دہلوی، امام احمد رضا خان قادریؒ کو دیکھ لیں اور دیگر آئمہ کرام کی ایک طویل فہرست ہے – سب کے ہاں سرکار دو عالم (ﷺ) کی ذات گرامی سے محبت کی اساس حضور نبی کریم (ﷺ) کا شرفِ باطن ہے- جب تک فضل و شرفِ محمدی (ﷺ) کا نور بندے کے وجود میں جاگزیں نہیں ہوتا تب تک ایمان وسوسوں کے درمیان لڑکھڑاتا رہتا ہے-

اس لئے دوستو!اپنے آپ کو اس درخت کی طرح لیں جو اپنے اندر سے نئی شاخیں، اپنے اوپر برگ و بار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، لیکن ایسا تبھی ممکن ہے جب درخت کی جڑوں میں نمی رہے-لیکن جب جڑ کا نم نکال لیا جائےیا اس کی جڑیں کا ٹ لی جائیں تو درخت کے تنے ہرے نہیں ہوسکتے، اس پر شاخیں اور ٹہنیاں نہیں نکل سکتیں، اس پر پتے نہیں اُگ سکتے، اس پر پھل نہیں لگے گا-اسی طرح سرکار دوعالم (ﷺ) کا وہ شرف جو کل کائنات کے اوپر اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کو عطاء فرمایاہے مومن کے ایمان کے درخت کا نم ہے وہ نم نکل جائے تو ایمان کا درخت ہرا نہیں رہتا، پھول نہیں کِھل سکتے، پھل نہیں لگتا-

قرآن مجید کی رو سے دیکھیں کہ کس طرح خالقِ کائنات نے سرکار دو عالم (ﷺ) کی حیثیت کو قرآن مجید میں مسلمانوں کے دلوں میں اُتارا؛آدمی دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنی صفات و اسماء کا ذکر کیا اور پورے قرآن میں پھیلاکر بیان کیا چاہے وہ سورۃ الحدیدہو، سورۃ الحشر ہو، آیت الکرسی ہو،سورہ الاخلاص ہو، سورۃ رحمٰن ہو، سورۃ ملک ہو، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی صفات سے اپنی ذات کی معرفت سے روشناس کرانے کیلئے اپنی مختلف صفات کا اظہار کیا اسی طرح پروردگار نے قرآن کریم میں اپنےحبیب مکرم (ﷺ) کی صفات و عظمت کو پورے قرآن میں پھیلا کے بیان کیا وہ چاہے سورۃ الاحزاب ہو، سورۃحجرات ہو، والضحٰی ہو،سورۃ الکوثر ہو،سورۃالم نشرح ہو کہیں سے بھی قرآن مجید کوکو کھول کر دیکھ لیں جس طرح آیات ایک تسلسل اور زورِبیان سے صفات باری تعالیٰ کے بیان میں نازل ہوئیں اسی زورِ بیان سے اللہ تعالیٰ نے حضور(ﷺ)کی صفات کو قرآن میں بیان کیا-مثلاً سورۃ الحشر میں دیکھیں:

’’ہُوَ اللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَج اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُط سُبْحٰنَ اللہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘‘[4]

اب سورۃ الاحزاب میں دیکھیں :

’’یٰـٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاo وَّ دَاعِیًا اِلَی اﷲِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًاo‘‘[5]

قرآن کا اسلوب دیکھیں-یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم کیا کہ میرے حبیب کو اس طرح نہ پکارو جس طرح ایک دوسرے کو پکارتے ہو تو یہ سنت الٰہی ہے- اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انبیاء کو ان کے اسماء کے ساتھ ندا لگائی یا موسیٰ، یا عیسیٰ،یا ابراہیم، یا آدم، یانوح، قرآن میں محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ(ﷺ) کے اسم گرامی کا چا ر مقامات ذکر آیا-اسم محمد بھی اور اسمِ احمد بھی آیا مگر کہیں بھی اللہ تعالیٰ نے ندا لگا کے ’’یا ‘‘کے ساتھ مخاطب نہیں کیا- جہاں بھی اپنے محبوب کریم (ﷺ) کو مخاطب کیا تو فرمایا ’’یاایھالرسول، یاایھالنبی‘‘، ’’والضحیٰ‘‘، ’’یایھا مزمل‘‘، ’’یایھا لمدثر، ’’یٰسین‘‘، ’’طحہٰ‘‘- مسلمانوں کو بھی یہی حکم فرمایا کہ میں نے بھی مخاطب کرنے کے انداز بدل دیئے ہیں تم بھی میرے حبیب کو مخاطب کرنے کے انداز بدل ڈالو- میرے حبیب مکرم (ﷺ) کو اس طرح نہ بلانا جس طرح ایک دوسرے کو بلاتے ہو-اگربلایا تو یہ فرمان سن لو:

’’اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘[6]

’’تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو‘‘-

محدثین کرامؒ نے سرکار دو عالم (ﷺ) کی ذات گرامی کے متعلق کثیر روایات نقل کی ہیں کہ حضور (ﷺ) جہاں سے بھی گزرتے حجر وشجر، چرند پرند بھی حضور (ﷺ)کی ذات کو دیکھ کر کلمہ پڑھتے جس کی گواہیاں صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)نے دی ہیں- برکت اور مثال کیلئے چند روایات پیش خدمت ہیں:

امام ابو بكر بیہقیؒ (المتوفى: 458ھ) حدیث مبارک رقم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’حضرت علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی کریم (ﷺ)کی معیت میں ایک وادی میں داخل ہوا:

فَلَا يَمُرُّ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ إِلَّا قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَأَنَا أَسْمَعُهٗ‘‘[7]

تو آپ (ﷺ) جس پتھر یا درخت کے پاس سے گزرتے تو وہ عرض کرتا ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّهِ‘‘اس حال میں کہ مَیں اس کو سن رہا ہوتا‘‘-

حضرت جابر بن سَمُرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’إِنَّ بِمَكَّةَ حَجَرًا كَانَ يُسَلِّمُ عَلَىَّ لَيَالِىَ بُعِثْتُ إِنِّىْ لَأَعْرِفُهُ الْآنَ ‘‘[8]

’’مکہ میں ایک پتھر ہے وہ مجھے ان راتوں میں سلام کیا کرتا تھا جب مجھے مبعوث کیا گیا-بے شک میں اسے اب بھی پہنچانتا ہوں‘‘-

حضرت علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ :

’’كُنْتُ مَعَ النَّبِىِّ (ﷺ) بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا فِىْ بَعْضِ نَوَاحِيْهَا فَمَا اِسْتَقْبَلَهٗ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلاَّ وَهُوَ يَقُوْلُ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّهِ‘‘[9]

’’میں رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ مکہ مکرمہ میں تھا تو ہم مکہ کے کسی گوشہ میں تشریف لے گئےتو کوئی درخت اور کوئی پہاڑ ایسا نہ تھا جس نے آپ (ﷺ)کو ’’ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّه‘‘نہ کہا ہو‘‘-

ابو الفضل القاضی عياض (المتوفى: 544ھ) روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہ) کی حدیث میں ہے (کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا )جب جبرائیل (علیہ السلام)میری طرف رسالت کی وحی لائے تو اس وقت سے میں کسی بھی پتھر یا درخت کے پاس سے گزرتا ہوں تو وہ کہتا ہے:

’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّهِ‘‘[10]

حضرت جابر بن عبد اللہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ :

’’لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ (ﷺ) يَمُرُّ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ إلَّا سَجَدَ لَهٗ‘‘[11]

’’آپ (ﷺ) جس پتھر اور درخت پر سے گزر فرماتے تو وہ آپ (ﷺ) کو سجدہ کرتا‘‘-

حتی کہ غیر مسلموں نے بھی گواہیاں دی جس کو امام ترمذیؒ نے ’’سنن الترمذی کتاب المناقب‘‘میں رقم کیا ہے کہ سرکار دو عالم (ﷺ) اپنے چچا حضرت ابو طالب اور قریش کے دیگر لوگوں کے ساتھ تجارت کاقافلہ لے کرشام میں گئے -(بعض اصحابِ تحقیق کے مطابق ابھی بعثت نہیں ہوئی تھی) آپ (ﷺ) ایک گھاٹی سے اترکر آگے آئے تو ایک راہب آیا اور اس نے قریش کو کہا کے اےلوگو! یہ جو شخص تمہارے ساتھ ہے کیا تم اس کوپہچانتے ہو؟پھر خود ہی کہنے لگا کہ یہ نبی آخر الزماں ہیں، یہ تمہارے درمیان اللہ کا آخری رسول آرہا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کے لئے رحمت بنا کے بھیجا ہے- انہوں نے راہب سے پوچھاکہ تم نے کیسے پہچانا؟اس نے کہا کے جب تم اس گھاٹی سے اتر رہے تھے میں نے دیکھا کہ جتنے درخت اور پتھر تھے اس آدمی کی تعظیم میں سجدہ کر رہے تھے-

یہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا اعجازتھا کہ کنکریوں نے کفار کے ہاتھوں میں کلمہ پڑھا-اسی طرح اگر حضور (ﷺ) کے لعاب مبارک کے فضائل بیان کرنے شروع کیے جائیں تو ایک مجلس نہیں بلکہ کئی مجالس بھی کم ہو جائیں- حضور (ﷺ) کے خون مبارک کی پاکی،حضور نبی کریم (ﷺ)کے بدن مبارک سے جو بھی برآمد ہو اس کی پاکی، آپ (ﷺ) کی نگاہ مبارک کی پاکی، آپ (ﷺ) کی انگلیوں مبارک سے جو چشمے اور کرشمے پھوٹے،آپ (ﷺ) کے سینے مبارک پہ ، حضور کی گردن شریف پر گفتگو کی جائے تو سینکڑوں مجالس و محافل بھی کم پڑ جائیں- امام ترمذیؒ نے اسی راہب کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے یہ بھی گواہی دی تھی کہ آپ (ﷺ) کی پشت پہ مہر نبوت ہے-

یاد رکھیں! کہ ایک اُمّتی کے طور پہ حضور نبی کریم رؤف رحیم (ﷺ)کی ذات گرامی سے کبھی بھی اپنی مادیت اور اپنے ظاہری مفاد کا تعلق نہ سمجھیں-کیونکہ جو صفات و کمالات میرے حضور نبی کریم (ﷺ) کا خاصہ ہیں ان کا کل کائنات میں کوئی ثانی و مثل نہیں ہوسکتا-پھر چاہے کوئی آپ کو والد کے طور پر دیکھ لے، شہر ی،پڑوسی، قائد، بانیٔ تہذیب، مردِ آفرین یا عظیم انسان کے طور پہ دیکھ لے سرکار دوعالم (ﷺ)کی ظاہری صفات میں بھی ان کا مثل و ثانی کوئی نہیں ہو سکتا- مگر یہ مروجہ ظاہر پرستانہ روِش پہ اِکتفا مسلمان کے ایمان کا منہج نہیں ہے بلکہ مسلمان کے ایمان کا منہج اس سے کہیں بڑھ کر ہے ؛اور وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کے اس شرف و کمالات پہ یقین رکھنا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ولادت وبعث اور حتیٰ کہ اس کائنا ت کی تخلیق سے قبل روحِ محمد (ﷺ)کو عطا فرمائے ہیں- اس لیے حکیم الامت علامہ محمد اقبال ارشاد فرماتے ہیں کہ :

عقل و دل و نگاہ کا مرشد اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دین بت کدۂ تصورات

سرکارِ دو عالم (ﷺ) سے جن کا تعلق عشقِ باطن اور روحانی جذبے کا رہا ان کے وجود اس مخلوق کیلئے ہمیشہ رحمت ہی رحمت رہے ہیں- اس کے برعکس جنہوں نے معتزلہ اور خوارج کی طرح آپ (ﷺ) کے کمالاتِ باطنی کا انکار کیا تو ان کے ہاں نفرت،تعصب اور قتل و غارت کی سودا گری نظر آئے گی- اگر آپ اس شر ،خون ریزی وفتنہ فساد جو برادرِ اسلامی ممالک میں جاری و ساری ہے، سے بچنا چاہتے ہیں وجود میں جو لطافت پیدا ہوتی ہے، رحمتِ مصطفےٰ (ﷺ) کاجو فیض جاری ہوتا ہے وہ آپ (ﷺ) کے تعلقِ باطن سےپیدا ہوتا ہے-

اس لئے اپنے دلوں کو عشق مصطفےٰ (ﷺ)سے منور کریں- اپنی محبتوں اور عقیدتوں کا قبلہ گنبدِ خضرہ کو بنائیں کیونکہ بزبانِ حکیم الامت :

بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ اونرسیدی تمام بو لہبی است

’’اپنے آپ کو مصطفےٰ کریم (ﷺ) تک پہنچادو کیونکہ سارے کا سارا دین آپ (ﷺ) ہیں-اگر تم آپ (ﷺ) تک نہ پہنچے تو (تمہارا) سارے کا سارا عمل بولہبی یعنی بے دینی ہے‘‘-

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
محمد کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

اپنے آپ کو حضور نبی کریم (ﷺ) کی معرفت تک پہنچاؤ- کیونکہ جب مَیں اس امت کو جلتا ہوا دیکھتا ہوں تو افکار کا تجزیہ کرتا ہوں کہ کون سی فکر جلانے کی طرف لے کر جاتی ہے اور مجھے ہمیشہ یہی سبق ملا کہ جس تعلیم و فکر میں حضور نبی کریم (ﷺ) کی محبتِ باطنی شامل ہو جا ئےگی اس سے کبھی رحمت ختم نہیں سکتی-اسی طرح جہاں کہیں بھی جو شخص آپ (ﷺ) کے کلمہ کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے وہاں آپ کو نفرت، تعصب اور قتل و غارت نظر آئے گی-

اس لئے میں اس امت کو بالخصوص نواجوان نسل کو یہ دعوت دینا چاہوں گا کہ آؤ! اصلاحی جماعت یہی دعوت وپیغام لے کر آئی ہے- ہمارے مرشد کریم جانشین سلطان الفقر سر پرست اعلیٰ اصلاحی جماعت حضرت سلطان محمد علی صاحب اسی دعوت کو دنیا بھر میں لے کر جاتے ہیں- رحمت اللعالمین کا کلمہ پڑھنے والو! آؤ اور اپنے آپ کو سراپا رحمت میں ڈھال لو-اس لئے آپ آئیں اور اس تحریک کے شانہ بشانہ اس میں شامل ہو کر اس کی عملی تربیت حاصل کریں کہ کیسے بندے کا وجودعامۃ الناس کیلیے رحمت بنتا ہے-کیسے بندہ اللہ تعالیٰ کی کل مخلوق کیلیے اپنے وجود سے رحم و کرم اور عفو و درگزر کے علاوہ ہر معاملے کو بھول جاتا ہے-پھر بندے کے وجود میں شدت اور نفرت نہیں رہتی بلکہ اس کے وجود میں یہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر امام زین العابدین(رضی اللہ عنہ) کے خیمے کا پردہ اٹھا کے ابن زیاد جیسا سفاک شخص بھی پانی طلب کرے تو وہ تین کٹورے بھر کے دیتے ہیں- وہاں ابن زیاد نے پوچھا کے آپ نے مجھے نہیں پہچانا تو امام زین العابدین (رضی اللہ عنہ)رونے لگ گئے اور یاد رکھیں کہ امام زین العابدین محسنِ علم حدیث ہیں ابن شہاب زہری کے استاد اور امام مالک ابن شہاب کے شاگرد ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس سند اور رجال کے علم کو قائم فرمایا؛ انہوں نے فرمایا کے ابن زیاد تمہیں کون نہیں پہچانتا اور میں کیسے بھول سکتا ہوں کیونکہ میں ہی تو وہ واحد گواہ ہوں اس پورے واقعۂ کربلا اور تیرے ظلم و ستم کا-اس نے کہا تو پھر آپ نے مجھے اتنی محبت و شفقت سے پانی کیوں پلایا- آپؓ نے فرمایا کہ ابن زیاد جب ہم تیرے پاس آئے تھے اس وقت جو تو نے کیا وہ تیری اخلاقیات تھیں اور جو تم نے مجھ سے دیکھا یہ ہمارے گھرانے کی اخلاقیات ہیں- ایسے بدترین، سفاک قاتلوں کو بھی معاف کرنے کا جذبہ اگر پیدا ہوتا ہے تو مصطفےٰ کریم (ﷺ)ذات اقدس سے تعلقِ روحانی کی بنیاد پہ پیدا ہوتا ہے-اس لئے یہ جماعت اس رحمت کی دعوت دیتی ہے – اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمیں عشقِ مصطفےٰ (ﷺ)کے رنگ میں رنگ دے-

بزبانِ حضرت سلطان باھو(قدس اللہ سرّہٗ):

ب: بِسم اللہ اِسم اللہ دا ایہہ بھی گہناں بھَارا ھو
نَال شفاعت سَرورِ عَالم چھُٹسی عَالم سَارا ھو
حَدوں بے حد درُود نبیؐ نوں جَیندا اَیڈ پَسارا ھو
مَیں قُربان تِنہاں توں باھوؒ جنہاں مِلیا نَبیؐ سوہارا ھو


[1] (الصف:9)
[2] ( سيرة ابن ہشام ، باب:وَفَاةُ أَبِی طَالب وَخَدِيجَة
[3] (ان کی تقریر پہ صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے الگ تحقیقی رسالہ تالیف کر رکھا ہے )
[4] (الحشر:23)
[5] (الاحزاب:45-46)
[6] (الحجرات:2)
[7] (دلائل النبوۃ)
[8] ( سُنن الترمذى، ابواب المناقب)
[9] (ایضاً)
[10] (الشفا بتعريف حقوق المصطفٰے(ﷺ)
[11] (ایضاً)