اِسلامی مُعاشرت

اِسلامی مُعاشرت کے دوسنہری اصول

متعلقہ لنکس

Dustuk

اکیسویں صدی جہاں سائنسی ترقی و مادی ترقی کے عروج کا مشاہدہ کر رہی ہے وہیں بدقسمتی سے اِسے اخلاقی اور روحانی زوال بھی پیش ہے-انسانی معاشرے بحیثیت مجموعی اخلاقی اقدار ...

Sufi ko kesa hona chaheye

افسوس! ہمارے ہاں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی(قَدَّسَ اللہ سرّہٗ) کی عظمت میں فقط ایک ہی پہلو اجاگر کیا جاتا ہے ...

Stability of Pakistan

بندہ ناچیز یونیورسٹی انتظامیہ اور فیکلٹی کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ آپ نے اِس اہم موضوع پہ بات کرنے کا شرف بخشا، طلبہ کا بھی مشکور ہوں کہ وہ اپنے تعلیمی وقت سے کچھ لمحات نکال ...

Vision of Quaid-E-Azam

دُنیائے فلسفہ میں اسطورات کا عظیم باغی ، فلسفۂ یونان کا بانی اور افلاطون و ارسطو کا اُستاد ’’سقراط‘‘ ایک سنگ تراش کا بیٹا تھا اور پیدائشی طور پہ بے پناہ ذہین اوراعلیٰ و فلسفیانہ دماغی ...

Kashmir and the completion of Pakistan

کثیر الجہت و مافوق الفطرت داستانوں سے مزین تاریخِ جموں و کشمیر بہت پرانی ہے-جدید کشمیر کی تاریخ جغرافیائی، سماجی، سیاسی و مذہبی اعتبار سے 1864ء کے بد نام زمانہ معاہدۂ امرتسر ...

The concept of the life of the prophets in the world of Barzakh

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے خانوادۂ عالیہ میں جن نفوس قدسیہ کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے چشمۂ فیضانِ سلطان العارفین کے جاری رہنے کی دلیل کہا جاتا ہے...

Information about Invisible

جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سلطان باھُوؒ نے اپنی ایک تصنیف میں فرمایا کہ: ’’یہ محبت ہی ہے جو دل کو آرام نہیں کرنے دیتی ورنہ کون ہے جو آسودگی نہیں چاہتا ‘‘-

Taswuf and Hadrat Sultan Bahoo R.A

تصوف کا اشتقاق مادہ ’’صوف‘‘سےبابِ تفعل کا مصدر ہے- اُس کے معنی ’’اون‘‘کے ہیں- لغویت کے لحاظ سے اون کا لباس عادتاً زیبِ تن کرنا ہے- لفظ صوف کی جمع ’’اصواف‘‘ ہے...

Shamiel Taswuf dr Taleemat e Sultan-ul-Arifeen

تصوف یا صوفی ازم اسلامی تہذیب و ثقافت کی اساسیات اور علومِ دینیہ کے اہم ترین موضوعات میں سے ہے جس کے مبادی، منابع اور مآخذ قرآن و سنت سے ثابت ہیں...

Ghose ul Azam

آج جس موضوع پہ چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا عوام و خواص کیلئے گو کہ وہ نیا نہیں ہے - مزید یہ کہ اس کے جس خاص پہلو کی جانب آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا وہ پہلو اہل علم کے ہاں تو اجنبی نہیں ہوگا لیکن عامۃ الناس میں بہت کم لوگ اس سے واقف ہوں گے-

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی
ستمبر 2020

دوستو اور ساتھیو! اصلاحی جماعت ہمیشہ جوڑنے ، جڑنے اور باہمی قرب و اخوت کا پیغام دیتی ہے؛ اس کا مقصد معاشرتی، روحانی، قومی اصلاح و تربیت ہے- آج کے دور میں تعلیم عام ہے لیکن تربیت ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی – تعلیم مل جاتی ہے، بدقسمتی سے اچھی تعلیم تھوڑی مہنگی ملتی ہے لیکن پھر بھی مل جاتی ہے، میسر ہے- لیکن تربیت مہنگی بھی نہیں مل رہی، بالکل ہی ناپید و نایاب ہوتی جا رہی ہے- صوفیاء اور بزرگانِ دین کا طریق ہمیشہ تربیت رہا ہے- کیونکہ جب تربیت نہیں ہوتی تو خرابیاں جنم لیتی ہیں، معاشرے میں نفرت، تعصب اور دشمنی کے جذبات فروغ پاتے ہیں- دین اسلام دینِ رحمت ہے اور یہ ایسا عطیہِ خداوندی ہے کہ جو بندہ اس کی حقیقت اور پیغام کو سمجھ جاتا ہےوہ دنیا کیلئے سراپا رحمت بن جاتا ہے اور اس کے وجود سے اللہ کی مخلوق کو نفع پہنچتا ہے- کیونکہ دنیا سے وہی انسان کامیاب ہو کر گیا جس کے وجود سے دوسرے لوگوں اور دوسری مخلوقات کو نفع پہنچے-

حق اور حلال سے دوسروں کو دیئے جانے والے نفع میں پہلا حق خاندان ہوتا ہے- جیسا کہ قرآن مجید میں بھی بتایا گیا ہے کہ انسان جو کچھ دیتا ہے، دینے میں سب سے پہلا حق اس کے عزیز و اقارب کا رکھا گیا ہے- عزیز و اقارب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور خاندان اسلامی سماج کی بنیاد ہے- خاندان جتنا مضبوط ہوگا معاشرہ اتنا مضبوط ہوگا- فی زمانہ خاندان میں دو تین چیزیں ایسی مشکل آ پڑی ہیں کہ جس سے نسلِ نو خاندان کو وہ اہمیت نہیں دیتی جو ہمارے بزرگوں نے پچھلی کئی صدیوں کی محنت سے خاندان کی یہ عمارت کھڑی کی اور یہ ڈھانچہ بنایا- جس سے لوگ آپس میں جڑے، قریب ہوئے-کیونکہ اللہ تعالیٰ کو بھی یہ چیز پسند ہے-

گزشتہ پچاس برسوں میں خاندان کی روایات کچھ ایسی پڑگئیں کہ دشمنی اصول کی بجائے انا پروری پر آکر کھڑی ہو گئی، جیسے ہر ایک شئے کے اصول ہیں اسی طرح دشمنی کے بھی اپنے اصول ہیں، حدود و قیود ہیں، اخلاقی ضابطے ہیں- گو کہ کہتے ہوئے ذرا عجیب لگتا ہے کہ ’’دشمنی اور اخلاقی ضابطہ؟‘‘ مگر گہرائی میں اُتریں تو ایسا ہی ہے، مگر اس کی بنیاد خدا ترسی اور للّٰہیّت پہ ہے- لیکن آج کے مادی دور کی نفسا نفسی اور مارا ماری میں ہم لوگوں سے یعنی اجتماعی طور پہ معاشرے سے للّٰہیّت نکل گئی، اللہ کا خوف نکل گیا، خدا ترسی نکل گئی اور خدا ترسی کی بجائے انا پرستی زیادہ مضبوط ہو گئی- اس انا پرستی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بات بات میں خاندان آپس میں ٹوٹتے ہیں ، قریب از جان رشتوں اور رشتہ داروں کی خوشیاں بھی چھوٹ جاتی ہیں اور پیاروں کی میتوں کے منہ دیکھنے سے بھی رہ جاتے ہیں- جب بچہ ایسے ماحول میں پرورش پاتا ہے جس میں برداشت نہیں، والد، والدہ، بھائی بہن اور گھر کے بڑوں میں ایک دوسرے کیلئے بھی اور باقی رشتوں کیلئے بھی برداشت نہیں- بچہ جب اس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ذہن میں فطری طور پر یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ہمارے رشتہ دار ہمارے مخلص نہیں ہوتے – جب وہ سارا دن اپنے دادیہال ، نانیہال ، چچاؤں چاچیوں، پھوپھیوں مامؤوں اور اردگرد کے رشتے داروں کے گلے شکوے،دشمنیاں اور گھر کی سیاست سنتا رہتا ہے تو جب وہ حدِ شعور کو پہنچتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ بات پختہ ہو جاتی ہے کہ یہ تو ہمارے سروں کے بوجھ ہیں اور یہ رشتہ دار ہمارے مخلص نہیں ہیں- یہ سب اناؤں کا کیا دھرا ہے کیونکہ اصول ہمیشہ اخلاق کی تسکین پہ چلاتا ہے جبکہ بے اصولی ضد اور اناؤں کی تسکین پہ چلاتی ہے-جھوٹی اناؤں اور ضد بازیوں کی تسکین ہی نے رشتوں کی مٹھاس اور اپنائیت کو ماند کر رکھا ہے-

یہ صرف آج کی نئی بات نہیں ہے- عہدِ جہالت کا معاشرہ بھی اسی طرح تھا کہ اُس میں اجتماعیت کی بجائے اپنی تسکین تھی کہ بس میری اَنا کو سکون پہنچے، باقی اجڑتا ہے تو اجڑ جائے-ان رویّوں سے بہنوں اوربھائیوں کا احساس ختم ہوجاتا ہے کہ کون اجڑ رہا ہے، کون بس رہا ہے- کس کی گود، کس کا گھر، کس کی دہلیز برباد ہورہی ہے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا- وہ یہ کہتا ہے کہ بس جو میری انا کی تسکین کر دے وہی حق ہے-یہ عہد جہالت کا سماج تھا- اس لیے قرآن مجید نے اس معاشرتی رَوِش کا قلع قمع کیا-

اہلِ اسلام! ہمیں یہ تو یاد ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے 360 بتوں کو کعبہ سے نکال کر کعبہ کی حرمت کو قائم کیا- مگر ہم اس بات پہ غور نہیں کرتے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے کعبہ شریف کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دلوں اور عقلوں کی شلفوں پہ سجائے گئے بتوں کو بھی پاش پاش کیا اور قلب و ذہن کا تزکیہ فرماکر دلوں کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کردیا- یعنی حضور نبی کریم (ﷺ) نے وہ بت بھی نکالے جو کعبے میں پڑے تھے اور وہ بت بھی نکالے جو دلوں میں پڑے تھے- اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب کے ذریعے پورے معاشرے کا تزکیہ کیا- ایک تزکیہ انفرادی ہوتا ہے کہ فرد اپنا تزکیہ کرتا ہے، اپنے باطن کو پاک و روشن کرتا ہے-مگر دین کا حسن یہ ہےاور اسے دین فطرت اس لیے کہتے ہیں کہ دین صرف فرد کا انفرادی تزکیہ ہی نہیں کرتا بلکہ دین اجتماعی تزکیہ کرتے ہوئے پورے معاشرے کو پاک کر دیتا ہے-

معاشرت اور خاندان کے قرآن مجید نے دو اصول دیے-

  1. عفوو درگزر اور
  2. صُلح

اگر تم چاہتے ہو کہ آپس میں جڑ جاؤ اور آپس میں جڑ جانا یہ صرف تمہاری چاہت نہیں ہے اللہ کی چاہت و رضا بھی اسی میں ہے کے تم آپس میں جڑ جاؤ- دشمنیاں اور فساد ختم ہو جائیں اور باہمی محبت پیدا ہو جائے- اس لئے قرآن مجیدنے پہلا اصول یہ دیا کہ ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھو –

اگر تم دو مسلمان بھائیوں کو آپس میں جھگڑتا دیکھو تو یاد رکھو دو لوگوں کے درمیان جب جھگڑا ہوتا ہے تو ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ جھگڑا ہوتا ہے- سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ تم اُن دو مسلمانوں کے درمیان صلح کروا دو تاکہ شیطان کا شر ختم ہو جائے اوراللہ کی رحمت قائم ہو جائے- اس لئے قرآن مجید نے دوسرا اصول یہ دیا کہ ایک دوسرے کے درمیان صلح کروایا کرو-

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:

’’خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِيْنَ‘‘ (الاعراف:199)
’’اے حبیبِ مکرّم! آپ درگزر فرمانا اختیار کریں اور بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیں‘‘-

امام قرطبی ’’تفسیر قرطبی‘‘میں اسی آیت مبارک کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’یہ آیت تین کلمات پر مشتمل ہے جو مامورات اور منہیات میں قواعد شریعت کو متضمن ہیں پس قولِ باری تعالیٰ’’ خُذِ الْعَفْوَ‘‘ میں قطع تعلقی کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا داخل ہے،گناہ گاروں سے معذرت قبول کر کے انہیں معاف کرنا داخل ہے، مومنین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا داخل ہے اور علاوہ ازیں اطاعت شعاروں کے اخلاق داخل ہیں اور قولِ باری تعالیٰ ’’وَ أْمُرْ بِالْعُرْفِ‘‘ میں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، حلال و حرام کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا آنکھوں کو نیچے رکھنااور دارِ آخرت کے لئے تیاری کرنا داخل ہے اور قولِ باری تعالیٰ ’’وَأَعْرِضْ عَنِ الْجاهِلِيْن‘‘ میں علم کے ساتھ تعلق قائم کرنے پر ابھارنا ظلم کرنے والے سے اعراض کرنا، احمقانہ جھگڑوں سے پرہیز کرنا، کند ذہن جہلاء کی مساوات سے بچنا اور دیگر اخلاقِ حمیدہ اور افعالِ رشیدہ داخل ہیں‘‘-

امام قرطبی مزید لکھتےہیں کہ سیّدنا امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا ہے کہ 

’’اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی مکرم (ﷺ) کو مکارمِ اخلاق کے بارے حکم ارشاد فرمایا ہے:

’’وَلَيْسَ فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَجْمَعُ لِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ‘‘
’’قرآن کریم میں اس آیت سے زیادہ مکارم اخلاق کی جامع کوئی آیت نہیں ہے (آپ (ﷺ) نے فرمایا)میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں‘‘-

یعنی جاہلین سے کنارہ کشی اختیارکر کے اہل علم کے ساتھ تعلق استوار کرنے میں حکمت یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کو سمجھنے والے ہوتے ہیں اور عملی طور پر اس پر گامزن عمل رہنے والے ہوتے ہیں- اس لئے وہ تمہارے درمیان کبھی فساد نہیں ہونے دیں گے بلکہ امن و محبت کو قائم کریں گے- جو لوگ جھگڑے اور فساد کو پھیلائیں، ان سے کنارہ کشی کرنا چاہئے –

قرآن مجید نے اس آیت مبارکہ میں پہلی بات یہ سکھائی کہ معاف کرنا سیکھیں- کیونکہ جب انسان میں معاف کرنے کا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس میں اعمالِ صالحہ بھی ہوں تو وہ ولایت کے قریب ہو جاتا ہے- کیونکہ جرم نہ ہوتے ہوئے اور جرم ہوتے ہوئے دونوں حالتوں میں معاف کرنا اللہ رب العزت کی سنت ہے- یعنی مالک کے در پہ ہم گناہ کر کے جاتے ہوئے شرمندہ تو ہو تے ہیں لیکن مایوس نہیں ہوتے- پھر بھی اس کے در پہ جا کر اس کے سامنے معافی کا سوال رکھ دیتے ہیں تو وہ ہمارے اٹھائے ہوئے ہاتھوں اور پھیلائی ہوئی جھولی کو خالی نہیں لوٹاتا- یعنی اللہ تعالیٰ بندے کی خطا پراس کو معاف کردیتا ہے چاہے وہ خطا نادانستہ ہو یادانستہ ہو- بشرطیکہ اُس کے حضور عجز و انکساری سے حاضر ہوجائے – اے اہلِ اسلام! معاف کرنا اللہ کی سنت ہے اور اس کا محبوب عمل ہے-

حضرتِ ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سےروایت ہےکہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ، إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ‘‘
(صحیح مسلم / سنن ترمذی، أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ)
’’صدقہ مال کو کم نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہی کی عزت کو معاف کرنے کی وجہ سے بڑھاتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اونچا ہی کرتا ہے‘‘-

یعنی تین کام کرنے سے تین چیزیں کم نہیں ہونگی- پہلا آپ (ﷺ) نے فرمایا جو بندہ صدقہِ دیتا ہے اس کا مال کم نہیں ہوگا کیونکہ صدقہ مال سے دیا جاتا ہے- دوسرا کام آپ (ﷺ) نے فرمایا کہ معاف کرنے سے انسان کی عزت کم نہیں ہوگی- اکثرانسان اپنی ضد کی بنیاد پر سمجھتا ہے کہ اگر میں نےکسی کو معاف کر دیا تو میری ناک کٹ جائےگی، میری عزت میں کمی آ جائے گی، لوگوں کے طعنوں کو سننا پڑے گا کہ بھئی یہ کیا کمزور پڑگئے، اختیار چھوڑ بیٹھے ہو- تو میرے دوستو! آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا معاف تم کرو جس طرح صدقے کے بدلےاللہ مال میں اضافہ کردیتا ہے اسی طرح معاف کرنے کے بدلے اللہ تعالیٰ عزت میں اضافہ کر دیتا ہے- تیسرا کام آقا کریم (ﷺ) نے سکھایا کہ انسان سمجھتا ہے کہ تکبر سے اونچا ہوجائے گا، یاد رکھو عاجزی اختیار کرو، عاجزی سے تمہاری اونچائی اللہ پاک کم نہیں ہونے دے گا کیونکہ جو جتنا عاجز ہوتا جائے گا اللہ پاک اس کی بلندی کو اتنا بڑھاتا جائے گا-

امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَكْرَمِ أَخْلَاقِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ وَأَنْ تُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ وَأَنْ تَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَكَ‘‘
(المعجم الأوسط، للطبرانی)
’’کیا میں تمہیں دنیا و آخرت کے بڑے عمدہ اخلاق نہ بتاؤں؟ وہ یہ ہیں کہ جو تم سے توڑے تم اس سے جوڑو، جو تم سے روکے تم اس کو دو اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کرو‘‘-

یہ زندگی گزارنے کا نبوی دستور ہے جو اس دستور کو تھام لےگا وہ دنیا و آخرت میں عزتوں سے سرفراز ہوگا اور جو اس دستور کو چھوڑ دے گا وہ نہ دنیا میں کامیاب ہو گا نہ ہی آخرت میں-

ہمارے علاقے کی ایک کہاوت ہے کہ برادری پالنا ایسے ہے جیسے بَنٹے کے اوپر بَنٹا رکھنا- کیا بنٹے پر بنٹا کھڑا رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! اس کو کھڑا رکھنے کا واحد حل یہ ہے کہ ان دونوں کو خود پکڑ کر بیٹھے رہو-جب تک ان دونوں بنٹوں کو پکڑے رکھوگے وہ ایک دوسرے پہ کھڑے رہیں گے جیسے ہی چھوڑو گے تو وہ بکھر جائیں گے- اس لئے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شیطان اپنے شر کے ذریعے لوگوں کو اُکساتا ہے کہ آپس میں منتشر ہوجاؤ- لیکن جو خدا کا بندہ ہے، اپنے نفس و خواہشات اور ضد و اَنا کو تسکین پہنچانے والا نہیں ہے، جس کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات کو راضی کرنا ہے وہ ٹوٹے ہوئے کو بھی جوڑ دیتا ہے-

پھر فرمایا جو ظلم کرے اس کو معاف کردو- اگر کسی سے آپ نے انتقام لینا بھی ہے تو بہترین انتقام اس کو معاف کردینا ہوتا ہے- مثلاً ایک سادہ سی بات ہے کہ تین لوگ ہیں ایک کمزور ہے، ایک کچھ مضبوط ہے اور ایک بہت زیادہ طاقت ور ہے- وہ جو تھوڑا سا طاقت ور تھا جس کے پاس تھوڑی سی طاقت تھی اس نے کمزور پہ ظلم کیا یا کمزور سے زیادتی کی، اب کمزور چاہتا ہے کہ میں اس سے انتقام لوں، تو وہ جو ان دونوں سے زیادہ طاقت ور تھا اس نے کمزور سے کہا کہ تو خود اپنا انتقام نہ لے، تیرا انتقام مَیں لونگا- اب اس کمزور کے حق میں بہتر کیا ہے کہ وہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے ساتھ خود انتقام لےیا وہ اس بڑے پہ انتقام چھوڑ دے جس کی طاقت و قوت ان سب سے زیادہ ہے؟

امید ہے کہ مثال از خود اپنی وضاحت کرتی ہے- جب بندہ خدا پہ اپنے انتقام کو چھوڑتا ہے تو اللہ سب سے بہتر انتقام لینے والا ہے-

جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَاللہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ‘‘ (آلِ عمران:4)
’’بے شک اللہ سخت انتقام لینے والا ہے‘‘-

مسلمان بہنو اور بھائیو ! اپنے انتقام خدا پہ چھوڑدو، اس کی رضا اور خوشنودی کیلئے لوگوں کو معاف کردو پھر دیکھو وہ کیسا انتقام لیتا ہے- 

کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘ (الاعراف:182)
’’جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی‘‘-

حضرتِ عبد اللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) سےروایت ہےکہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایاکہ:

’’اِرْحَمُوْا تُرْحَمُوْا، وَاغْفِرُوْا يُغْفَرُ لَكُمْ‘‘ (مكارم الأخلاق للطبراني / شعب الإيمان للبیھقی)
’’تم دوسروں پر رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا اورتم دوسروں کو معاف کرو تمہیں معاف کیا جائے گا‘‘-

حضرت جریر بن عبد اللہ(رضی اللہ عنہ) سےروایت ہےکہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ:

’’مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ، وَمَنْ لَا يَغْفِرُ لَا يُغْفَرُ لَهُ ‘‘ ( مسند احمد بن حنبل / المعجم الكبير للطبرانی)
’’جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا اور جو لوگوں کو معاف نہیں کرتا اس کو معاف نہیں کیا جاتا‘‘-

اب دو غیرتیں آمنے سامنے آگئی ہیں، ایک خاندان کی، رشتہ داروں کے طعنوں کی، ہمسایوں کی ملامت کی اور دوسری مصطفےٰ جانِ رحمت (ﷺ)کی زبان گوہر فشاں سے نکلے ہوئے ارشادات کی غیرت ہے، اللہ کی، اس کے فرمان کی، اس کی خوشنودی کے حصول کی غیرت ہے- جس طرح ہمارے ہاں معاشرے میں کہا جاتا ہے کہ وفادار اولاد وہ ہے جب باپ کی سنے تو اس کی تعمیل کرے اسی طرح رب تعالیٰ کی بندگی میں بندہ کامل اور وفا دار وہ ہے جو دنیا کی بجائے اپنے پروردگار کی پرواہ کرتا ہے-

رشتوں کے درمیان کچھ آگ ہم خود بھڑکاتے ہیں- دوسروں کو طعنے دے کر، ان کی کمزوریوں کو ابھار کر کہ یہ فلاں طاقتور نہیں ہے، یہ فلاں ہے یہ فلاں ہے-خدا کے بندو! اگر اس نبی آخر الزماں (ﷺ) پر ایمان رکھتے ہو، اس نبی کا کلمہ پڑھتے ہوتو لوگوں کے درمیان آگ لگانے والے بننے کی بجائے لوگوں کے درمیان آگ بجھانے والے بنو- کسی کی کمزوری پر اس کو طعنہ زنی کرنے کی بجائے، اس کو ملامت کرنے کی بجائے، اس کو انتقام اور بدلے پر ابھارنے کی بجائے اس کو بار بار یہ یاد کراؤ کہ مصطفےٰ کریم (ﷺ) نے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو اللہ کی راہ میں معاف کرے گا تو اس کا انتقام خدائے پاک خود لے گا – جو اللہ پاک کی رضا کے لئے دوسروں پر رحم کرے گا اللہ پاک اس پر رحم فرمائے گا-اس لیے قرآن مجید نے پہلا اصول ’’معاف کرنا ‘‘ بتایا ہے کیونکہ جو معاف کرتا ہے اللہ اس کو معاف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا انتقام لیتا ہے جو اس کی راہ میں اس کی خوشنودی کیلیے معاف کرتا ہے- لوگوں کے طعنے، ملامتیں پروردگار کی رضا کیلیے اپنے سینے میں سہتا ہے-

یہاں ایک نہایت سبق آموز واقعہ بیان کرنا چاہوں گا:

’’مولاناجلال الدین رومیؒ کے پاس ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ رومی میں چاہتا ہوں میرے دنیا سے جانے کے بعد لوگ مجھے یاد رکھیں لیکن میں نے جو اَب تک دنیا میں دیکھا ہےلوگ گزرے ہوؤں کو چار وجوہات کی بنا پر یاد رکھتے ہیں:

  • وَلی کو یاد رکھتے ہیں اس کی فقیری اور ولایت کی وجہ سے
  • عالم کو یاد رکھتے ہیں اس کے علم، اس کی نقطہ رسی اور تحقیق و تصنیف کی وجہ سے
  • دولت مند کو یاد رکھتے ہیں اس کے ظاہری جاہ و جلال کی وجہ سے اور خاص کر سخاوت کی وجہ سے –
  • کسی فنکار(Artist) کو یاد رکھتے ہیں اس کے فن اور ہنر کی وجہ سے-

میرے پاس تو یہ چاروں نہیں ہے؛ نہ ولایت، نہ علم، نہ دولت، نہ ہنر- اب مجھے بتاؤ میرے جانے کے بعد لوگ مجھے کیسے یاد رکھیں گے؟ مولانا رومیؒ نے فرمایا کہ: بستی میں رہتے ہو یا ویرانے میں؟ اس نے کہا جی بستی میں رہتا ہوں اردگرد انسان رہتے ہیں- مولانا رومیؒ نے کہا: اگر بستی میں رہتے ہو تو ایک طریقہ ہے کہ تیرے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی مخلوقِ خدا تجھے یاد رکھے گی- فرمایا وہ طریقہ یہ ہے کہ دو باتوں میں پہل کیا کرو لوگ قیامت تک تمہیں نہیں بھولیں گے؛ ایک معاف کرنے میں پہل کرو، دوسرا معافی مانگنے میں پہل کرو-

اولیاء اللہ کے نزدیک جو بندہ ان دو کاموں میں پہل کرتا ہے وہ ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے- وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں کام اللہ پاک کو اپنی مخلوق میں پسند ہیں- معافی دینا تو چلیں ایک عظیم عمل اور اخلاقی ہمت کا نشان ہے، معافی مانگنا کیسے ایک عظیم عمل ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ غلطی پہ معافی مانگنے سے شر اور فتنہ ختم ہو جاتا ہے، جو شر اور فتنہ مٹانے کیلئے اپنی ضد اور انا کو قربان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی عزت کو کبھی کم نہیں ہونے دیتے- بلکہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے اور قریب ہو جاتا ہے –

اب آئیں! اسلام کے دوسرے اصولِ معاشرت ’’صلح‘‘ پر- معافی کا تعلق فقط آپ سے ہے جبکہ صُلح کا تعلق آپ سے بھی ہے اور دوسروں سے بھی –

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَ یْکُمْ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ‘‘ ( الحجرات:10)
’’بات یہی ہے کہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں- سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘-

جیسے کفر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کفر ایک ملت واحدہ ہے جہاں مسلمانوں کے خلاف بات آتی ہے سارا عالمِ کفر اکٹھا ہو جاتا ہے- اس لیے اللہ نے قرآن مجید میں مومنوں کو آپس میں بھائی بھائی کر دیا کیونکہ جو ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ لیتا ہے پھر وہ چاہے افغانستان، تاجکستان، ترکمانستان، یوگنڈا، صومالیہ، امریکہ، جرمنی، بنگلہ دیش و بھارت، عرب و عجم یا دنیا کے کسی بھی خطے میں رہتا ہو وہ آپس میں بھائی بھائی ہو جاتا ہے، ایک ملت واحدہ ہو جاتا ہے- اس لیے اللہ نے فرمایا کہ اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرواتے رہا کرو تاکہ ان کا بھائی چارہ قائم ر ہے-

ارشادِ ربانی ہے:

’’وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَاج فَاِنْم بَغَتْ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓئَ اِلٰٓی اَمْرِ اللہِج فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْاط اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ‘‘ (الحجرات:9)
’’اور اگر مسلمانوں کے دوگروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرادیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک (گروہ) دوسرے پر زیادتی اور سرکشی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کا مرتکب ہورہا ہے یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بے شک اﷲ انصاف کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے‘‘-

یعنی اگر مسلمان گروہ آپس میں قتل و غارت کریں تو مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ اس میں شریک ہو کر اِدھر کی بات اُدھر، اُدھر کی بات اِدھر بھڑکائے- بلکہ مومن کا کام یہ ہے کہ اللہ کے نام پر صُلح یاد کروائے، اللہ کے نام پہ ایک دوسرے سے تصفیہ یاد کروائے- کیونکہ مومن کا شیوہ ایک دوسرے کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ قتل کرتوں کو مائل بہ صلح و محبت کرنا ہے- متعدد آیات و احادیث مبارکہ ہیں کہ جو بندہ مسلمانوں کے درمیان صلح کرواتا ہے، انہیں قتل و غارت، شر، فتنہ اور فساد سے روکتا ہے اللہ نے اس سے جنت کے دخول کا وعدہ کیا-

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍ م بَیْنَ النَّاسِط وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا‘‘ (النساء:114)
’’ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں سوائے اس شخص (کے مشورے) کے جو کسی خیرات کا یا نیک کام کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم دیتا ہے اور جو کوئی یہ کام اللہ کی رضا جوئی کے لیے کرے تو ہم اس کو عنقریب عظیم اجر عطا کریں گے‘‘-

یعنی اجر عظیم قبر میں ملے گا کہ صلح کروانے والے کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دیا جائے گا، اس کی قبر میں دوزخ کی کھڑکیاں بند کر کے جنت کی کھڑکیاں کھول دی جائیں گی- اس کی قبر کو اطاعتِ مصطفےٰ (ﷺ) کے نور سے روشن و معطر کر دیا جائے گا-

اِسی آیت کی تفسیر میں امام قرطبی (المتوفى : 671ھ) ’’تفسير القرطبی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ:

’’مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ اِثْنَيْنِ أَعْطَاهُ اللهُ بِكُلِّ كَلِمَةٍ عِتْقَ رَقَبَةٍ‘‘
’’جس نے دو لوگوں کے درمیان صلح کروائی اللہ تعالیٰ اسے ہر کلمہ کے عوض ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا‘‘-

امام اوزاعیؒ فرماتے ہیں:

’’مَا خُطْوَةٌ أَحَبُّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ خُطْوَةٍ فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَمَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ اِثْنَيْنِ كَتَبَ اللهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ‘‘
’’اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی قدم اس قدم سے زیادہ محبوب نہیں جو جھگڑنے والوں کے درمیان صلح کیلئے اٹھایا جاتا ہے اور جس نے دو آدمیوں کے درمیان صلح کرائی اللہ تعالیٰ اس کیلئے آگ سے برات لکھ دے گا‘‘-

حضرت عبادہ بن عوف (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ مجھ سے رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ يُحِبُّهَا اللهُ وَرَسُوْلُهُ؟ تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إذَا تَبَاغَضُوْا وَتَفَا سَدُوْا‘‘ (تفسیر قرطبی)
’’کیا میں تیری ایسے صدقہ پر راہنمائی نہ کروں جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (ﷺ) کو پسند ہے؟جب لوگ آپس میں جھگڑیں اور فساد برپا کریں تم ان کے درمیان صلح کراؤ‘‘-

حضرت عبد اللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا

’’أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی)
’’سب سے افضل صدقہ آپس میں صلح کروانا ہے‘‘-

حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

’’مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ اِثْنَيْنِ اِسْتَوْجَبَ ثَوَابَ شَهِيْدٍ‘‘
’’جو دو شخصوں کے درمیان صلح کرائے گاوہ شہید کے ثواب کا مستحق ہوگا‘‘-

مسلمانو! یہ نجات کی بشارت ہے ان لوگوں کے لئے جو رسول اللہ (ﷺ) کا کلمہ پڑھتے ہوئے حضور نبی کریم (ﷺ) کی جنتِ قرب کے متلاشی ہوں- کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کریم (ﷺ) کا وعدہ ہے کہ جس نے دو بندوں کے درمیان صلح کروائی اللہ تعالیٰ اس بندے کے لئے دوزخ سے نجات ثبت فرما دے گا-

حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا :

’’تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيْهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ أُنْظُرُوْا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَاأُنْظُرُوْا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا أُنْظُرُوْا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا‘‘
’’پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہےجو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا-سوا اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہواور یہ کہا جاتا ہے کہ:ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو حتی کہ یہ صلح کر لیں ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو حتی ٰ کہ یہ صلح کر لیں ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو حتی ٰ کہ یہ صلح کر لیں‘‘-

یعنی اللہ پاک ان فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ ان دونوں پر نظر رکھو جب تک کہ یہ دونوں آپس میں صلح نہیں کر لیتے، جب تک کینہ پرور لوگ ایک دوسرے سے صلح نہیں کر لیتے، جب تک ایک دوسرے کا کینہ، بغض، دشمنی، عناد، عداوت، نفاق اپنے دل سے نکال نہیں لیتے تب تک ان کی مغفرت نہیں کی جائے گی-

امام طبرانی اور امام ابو نعیمؒ حضرت انس ابن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ:

’’إِذَا وَقَفَ الْعِبَادُ لِلْحِسَابِ جَاءَ قَوْمٌ وَاضِعِيْ سُيُوْفَهُمْ عَلَى رِقَابِهِمْ تَقْطُرُ دَمًا، فَازْدَحَمُوْا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ‘‘
’’جب بندے حساب دینے کے لئے (قیامت کےدن) کھڑے ہوں گےتو کچھ لوگ اس حال میں آئیں گے کہ ان کی گردنوں میں تلواریں لٹکی ہوں گی اور خون ان سے ٹپک رہا ہوگاپس وہ جنت کے دروازہ پر جمع ہو کر ازدحام کردیں گے‘‘-

پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ارشاد ہوگا:

’’الشُّهَدَاءُ، كَانُوا أَحْيَاءَ مَرْزُوْقِيْنَ‘‘
’’یہ شہداءہیں جو زندہ ہیں جن کو روزی دی جاتی ہے‘‘-

پھر ایک پکارنے والا آواز دے گا:

’’لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ‘‘
’’جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ کھڑا ہوجائے اور جنت میں داخل ہوجائے ‘‘-

پھر دوسری مرتبہ ایک پکارنے والا آواز دے گا
’’لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ ‘‘

’’جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ کھڑا ہوجائے اور جنت میں داخل ہوجائے ‘‘-

پھر فرمایا جائے گا:

’’ وَمَنْ ذَا الَّذِيْ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ ‘‘
’’جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ کھڑا ہوجائے اور جنت میں داخل ہوجائے ‘‘

عرض ہوگا وہ کون شخص ہے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے؟ ارشاد ہوگا:
’’ اَلْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ‘‘

’’لوگوں کو معاف کرنے والا‘‘

پھر تیسری بار آواز لگے گی

’’لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ‘‘
’’جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ کھڑا ہوجائے اور جنت میں داخل ہوجائے ‘‘-

’’پس اسی طرح کھڑا کیا جائے گااور اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے‘‘-

یعنی جو لوگ اللہ کی رضا کیلئے لوگوں کو معاف کر کے اپنا انتقام اللہ پہ چھوڑ دیتے تھے، روزِ محشر اُن کا ایک ہجوم بلا حساب و کتاب جنت میں داخل کر دیا جائے گا-

امام حاکمؒ ’’المستدرك على الصحيحين، كِتَابُ التَّفْسِيرِ‘‘ اور امام طبرانیؒ ’’معجم الأوسط‘‘ میں حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ حَاسَبَهُ اللهُ حِسَابًا يَسِيْرًا وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ‘‘
’’ جس میں تین خوبیاں ہوں گی اللہ جل شانہ اس سے بہت آسان حساب لے کر اپنی رحمت سے اس کو جنت میں بھیج دیں گے ‘‘-

صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے عرض کیا یا نبی اللہ (ﷺ)!

’’مَا هُنَّ يَا نَبِيَّ اللهِ، بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّي؟ تُعْطِيْ مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ، وَتَعْفُوْ عَنْ مَنْ ظَلَمَكَ‘‘
’’میرے ماں باپ آپ (ﷺ) پر قربان وہ کیا خوبیاں ہیں (پہلی یہ ہے کہ) جو تم سے روکے تم اس کو دو (اور دوسری یہ ہے کہ )جو تم سے توڑے تم اس سے جوڑو (تیسری خوبی یہ ہے کہ ) جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کرو‘‘-

راوی نے عرض کیا یا نبی اللہ جب ان خوبیوں کو مَیں اپنا لو گا تو میرے لئے کیا ہو گا ؟

قَالَ: يُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ
’’فرمایا :اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل فرما دےگا ‘‘-

اہلِ اسلام! یاد رکھو! آپس میں جُڑنا دین کو قائم کرنا ہے، دین پر چلنا ہے اور معاف کرنا دین کو زندہ کرنا ہے- کیونکہ اللہ تعالیٰ معاشرت کو اس انداز میں پسند کرتا ہے کہ معاشرت میں لوگ ٹوٹے ہوئے نہ ہوں بلکہ جڑے ہوئے ہوں- لوگ اناؤں کی تسکین کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو معاف کرنے والے ہوں، اپنا انتقام خود لینے کی بجائے پروردگار پر چھوڑنے والے ہوں، اگر دو مسلمان جھگڑ پڑیں تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے نام پر انہیں آخرت کی یاد دلا کر اُن کو صلح پر مائل اور تصفیہ پر قائل کرنے والے ہوں-

کیونکہ حضور نبی کریم(ﷺ)نے فرمایا جو قطع رحمی کرتا ہے،جو ٹوٹتا ہے وہ دین کو مونڈتا ہے- اس کی تشریح میں کئی بزرگوں نے یہ کلام کیا ہے کہ جب حجام کی دکان پر آپ جاتے ہیں، جس طرح حجام سرمونڈ دیتا ہے اسی طرح جو آدمی قطع رحمی کرتا ہے وہ دین کو مونڈنے کی جسارت کرتا ہے- قطع رحمی اپنے قرباء و عزیزوں سے تعلق منقطع کرنے کو کہتے ہیں –

سیدنا ابو درداء (رضی اللہ عنہ) روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا :

’’أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ؟ قَالُوْا: بَلَى، يَا رَسُوْلَ اللهِ (ﷺ) قَالَ: إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ الْحَالِقَةُ‘‘ (سُنن ابی داود ، كِتَاب الْأَدَبِ)
’’کیا میں تمہیں روزے،نمازاور صدقے سے بڑھ کر افضل درجات کے اعمال نہ بتاؤں؟صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول (ﷺ)! آپ (ﷺ) نے فرمایا:آپس کے میل جول اور روابط کو بہتر بنانا (اور اس کے برعکس) آپس کے میل جول اور روابط میں پھوٹ ڈالنا (دین کو) مونڈ دینے والی خصلت ہے ‘‘-

امام ابو عیسی ترمذی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ‘‘

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا کہ:

’’هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُوْلُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ، وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ‘‘
’’یہ حالقہ (مونڈنے والی) ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈتی ہےبلکہ یہ دین کو مونڈتی ہے‘‘-

اس سے معلوم ہوا کہ دین کا حسن معاشرت کے جڑنے میں ہے، معاشرت کا حسن ایک دوسرے کے قریب ہونے میں ہے اور حسنِ معاشرت حسنِ دین سے ہے-

رسول اللہ (ﷺ) کی جو اعلیٰ صفات ہمارے بزرگوں نے ہمیں یوں یاد کروائیں:

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطا کار سے درگزر کرنے والا
بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شِیر و شکر کرنے والا
اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا

کیونکہ رسول اللہ (ﷺ) نے دشمنیاں ختم کیں، خونی بدلے معاف کئے، صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) میں برداشت و تحمل پیدا کیا، ایک دوسرے کو معاف کرنے کا ہنر سکھایا، صلح کے ستون پہ معاشرے کی عمارت قائم فرمائی –

میرے دوستو! اللہ والوں نے بھی ہمیشہ کتاب و سنت سے یہی پیغام دیا کہ لوگو! دور جانے کی بجائے آپس میں جڑو-اس جڑنے کی حکمت میں مَیں ایک اور حکمت دیکھتا ہوں کہ جو اہل اللہ ذکر کرواتے ہیں اس ذکر کا زیادہ تر تعلق تزکیۂ صدر یعنی سینے کی صفائی سے ہوتا ہے-کیونکہ جب سینہ صاف ہوتا ہے کدورتیں نکلتی ہیں بغض ختم ہوتا ہے-

جیسے حضرت سلطان باھوؒ کا طریقِ ذکر ہے کہ ہونٹ زبان بند کر کے پوری توجہ اللہ رب العزت کی طرف کر کے ایک سانس اندر جائے تو پڑھنا ہے ’’اَللہُ‘‘ سانس باہر آئے تو پڑھنا ہے ’’ھُو‘‘-اس سے دل پر اللہ کے نام کی ضرب لگتی ہے جس سے دل میں محبتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے اور دل ہر وقت اللہ کی طرف راغب رہتا ہے-پھر چاہے بندے سے کوئی بھی معاملہ پیش آئے، لوگ اسے کچھ بھی کہیں لیکن وہ ہر چیز کو خدا ترسی، صلہ رحمی اور محبت میں دیکھتا ہے-

اِس لئے حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں اگر تم اس بغض و نفاق اور کینہ اور دشمنی سے باہر آنا چاہتے ہو تو اپنے دل میں اللہ کی یاد بسا لو-کیونکہ شر شیطان سے اور خیر رحمٰن سے آتا ہے- بندہ جتنا نا فرمان و سر کش ہوگا اسی قدر شر پھیلائے گا اور جس قدر بنده اطاعت گزار، دین پر عمل کرنے والا،اپنی گردن و کمر کو اللہ کے لئے جھکانے والا ہوگا اسی قدر اللہ اس کے دل کو منور کر دے گا-

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین، سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ کے دربار عالیہ سے یہی پیغام لے کر چلی ہے کہ آئیں! اپنے دل کو اللہ کی یاد سے منور کر کے شیطان کے شر سے محفوظ ہو جائیں- آئیے! اصلاحی جماعت کے اس مشن ذکر اللہ سے اپنے سینوں کو منور کریں تاکہ ذکر اللہ کی برکت سے انشاءاللہ یہ دشمنیاں، عداوتیں، منافرتیں ختم ہوجائیں گی اور ہم اللہ کے حکم کے مطابق ایک جسدِ واحد کی طرح تمام مسلمان بھائی بھائی ہو جائیں گے-

اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرما ئے-آمین

٭٭٭