• image01

    وفی انفسکم افلا تبصرون (51:21)

    اورمیں خود تمہارے نفوس میں ہوں
    تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

  • image02

    ففروا الی اللہ (51:50)

    دوڈو اللہ کی طرف

  • image03

    الفقرو فخری والفقر و منی - الحدیث

    فقر میرا فخر ہے
    اور فقر مجھ سے ہے

سلطان الفقر حضرت سلطان محمد اصغر علی، بانی اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین

سُلطان الفقر حضرت سُلطان محمد اصغر علی صاحب کی ولادتِ با سعادت عالمِ اِسلام کے تاریخ ساز دِن یعنی 14 اگست 1947ئ کو ہوئی ، یہ دن تاریخِ اسلام میں وہ اہم مقام رکھتا ہے کہ جِس دن سلطنتِ مدینہ کے بعد کوئی بھی دوسری مملکت ﴿ اِسلامی جمہوریّہ پاکستان ﴾ نظریۂ لا اِلٰہ اِلّا اللہ کی بنیاد پہ معرضِ وجود میں آئی ۔

 

حضرت سلطان محمد اصغر علی (رح) نے ابتدائی تعلیم کا کچھ حصّہ دربار حضرت سلطان باہو(رح) کے مقامی سکول اور کچھ وادیٔ سون سکیسر کے شہر نوشہرہ میں مکمل کیا بعد ازاں آپ اپنے والد و مُرشد کی صُحبت میں آگئے ، اپنے والدِ گرامی کے وصال کے بعد آپ نے مسندِ ارشاد سنبھالی اور دینِ حق کی سر بلندی کیلئے 1987ئ میں اصلاحی جماعت کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی اور مُریدین و معتقدین کو عصری تقاضوں کے مطابق ایک عملی پلیٹ فارم مُہیّا کیا اُنکو ایک روایتی و فرسودہ نظام سے بچانے اور ’’عجمیَّت ‘‘ سے پاک رکھنے کے لئے میدانِ عمل میں اُتارا ۔ آپ نے اپنے ہزاروں مریدین میں سے چند ایک کو منتخب فرما کر اُنکی تربیّت فرمائی اور اُنہیں عملی طور پر تبلیغِ دین کا اہم فریضہ سونپا ۔ پھر آپ نے آہستہ آہستہ اُن مُبلّغین کی تعداد میں اضافہ کیا اور تحریکی بُنیادوں پہ اُنکو منظم کیا اور مُلک بھر کے تمام اضلاع اور پھر یونٹوں کی سطح پہ دفاتر قائم کیئے۔ اِس کے 13 سال بعد آپ نے ایک اور تنظیم ’’ عالمی تنظیم العارفین ‘‘ کے نام سے قائم کی اور تمام وابستگان کو تین مراحل میں اعلیٰ مقاصد عطا کئے
﴿۱﴾ استحکامِ اسلامی جمہوریّہ پاکستان
﴿۲﴾ اِتحا دِ اُمتِ مُسلمہ
﴿۳ ﴾فلاح و تشکیلِ مُعاشرۂ اِنسانی ۔

 

اِس کے ساتھ ساتھ آپ نے اور شعبہ جات بھی قائم فرمائے ۔ آپ مُروّجہ خانقاہی نظام میں اِصلاحات اور تبدیلیاں چاہتے تھے جس کے لئے آپ نے اپنے والدِ گرامی و مرشد کریم کی خانقاہ کی تعمیر اور وہاں سے عملی تحریک شُروع فرماکر خانقاہ کو رول ماڈل کے طور پہ پیش کیا ۔

 

حضر ت سلطان محمد اصغر علی (رح) نے تمام عمر قرآن و سُنّت کو اُصُول بنا کر اور بھر پور عملی و تحریکی جدّ و جہد میں گزاری ۔ ایک حج، کئی عمرے اور متعدّد مرتبہ سرچشمۂ فیضانِ رحمت ،روضۂ رسول ﷺ کی حاضری سے شرف یاب ہوئے ۔ آپ عجمی طریقہ ہائے ذکر اور اسمأ صفات کے ذکر سے بڑھ کر ذکر و تصوّرِ اسمِ اللہ ذات کی تلقین فرماتے ۔ جیسا کہ حکیم الامّت علامہ محمد اقبال نے بھی خوب کہا :

 

مردِ مومن در نسازد با صفات
مصطفےٰ راضی نہ شُد اِلّا بہ ذات

 

﴿ یعنی مردِ مومن صفاتِ الٰہی تک اپنے آپ کو محدود نہیں کرتا کیونکہ مصطفےٰﷺ راضی نہیں ہوتے جب تک کہ ذاتِ الٰہی تک رسائی نصیب نہ ہو جائے ﴾ ۔

 

آپ(رح) فنِّ تعمیر میں بھی انتہائی نفیس ذوق رکھتے تھے ، آپ نے اپنے مرشد و والد حضرت سلطان محمد عبد العزیز صاحب کے آستانہ پہ قابلِ دید مسجد تعمیر کروائی جس کی چُنائی وادیٔ سون سکیسر کے مخصوص پتھر سے کروائی اور مسجد کے اندر ملتانی ثقافتی شاہکار یعنی شیشہ کاری کا نہایت نفیس اور باریک کام کروایا ۔

 

آپ اِن تمام مصروفیّات کے ساتھ صحت افزأ سرگرمیوں کا شوق بھی فرماتے آپ انتہائی اعلیٰ نیزہ بازی فرماتے اور خرگوش ، تیتر ، ہرن ، اور ہڑیال کے شکار کو پسند فرماتے تھے ۔

 

آپ کا وصال 26 دسمبر 2003ئ کو خیبر پختون خواہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا ۔ آپ کو آستانہ عالیہ حضرت سُلطان محمد عبد العزیز ، دربار عالیہ حضرت سُلطان باھُو پہ آپ کے والدِ گرامی (رح) کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔