• image01

    وفی انفسکم افلا تبصرون (51:21)

    اورمیں خود تمہارے نفوس میں ہوں
    تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

  • image02

    ففروا الی اللہ (51:50)

    دوڈو اللہ کی طرف

  • image03

    الفقرو فخری والفقر و منی - الحدیث

    فقر میرا فخر ہے
    اور فقر مجھ سے ہے

اِنسانیت اور تکمیل ِاِنسانیت

تحریر: سید امیر خان نیازی سروری قادری

سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور جس نے درجات کو عابدوں کے لئے اور مراتب قرب کو عارفوں کے لئے محفوظ فرمایا ہے اور بے حد و بے حساب اور لا محدود درود و سلام ہوں سرورِ دو عالم، حبیب ِکبریا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم پر جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نور ِجمال سے پیدا فرمایا- جیسا کہ حدیث ِقدسی میں فرمانِ الٰہی ہے -: ’’خَلَقْتُ رُوْحَ مُحَمَّدٍ مِّنْ نُّوْرِ وَجْھِیْ‘‘ ترجمہ-: ’’ مَیں نے روحِ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا کیا ہے-‘‘اور درود و سلام ہوں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آل پر، آپ کے اصحاب پر، آپ کی ازواجِ مطہرات پراور آپ کے اہل ِبیت پر کہ یہ سب ہدایت نما ستارے ہیں جن کی اقتدأکرنے والا نورِ نبوت کے فیض سے نوازا جاتا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے -:

’’اَصْحَابِیْ کَالنَّجُوْمِ بِاَ یِّھِمُ اقْتَدَ یْتُمْ اِھْتَدَ یْتُمْ‘‘

ترجمہ-:’’ میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں اِن میں سے جس کی بھی اقتدأ کرو گے ہدایت پائو گے-‘‘
اما بعد ! واضح ہو کہ اِس برباد ہونے والی کمینی دنیامیں نہ تو ہم دائمی قیام کے لئے آئے ہیں اور نہ محض کھانے پینے اور خبیث نفس کی لذات و خواہشات پر قناعت کرنے کے لئے بلکہ فقط اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قرب و وصال کی نعمت ِ عظمیٰ سمیٹنے کے لئے آئے ہیں جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے-:

’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّالِیَعْبُدُ وْنَ‘‘ ﴿پارہ ۷۲ ، الذاریات۶۵﴾

ترجمہ-:’’ اور مَیں نے جنوںاور انسانوں کو فقط اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے-‘‘
عارفوں کے نزدیک عبادت کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کا قرب و وصال اور عشق و محبت یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمیں فقط اپنے قرب و وصال کے لئے پیدا کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا قرب و وصال اُس کی معرفت و پہچان کے بغیر ممکن نہیں جیسا کہ سیّد نا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے-:’’مَنْ لَّمْ یَعْرِفْہ، کَیْفَ یَعْبُدْ ہ،‘‘ترجمہ-:’’جو شخص اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہی نہیں وہ اُس کی عبادت کس طرح کرسکتا ہے-؟‘‘غرض ہماری اوّلین ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی معرفت و پہچان حاصل کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پہچان کی کنجی یہ ہے کہ اِنسان اپنی ذات کی پہچان حاصل کرے- حضور علیہ الصلوٰۃُ والسلام کا فرمان ہے -:’’ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہَ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ،‘‘ ترجمہ-:’’ جس نے اپنی ذات کو پہچانا بے شک اُس نے اپنے رب کو پہچانا-‘‘

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن

اِس حدیث ِپاک کی شرح کرتے ہوئے امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں-:’’اے اِنسان ! تجھ سے قریب ترین اگر کوئی چیز ہے تو تیری اپنی ہی ذات ہے اِس لئے اگر تُو اپنے آپ کو نہیں پہچانتا تو کسی دوسرے کو کیوں کر پہچان سکے گا؟ فقط یہ جان لینا کہ ’’یہ میرے ہاتھ ہیں، یہ میرے پاؤں ہیں، یہ میری ہڈیاں ہیں اور یہ میرا جسم ہے-‘‘ اپنی ذات کی شناخت تو نہیں ہے، اتنی شناخت تو اپنے لئے دیگر جانور بھی رکھتے ہیںیا فقط یہ جان لینا کہ بھوک پیاس لگے توکھا پی لیا جائے، غصہ آئے تولڑ جھگڑ لیا جائے،شہوت غلبہ کرے تو جماع کر لیا جائے - یہ تمام باتیں تو جانوروں میں بھی تیرے برابر ہیں پھر تُواُن سے اشرف و افضل کیوں کر ہوا؟ تیری ذات کی معرفت و پہچان کا تقاضا یہ ہے کہ تُو جانے کہ تُو خود کیا ہے؟ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا؟ اور جو تُو آیا ہی ہے تو کس کام کے لئے آیا ہے؟ تجھے پیدا کیا گیا ہے تو کس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ؟ تیری نیک بختی و سعادت کیا ہے اور کس چیز میں ہے؟ اور یہ صفات جو تیرے اندر جمع کردی گئی ہیں جن میں سے بعض حیوانی ہیں، بعض وحوش اور درندوں کی ہیں، بعض شیطانی، بعض جناتی اور بعض ملکوتی ہیں، تو ذرا غور تو کر کہ تُواِن میں سے کون سی صفات کا حامل ہے؟ تُو اِن میں سے کون ہے؟ تیری حقیقت اِن میں سے کس کے قریب تر ہے؟ اور وہ کون کون سی صفات ہیں جن کی حیثیت تیرے باطن میں غریب و اجنبی اور عارضی ہے؟ جب تک تُو اِن حقائق کو نہیں پہچانے گا، اپنی ذات کی شناخت سے محروم رہے گا اور اپنی نیک بختی و سعادت کا طلب گار نہیں بنے گا کیونکہ اِن میں سے ہر ایک کی غذا علیٰحدہ علیٰحدہ ہے اور سعادت بھی الگ الگ ہے- چوپایوں کی غذا اور سعادت یہ ہے کہ کھائیں پئیں، سوئیں اور مجامعت میں مشغول رہیں، اگر تُو بھی یہی کچھ ہے تو دن رات اِسی کوشش میں لگا رہ کہ تیرا پیٹ بھرتا رہے اور تیری شہوت کی تسکین ہوتی رہے- درندوں کی غذا اور سعادت لڑنے بھڑنے، مرنے مارنے اور غیظ و غضب میں ہے، شیطانوں کی غذا اور سعادت شر انگیزی اور مکرو حیلہ سازی میں ہے اگر تُو اُن میں سے ہے تو اُن ہی جیسے مشاغل اختیارکرلے تاکہ تُواپنی مطلوبہ راحت و نیک بختی حاصل کرلے- فرشتوں کی غذا اور سعادت ذکر و تسبیح و طواف میں ہے جب کہ انسان کی غذا و سعادت قربِ الٰہی میں اللہ تعالیٰ کے انوار ِجمال کا مشاہدہ ہے- اگر تُو اِنسان ہے تو کوشش کر کہ تُو ذاتِ باری تعالیٰ کو پہچان سکے اور اُس کے انوارِ جمال کا مشاہدہ کر سکے اور اپنے آپ کو غصہ اور شہوت کے ہاتھ سے رہائی دلا سکے اور تُو طلب کرے تو اُس ذاتِ یکتا کو کرے تاکہ تجھے معلوم ہو جائے کہ تیرے اندر اِن حیوانی و بہیمی صفات کا پیدا کرنے والاکون ہے؟ اور تجھ پر یہ حقیقت بھی منکشف ہو جائے کہ پیدا کرنے والے نے اِن صفات کو تیرے اندر جو پیدا کیا ہے تو کیا اِس لئے کہ یہ تجھے اپنا اسیر بنالیں اور تجھ پر غلبہ حاصل کرکے خود فاتح بن جائیں؟ یا اِس لئے کہ تُواِن کو اپنا اسیر و مسخربنالے اور خود اِن پر غالب آ جائے اور اِن اسیروں اور مفتوحین میں سے کسی کو اپنے سفر کا گھوڑا بنا لے اور کسی کو اپنا اسلحہ بنا لے تاکہ یہ چند دن جو تجھے اِس منزل گاہِ فانی میں گزارنا ہیںاِن میںاپنے اِن غلاموں سے کام لے کر اپنی سعادت کا بیج حاصل کرسکے اور جب سعادت کا بیج تیرے ہاتھ آجائے تو اِن کو اپنے پائوں تلے روندتا ہوا اپنی اُس قرار گاہِ سعادت میں داخل ہو سکے جسے خواص کی زبان میں ’’حضورِ حق ‘‘ کہا جاتا ہے- یہ تمام باتیں تیرے جاننے کی ہیں- جس نے اِن کو نہ جانا وہ راہِ دین سے دور رہا اور لا محالہ دین کی حقیقت سے حجاب میں رہا-‘‘ ﴿ترجمہ و تلخیص کیمیائے سعادت﴾ یاد رہے کہ دین کے معنی ہیں ’’جوہرِ انسانی کی شناخت اور اُس کی تکمیل ‘‘ یعنی مرتبۂ اِنسان کی پہچان اور اُس کے حصول کا نام دین ہے- دوسرے الفاظ میں خود شناسی و خود بینی و خود بانی کا نام دین ہے اور خود شناسی یہ ہے کہ اِنسان کی تخلیق دو چیزوں سے عمل میں لائی گئی ہے - ایک چیز تو ظاہری وجود ہے جسے جسم یا تن بھی کہتے ہیں اور جسے ظاہری آنکھ سے دیکھا اور ہاتھوں سے چھوا بھی جا سکتا ہے اور دوسری چیز باطن ہے جسے نفس یا جان یا دل کہتے ہیں-اُسے نہ تو ظاہری آنکھوںسے دیکھا جاسکتاہے اور نہ ہی ظاہری ہاتھوں سے چھوا جاسکتاہے، اُسے صرف باطن ہی کی آنکھ سے دیکھا بھالا جاسکتاہے - عارفوں کی اِصطلاح میں اِنسان کے اُس باطن اور اصلی وجود کو دل کہتے ہیں -اُن کے نزدیک دل گوشت کا وہ لوتھڑا نہیں ہے جو سینے کے اندر بائیں جانب رکھاہوا ہے - گوشت کا یہ لوتھڑا تو جانوروں اور مُردوں کے سینے میں بھی موجود ہوتاہے اور ظاہری آنکھ سے اُسے دیکھا بھی جاسکتاہے اورجس چیز کو ظاہری آنکھ دیکھ سکے اُس کا تعلق اِسی ظاہری دنیاسے ہے جسے بہرحال فنا ہونا ہے لیکن حقیقت ِ دل کا تعلق اِس ظاہری جہاں سے ہرگزنہیں بلکہ اُس کا تعلق عالمِ غیب سے ہے، اُس سے یہ ظاہری جسم چھن بھی جائے تو اُس کا قائم رہنا رواہے کہ اُسے فنانہیں - معرفت ِ الٰہی اور جمالِ خداوندی کا مشاہدہ اُس کی خاص صفت ہے، عبادت کا حکم اُسی کو ہے ، ثواب و عذاب اُسی کے لئے ہے ، سعادت وشقاوت اُسی کا مقدر ہے اور اُسی کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہی معرفت ِالٰہی کی چابی ہے اور یہی دین کی حقیقت ہے -

دین کی اِسی حقیقت سے آگاہی کے لئے صوفیائے کرام ابتدائے خلق پر نظر ڈالتے آئے ہیں - چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ظہور کا ارادہ فرمالیا تو سب سے پہلے سرورِ دو عالم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی روحِ اَقدس کو اپنے نورِ جمال سے ظاہر فرمایا- حدیث ِقدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے -:’’خَلَقْتُ رُوْحَ مُحَمَّدٍ مِّنْ نُّوْرِ وَجْھِیْ ‘‘ترجمہ-: ’’ مَیں نے روحِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا فرمایا- ‘‘ پھر روحِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم سے تمام ارواح کو احسن صورت پر ظاہر فرماکر اپنے قرب کے مقام لاہوت کو اُن کا ا.صلی وطن بنا کر اُس میں اُنہیں رکھا- عالمِ لاہوت میں روح کا نام روحِ قدسی رکھا - ارواحِ قدسیہ کو چار ہزار سال تک اپنے بے حجاب قربِ خاص ’’ لاہُوت ‘‘ میں رکھا جہاں اُنہیں اللہ تعالیٰ سے محبت ہوئی - بعدہ، اللہ تعالیٰ نے ارواحِ قدسیہ سے سوال کیا’’ اَلسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ ترجمہ’’ کیا مَیں تمہار اربّ نہیں ہوں؟ ‘‘ اور ارواح نے بیک زبان ’’بَلٰی ‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیا- صوفیا ئے کرام کے نز دیک یہ سوال و اقرار معرفت ِذاتِ الٰہی سے متعلق ہے-جب ارواحِ قدسیہ نے ذاتِ الٰہی کی معرفت کا اقرار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اُنہیں صفاتِ الٰہی کی معرفت سے بہرہ ور ہونے کے لئے ’’ کُنْ ‘‘ فرما کراِنسان کامل حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے نور سے مخلوق کے اٹھارہ ہزار عالم کے تین طبقات جبروت ، ملکوت اور ناسوت پید ا فرمائے - مخلوق کے یہ تینوں طبقات دراصل صفاتِ الٰہی کا ظہور ہے اِس لئے اِن تینوں طبقات کی طیرسیر اور مشاہدہ دراصل صفاتِ الٰہی کی معرفت کا مشاہدہ ہے - طبقاتِ خلق کے ظہور کے بعد ارواحِ قدسیہ کو اِن طبقات کے مشاہدے کے لئے نزول کا حکم ہوا تو روحِ قدسی کوجبروت میں داخل ہونے کے لئے نورِجبروت کا لباس پہنایا گیا تاکہ جبروت روحِ قدسی ﴿ اصلی اِنسان ﴾ کے نور سے جل نہ جائے کیونکہ جبروت میں روحِ قدسی کے انوار برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے جیسا کہ معراج کی رات سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جبرائیل علیہ السلام نے آگے بڑھنے سے یہ کہہ کر معذر ت کر لی کہ اگرمَیں سرِ انگشت کے برابر بھی آگے بڑھا تونور ِلاہوت سے جل جائوں گاکیونکہ جبرائیل علیہ السلام نور ِجبروت سے پیداکئے گئے ہیں - روحِ قدسی نورِ جبروت کا پہلا بشری لباس پہن کر عالمِ جبروت میں داخل ہوئی تو یہاں اُس کا نام روحِ سلطانی رکھاگیا - عالمِ جبروت میں طیر سیر اور مشاہدہ کرکے جب اُس نے اللہ تعالیٰ کی جبروتی صفات کی معرفت حاصل کرلی تو اُسے عالم جبروت سے نکل کر عالمِ ملکوت میں داخلے کا حکم ہوا اور اُسے نورِ ملکوت کا دوسرا بشری لباس پہنایا گیا جس کی بدولت اُسے ملکوت میں داخلہ نصیب ہوا - یہاں اُسے روحِ سیرانی کا نام عطا ہوا - ملکوت کی طیر سیر اور مشاہدہ کر کے اُس نے اللہ تعالیٰ کی ملکوتی صفات کی معرفت حاصل کی - اِس کے بعداُسے نورِ نا سوت کا تیسرا بشری لباس پہنا کر عالمِ نا سوت میں اتارا گیا ’’ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ‘‘﴿ پھر ہم نے اُسے سب سے نچلے درجے میں لااتارا﴾ تاکہ یہاں وہ اللہ تعالی کی ناسوتی آیات ﴿ نشانیوں ﴾ کا مشاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ کی صفاتی معرفت کی تکمیل کر لے، یہاں اُس کا نام روحِ جسمانی رکھا گیا اور اُس کی بدولت وہ یہاں حیوانِ ناطق کہلایا-
اِس طرح اِنسان نزول کرتاہوا جومختلف منازل طے کرکے اِس موجودہ جہان عالمِ نا سوت میں آپہنچاہے تو یہاں اُسے مستقل قیام نہیںکرنا بلکہ آیاتِ ا لٰہی کے انوار میں تیرتے ہوئے اُسے واپس لا ہوت میں اللہ تعالیٰ کا مقرب بن کر عشق ِالٰہی کی دائمی نعمت سے سرفراز ہونا ہے جیسا کہ فرما نِ ا لٰہی ہے-:’’ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ‘‘ ﴿ پھر تمہیں لوٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے﴾ - یعنی پہلے اِنسان نے نزول کیا اور اب اُسے عروج کرنا ہے اور و ہ بھی اُنہی دیکھی بھالی راہوں سے گزرکر- جوں جوں اِنسان عروج کرتا جاتاہے اللہ تعالیٰ کی معرفت کی نشانیاں واضح سے واضح تر ہوتی چلی جاتی ہیں حتیٰ کہ جب اِنسان خلق کی حدوں کو توڑ کر توحید ِحق تعالیٰ سے ہمکنار ہوجاتاہے تو پکا ر اُٹھتاہے-:’’ اب مَیں نے اپنے رب کو پاکر اپنا مقصود حاصل کر لیا ہے‘‘ جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے -:’’ سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْ آَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ‘‘ ﴿پارہ ۵۲،حم السجدہ۳۵﴾ ترجمہ-: ’’ ہم اپنے قرب کے طالبوں کو دکھاتے جاتے ہیں اپنی ﴿معرفت و پہچان کی﴾ نشانیاں آفاق ﴿اِس جہان ﴾ میں بھی اور عالمِ انفس ﴿ عالمِ ملکوت ، عالمِ جبروت ، عالمِ لاہوت، عالمِ یاہوت اور عالمِ ہاہوت﴾ میں بھی حتیٰ کہ﴿ ذاتِ حق کی حقیقت اُن پر کھل کر واضح ہوجاتی ہے اور﴾ وہ پکار اُٹھتے ہیںکہ یہی ہے ذاتِ حق-‘‘ مندرجہ بالاحقائق سے معلوم ہوجاتاہے کہ اِنسان کے چار وجود ہیں، ﴿۱﴾ ناسوتی وجود یعنی موجودہ جسمانی وجود، ﴿۲﴾ ملکوتی وجود، ﴿۳﴾ جبروتی وجود اور ﴿۴﴾ لاہوتی وجود- اِن چاروں میں سے پہلے تین وجودوں کاتعلق عالمِ خلق سے ہے اور یہ تینوں فانی ہیں اور اِن میں معرفت ِصفاتِ الٰہیہ سے فیض یاب ہونے کی استعداد و صلا حیت موجود ہے جب کہ چوتھے لا ہوتی وجود کا تعلق عالمِ خلق سے نہیں بلکہ عالمِ امر﴿عالمِ لاھُوت﴾ سے ہے اوریہ غیر فانی ہے اور اِس میں ذاتِ الٰہیہ کی معرفت سے فیض یاب ہونے کی صلاحیت واستعداد موجود ہے -اللہ تعالیٰ کی معر فت اور اُس کے قرب کے حصول کے لئے اِن چاروں وجودوں کی تعلیم و تربیت کے لئے علیٰحدہ علیٰحدہ نصاب مقرر ہے - حیوانی ناسوتی وجود کی تعلیم و تربیت کے لئے علمِ شریعت اور اعمالِ شریعت کا نصاب ہے جس کی تدریس علمائے ظاہر کے ذمہ ہے -علمِ شریعت اور اعمالِ شریعت اختیار کئے بغیر ظاہری ناسوتی وجود اپنی سعادت و کامیابی سے محروم رہ جاتاہے اور آخرت کے ابدی انعام جنت الماویٰ تک نہیںپہنچ پاتاکیوں کہ جنت الماویٰ اعما لِ شر یعت کا ثمرہ ہے اور یہ جنت عالمِ ناسوت کا پر تو ہے - ملکوتی وجود کی تعلیم و تربیت کا نصاب ’’ علمِ طریقت‘‘ہے یعنی کسی شیخ ِکا مل کے ہاتھ پر بیعت کرکے اُس کے ا حکام و فرامین پر صدق ِدل سے عمل پیراہونا- اعما لِ طریقت سے اُس ملکوتی وجود کی نمود ہوتی ہے جو عالمِ ملکوت میں پہنچ کر صفاتِ ا لٰہیہ کے ملکوتی انوار سے فیض یاب ہوکر وہاں کے ثمر’’ جنت ا لنعیم‘‘سے بہرہ ور ہوتاہے - اعمالِ طریقت اختیار کئے بغیر جنت النعیم کا حصول قطعاً نا ممکن ہے -جبروتی وجود کی تعلیم و تربیت کے نصاب کا نام علمِ معرفت اوراعمالِ معرفت ہے، اِس نصاب کی تدریس بھی شیخ ِکامل کے ذمہ ہے- اعمالِ معرفت اختیار کرکے اِنسان عالم جبروت میں داخل ہوکر اللہ تعالیٰ کی جبروتی صفات کی معرفت حاصل کرتا ہے اور تقدیرِ الٰہیہ کو سمجھ کر اُس کی موافقت اختیار کر کے تسلیم و رضا کا رویہ اپناتاہے جس کاثمر اُسے’’جنت الفردوس‘‘ کی صورت میںمیسر آتا ہے - علمِ معرفت اور اعمالِ معرفت اختیار کئے بغیر ’’ جنت الفردوس ‘‘ تک رسائی قطعاً نا ممکن ہے- گویا اِنسان کی مکمل کامیابی کا گُریہ ہے کہ پہلے وہ اعمالِ شریعت کو اپنائے اور اِس کے ساتھ ساتھ اعمالِ طریقت اختیار کرکے ظاہری وجود کی نفی کرے تاکہ اُس کا ملکوتی وجود ظاہر ہوکر عالمِ ناسوت سے نکل کر عالمِ ملکوت میں واپس پہنچے - عالمِ ملکوت میں پہنچ کر اعمالِ معرفت اختیار کرے تاکہ اُس کے ملکوتی وجود کی بھی نفی ہو جائے اور اُس کا جبروتی وجود ظاہر ہوکر عالمِ جبروت میں واپس پہنچے - لاھُوتی وجود کی تعلیم و تربیت کے نصاب کا نام علمِ حقیقت اور اعمالِ حقیقت ہے اور اُس کی تدریس بھی شیخ ِکامل کے ذمہ ہے- علمِ حقیقت اور اعمالِ حقیقت اختیار کرنے سے جبروتی وجود کی نفی ہوجاتی ہے اوراِنسان بشریت کی قید سے نکل کر عالمِ امر کی قدوسی صورت میں عالمِ خلق کی تینوں قوسوں ﴿ ناسوت ، ملکوت ، جبروت﴾ کو توڑتاہو اللہ تعالیٰ کے مقامِ قرب یعنی عالمِ لاھُوت کی جنت میں داخل ہوجاتاہے جس کے متعلق حضور علیہ السلام کا فرمان ہے -:

’’اِنَّ لِلّٰہِ جَنَّۃٌ لَّا فِیْھَا حُوْرٌ وَّ لَا قَصُوْرٌ وَّ لَا عَسَلٌ وَّ لَا لَبَنٌ بَلْ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی وَجْہِ اللّٰہِ‘‘
ترجمہ-: ’’تحقیق اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ایسی جنت بھی ہے جس میں حور وقصور ہیں نہ شہد و دودھ ہے بلکہ اُس میں ذاتِ حق تعالیٰ کا دیدار ہے -‘‘

یہاں پہنچ کروہ مخلص بن جاتاہے اور نفس و شیطان و حُبّ ِدنیا کے شر سے خلاصی پاجاتاہے کیوںکہ عالمِ لاہوت میں مخلوق داخل نہیں ہوسکتی اور اِنسان کے اِسی مرتبۂ اخلاص کے متعلق شیطان نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کہا تھا -:

’’ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ لا اِ لَّاعِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ‘‘ ﴿پارہ ۳۲،صٓ۲۸ تا ۳۸﴾
ترجمہ-: ’’ الٰہی !تیری عزت کی قسم میں ضرور اِن سب کو گمراہ کردوں گا سوائے تیرے اُن بندوں کے جو اِن میں سے مخلص ہوجائیں گے- ‘‘

اِنسان کا یہی وہ مقامِ’’ لَا تَخَفْ ‘‘ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے-:

’’ اَ لَآاِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘ ﴿پارہ۱۱،یونس۲۶﴾
ترجمہ-:’’ خبردار! بے شک اؤلیائے اَللّٰہُ پر کچھ خوف ہے نہ غم - ‘‘ ا

ور یہی وہ ’’ مقامِ قدس ‘‘ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے -:

’’ وَاَ یَّدْ نٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُ سِ‘‘
ترجمہ -:’’اور ہم نے روحِ قدسی سے اُس کی مددکی -‘‘

اِنسان کی اِسی نورانی حالت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے-:

’’ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِرَبِّیْ‘‘﴿پارہ ۵۱،بنی اسرائیل ۵۸﴾
ترجمہ-:’’ محبوب !آپ فرما دیں کہ روح کا تعلق عالمِ امر سے ہے -‘‘
﴿یہ عالمِ خلق میںسے نہیں جو تمہاری سمجھ میں آجائے ﴾

اور اِنسان کی اِسی حیثیت کے متعلق فرمایاہے -:

’’ اِ نِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً‘‘ ﴿پارہ۱،البقرہ ۰۳﴾
ترجمہ-:’’بے شک مَیں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والاہوں-‘‘

اور یہی اِنسان کی وہ روحِ قدسی ہے جس کو اپنا راز قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے حدیث ِ قدسی میں فرمایا ہے -:

’’ اَ لْاِنْسَانُ سِرِّیْ وَاَنَا سِرُّہ، ‘‘
ترجمہ-:’’ اِنسان میر اراز ہے اور مَیں اِنسان کا راز ہوں-‘‘

اِنسان کی اِسی نورانی حالت ﴿ روح قدسی ﴾ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح قرار دے کر فرمایا-:

’’ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ‘‘ ﴿پارہ ۳۲،ص ۲۷﴾
ترجمہ -:’’ اور مَیں نے اِس میں اپنی روح پھونکی- ‘‘

اور اِسی حالت کو صوفیائے کرام نے مختلف انداز میں پیش کیا ہے مثال کے طور پر سیّدنا پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے-:

’’ کُنْ فَیَکُوْنَ ‘‘ تے کل دی گل اے ، اساں پہلے دی پریت لگائی ‘‘

سیّدنا سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں -:

’’کُنْ فَیَکُوْنَ‘‘ جدوں فرمایا اساں وی کولے ہاسے ھُو
ہکے ہاسے ذات ربے دی ہکے جگ وچ ڈھونڈرہاسے ھُو
ہکے آہی لامکان اساڈاہکے آن بتاں وچ پھاسے ھُو
نفس پلیت ، پلیت چا کیتا باھُو کوئی اصل پلیت تاں نا سے ھُو

مطلب یہ ہے کہ جب تک ا نسان اِس دنیامیں تربیت کے یہ چاروں کورس یعنی شریعت طریقت ، معرفت اور حقیقت عملی طور پر کسی باعمل شیخ ِکامل مکمل اکمل کی نگرانی میں مکمل نہیں کرلیتا اُس وقت تک اپنے مقصد ِحیات کو نہیںپا سکتا اور وہ ناکام رہتاہے کیونکہ کامل شریعت کی مکمل پیروی کے بغیر اِنسان کبھی فلاح یا فتہ نہیں ہوسکتااور کا مل شریعت کی تعریف definition)﴾حضور علیہ ا لصلوٰۃ والسلام نے یوں فرمائی ہے -:

’’اَلشَّرِیْعَۃُ شَجَرَۃٌ وَّالطَّرِیْقَۃُاَغْصَانُھَاوَالْمَعْرِفَۃُ اَوْرَاقُھَاوَالْحَقِیْقَۃُ ثَمَرُھَاوَالْقُرْاٰنُ جَامِعُ جَمِیْعِھَا‘‘
ترجمہ -:’’ شریعت ایک درخت ہے اور طریقت اُس کی ٹہنیاں ہیں، معرفت اُس کے پتے ہیں ، حقیقت اُس کا پھل ہے اور قرآن اِن سب کا جامع ہے‘‘

یعنی سب چیزیں قرآن میں جمع کردی گئی ہیں - شریعت کی اِسی تعریف کو مدِّنظر رکھتے ہوئے علامہ اقبال (رح) نے فرمایا ہے-:

قہاری وغفاری وقدوسی وجبروت
یہ چارعناصر ہوں تو بنتاہے مسلماں

یعنی انسان جب شریعت ﴿ قہاری ﴾، طریقت ﴿غفاری﴾، معرفت ﴿جبروت ﴾ اور حقیقت ﴿قدوسی ﴾ کے چاروں نصابِ تربیت مکمل کرلیتاہے تو تب مسلمان بنتا ہے -
اِن چاروں علوم کے بغیر اِنسان نفس کے بہکا وے سے ہرگز نہیں بچ سکتا کیونکہ شریعت کے دائرے میں نفس اوامرو نواہی ﴿اللہ تعالیٰ کے احکام اور اُس کی ممنوعہ باتوں ﴾کی مخالفت کرنے پر اِنسان کو آمادہ کرتاہے ، طریقت کے دائرے میں نفس دینی موافقت کے پردے میں دھوکہ دے کر گمراہ کرتاہے یعنی نفس بظاہر دینی امور کی انجام دہی میں اِس انداز سے موافقت کرتاہے کہ اِنسان دین کے کام کرتے ہوئے بھی گمراہ ہوجاتاہے - دائرہِ طریقت میں نفس نبوت و ولایت کا دعو ی کرنے پر اُکساتا ہے ، معرفت کے دائرے میں نورانیت کی بناپر نفس دھوکہ دے کر شرکِ خفی میںمبتلاکر دیتاہے اور اِنسان کوربوبیت کا دعویٰ کرنے پر مائل کرتاہے - جیسا کہ فرما نِ حق سبحانہ، و تعالیٰ ہے -:

’’ اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہ، ھَوَاہ،‘‘﴿پارہ ۵۲ ،الجاثیہ ۳۲﴾
ترجمہ-: ’’ محبوب !کیا آپ نے ا ُس شخص کو دیکھا جس نے ہوائے نفس کو اپنا معبود بنا رکھاہے -‘‘

مگر دائرہ ِحقیقت میں شیطان ، نفس ، ملائکہ اور مخلوق کے دیگر افراد داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ اِس دائرے میں غیر ماسویٰ اللہ جل جاتاہے -اِنسان جب دائرہِ حقیقت ﴿ عالمِ لاہوت ﴾ میں داخل ہوتا ہے تواُس کی تمام بشری صفات فنا ہوجاتی ہیں اوروہ ’’ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا ‘‘﴿مرنے سے پہلے مر جائو﴾ کا مصداق بن جاتاہے اِس لئے وہ قربِ ذاتِ الٰہی کے قابل ہوجاتاہے چونکہ صفاتِ بشری میں غیریت کا مادہ ہے اِس لئے اُنہیں تجلی ٔذاتِ باری تعالیٰ کے سوافنا حاصل نہیں ہوسکتی اور معرفت ِذات کے بغیر نادانی کا پردہ نہیں اُٹھ سکتا-مقامِ حقیقت میں اللہ تعالیٰ خود بندہ کو بلا واسطۂ غیر علم لدنی کی تعلیم فرماتاہے اور بندہ خضر علیہ السلام کی طرح اللہ پاک کو اُس کی تعریف سے پہچانتاہے اور اُسی ہی کی تعلیم سے ا ُس کی عبادت کرتاہے -اِس مقام پر وہ ارواحِ قدسیہ کا مشاہدہ کرتاہے اور اُسے اپنے نبی ٔکریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ مرتبۂ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واقف ہوجاتاہے اور تمام انبیائے کرام اُسے وصالِ ابدی کی بشارت دیتے ہیں -مطلب یہ ہے کہ عالمِ لاہوت میں مرشد ِکامل اکمل مکمل کی زیرِ نگرانی جب بندہ اعما لِ حقیقت اختیارکرتاہے تو وہ عالمِ لاھُوت سے آگے بڑھ کر عالمِ ’’یاھُوت‘‘ میں داخل ہوتاہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے اُن انوار کا عالم ہے جو ذاتِ الٰہی سے سب سے پہلے ظاہر ہوئے اور جس کے متعلق سیّدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا -: ’’سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیداہوا-‘‘عالمِ یا ھُوت میں داخلہ فنافی الرسول کا مرتبہ ہے- اِس مقام پرپہنچ کر ہی طالب اللہ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور پھر حضور علیہ ا لصلوٰۃوالسلام اُسے اپنے ہی دست ِشفقت سے توحید ِذاتِ باری تعالیٰ کے دریائے ژرف ﴿عالمِ ہاھویت ﴾ میں غوطہ دے کر مقامِ توحید پر پہنچاتے ہیں- یہاں وہ موحدبن کر پکا ر اُٹھتاہے-:
مٹادیا میرے ساقی نے عالمِ من و تُو پلا کے مجھ کو مئے لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوْ یعنی یہاں اُسے اپنی ذات کا اتہ پتہ بھی نہیں رہتا بلکہ اللہ ہی اللہ دکھائی دیتا ہے -عارف باللہ حضرات عالمِ لاھُوت میں قرب ِالٰہی سے کم کسی مرتبے کو خاطر میں نہیں لاتے - اُ ن کے نزدیک عالم نا سوت سے لے کرعالمِ جبروت کی آخری حد سد رۃ المنتہی تک کے تمام مقامات و درجات محض کھیل تماشہ اور بازی گری ہے کہ اُن کا تعلق محض خلق سے ہے - یہ مقامات و درجات خالق سے بہت دوری پر ہیں- حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں -:﴿۱﴾’’قربِ الٰہی اور بندے کے درمیان تہتر کروڑتراسی لاکھ اکتیس مراتب ہیں جن میں سے سب سے بالا ئی مرتبہ سرّ الا می ہے، اُس سے آگے لامکان ہے لیکن ایک فقیر کی نظر میں یہ سب مقامات ودرجات مچھر کے پر جتنی وقعت بھی نہیں رکھتے کہ اِن میں رجوعاتِ خلق پائی جاتی ہیں- ‘‘ ﴿عین الفقر﴾ ﴿۲﴾ ’’اے درویش ! اگر تُوہوا میںاُڑتاہے تو تُو مکھی کے درجہ پر ہے اگر تُو پانی پر چلتاہے تو تُو تنکے کے مرتبے پر ہے اور اگر تُو لوحِ محفوظ ﴿جوعالمِ جبروت میںہے﴾ کامطالعہ کرکے لوگوں کو اُن کی تقدیروں کا حال بتلاتا ہے تو تُو نجومی کے مرتبے پر ہے- ‘‘
﴿۳﴾ ’’ قطب کا مرتبہ عرش سے ۰۷ ہزار مراتب آگے ہے اور غوث کا مرتبہ اِس سے بھی ۰۷ ہزار مراتب آگے ہے لیکن یہ ادنیٰ اور کمتر مراتب ہیں -‘‘

غوث قطب سب ارے اریرے عاشق جان اگیرے ھُو
جس منزل تے عاشق پہنچن اتھے غوث نہ پاندے پھیرے ھُو
عاشق وچ وصال دے رہندے جنہاں لامکانی ڈیرے ھُو
مَیں قربان تنہا نتوں یا حضرت باہو جنہاں ذاتوں ذات بسیرے ھُو

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ تو قربِ ذات سے کم درجے کو طریقت کا کفر قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں-:

﴿۱﴾ یہ کافری تو نہیں کافری سے کم بھی نہیں
کہ مرد حق ہو گرفتار حاضر و موجود

﴿۲﴾ کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میںگم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

﴿۳﴾ اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زماں و مکاں اور بھی ہیں

سیدنا غوث اعظم شاہ عبدالقادرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ-:’’جسے علمِ حقیقت کے ذریعے مقامِ وصال حاصل نہیں ہوا وہ فی الحقیقت عالم نہیں ہے اگرچہ اُس نے لاکھوں کتابیں پڑھ رکھی ہوں کیوں کہ وہ روحا نیت کو نہیں پہنچاہے- ظاہری علوم کے ذریعے بدنی اعمال کی جزا صرف جنت الماویٰ ہے جہاں صرف صفاتِ الٰہی کا عکس ظاہر ہوتاہے اِس لئے محض ظاہری علم حاصل کرلینے سے اِنسان حرمِ قدسی اور مقامِ قرب ﴿ مقام لاھُوت ﴾ میں داخل نہیں ہوسکتاکیوں کہ عالمِ لاھُوت تو عالمِ پرواز ہے جہاں دونوں بازئووں کے بغیر نہیں اُڑا جاسکتا اور علمِ ظاہری اور علمِ باطنی ہی وہ دو بازو ہیں جن کے ذریعے عالم کو لاھُوت میں پرواز نصیب ہوتی ہے- حدیث ِقدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے-:

’’ یَاعَبْدِ یْ اِذَااَرَدْتَّ اَنْ تَدْ خُلَ حَرَمِیْ فَلاَ تَلْتَفِتْ اِلَی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ وَالْجَبَرُوْتِ لِاَنَّ الْمُلْکَ شَیْطَانُ الْعَالِمِ وَالْمَلَکُوْتَ شَیْطَانُ الْعَارِفِ وَالْجَبَرُوْتَ شَیْطَانُ الْوَاقِفِ ط مَنْ رَضِیَ بِاَحَدٍ مِّنْھَا فَھُوَ مَطْرُوْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی ‘‘
ترجمہ-: ’’ اے میرے بندے !اگر تُو میرے حرم میں داخل ہونا چاہتا ہے تو عالمِ ملک ، عالمِ ملکوت اور عالمِ جبروت کی طرف توجہ مت کر کیونکہ عالمِ ملک شیطان﴿راہزن﴾ ہے عالم کے لئے ، عالمِ ملکوت شیطان ہے عارف کے لئے ا ور عالمِ جبروت شیطان ہے واقف کارکے لئے ، جس نے اِن میں سے کسی ایک کو پسند کرلیا وہ اللہ تعالیٰ کے قرب سے دور ہوگیا- ‘‘

یعنی اُسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہ ہوسکا لیکن درجات ﴿جنت الماویٰ جنت النعیم او ر جنت الفردوس ﴾سے وہ محروم نہیں کیاگیا- ایسے لوگ قربِ الٰہی چاہتے ہیں لیکن پانہیں سکتے کیونکہ اُنہوں نے غیرِ حق کی آرزو اور طلب کی - اہل ِقرب کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی اورنہ ہی کسی انسان کے دل نے سوچی اوروہ ہے جنت ِقرب کہ جس میں حور وقصور اور لذات نعمائے بدن نہیں بلکہ صرف جمالِ الٰہی کے جلوے ہیں- ‘‘اِنسان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی ہستی کے اندرونی معاملات کو پہچانے کیوں کہ یہاں جو کچھ حاصل ہوتاہے اُس کے گلے سے لگادیاجاتاہے جیسا کہ فرمانِالٰہی ہے-:

’’وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طَائِرَہ، فِیْ عُنُقِہٰ‘‘ ﴿پارہ ۵۱،بنی اسرائیل ۳۱﴾
ترجمہ-:’’ اور ہرانسان کی قسمت ہم نے اُس کے گلے سے لگادی ہے-‘‘

لہٰذا اِنسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے اور اپنے نفس کی خاطر اُس بات کا دعو یٰ نہ کرے جس کا اُسے حق نہیں پہنچتا - عالمِ دین کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر روحِ قدسی کی نمود کرے اور مرشد ِکامل کی نگرانی میں تصورِ اسم اللہ ذات سے اُس کی تربیت کرے ،عالمِ اجسادسے نکل کر عالمِ روحانیت کی طرف بڑھے اور عالمِ سرّمیں پہنچے کیونکہ وہاں ذاتِ باری تعالیٰ کے سوا کوئی دیا ر و امصار نہیں ہے ، وہ نور کے صحرا کی مانند ہے جس کی کوئی انتہانہیں- اِنسان روحِ قدسی کی صورت میں اُس کے اند ر پرواز کرتاہے اور اُس کے عجائب وغرائب کو دیکھتاہے جن کا بتلاناممکن نہیں - یہ مقام اُن سچے توحید پرستوں کا ہے جواپنی ہستی کو عین وحدتِ ذات میں گم کر دیتے ہیں - مشاہدہِ جمالِ الٰہی کے وقت وہاں وجود کالعدم ہوجاتاہے اور غلبۂ حیرت و محویت کے باعث اِنسان کو اپنا وجود نظرنہیں آتا - روحِ قدسی کے ظہور کے بعد اِنسان خلق کے سمندروں کو پار کر کے’’ امر‘‘ یعنی روحانیت کی تہہ تک پہنچ جاتاہے- یاد رہے کہ خلق کے تما م جہان عالمِ امر کے مقابلے میں ایک قطرے کی مانندہیں - اِس کے بعدعلومِ روحانیت اور علمِ لدنی کا فیض حروف وآواز کے بغیر جاری ہوتاہے اور چشمِ بصیرت اپنے کمال کو پہنچتی ہے- لہٰذا اِنسان پر واجب ہے کہ اہل ِبصیرت کی موافقت اختیار کرے اور ’’ عالمِ لاھُوت ‘‘کے واقف کار ولی اللہ مرشد کی تلقین وتربیت سے دل کی آنکھ حاصل کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ووصال سے بہرہ ور ہوسکے- ‘‘﴿نقل و اخذ از سر الاسرار﴾

اساسِ عمل:

فرمانِ حق تعالیٰ ہے -
’’ لَیْسَ الْبِرَّاَنْ تُوَلُّوْاوُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰ مَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَالْمَلٰئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَ النَّبِیِّیْنَ ج وَاٰ تَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٰ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ لا وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ ج وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰ تَی الزَّکٰوۃَ ج وَ الْمُؤْفُوْنَ بِعَھْدِ ھِمْ اِذَاعٰھَدُ وْاج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآ ئِ وَالضَّرَّآئِ وَحِیْنَ الْبَاسِط اُولٰٓئِکَ الَّذِ یْنَ صَدَ قُوْاط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ‘‘﴿پ ۲ ،ا لبقرہ ۷۷۱﴾
ترجمہ-:’’ نیکی صرف یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیرلو بلکہ اصل نیکی تویہ ہے کہ ایمان لائیں اللہ پر اورقیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور اللہ تعالیٰ کی کتابوںپر اور انبیا ٔپر اور اللہ کی محبت میں اپنا مال خرچ کریں اپنے قرابت داروں پر اوریتیموں پر اور محتاجوںپر اور مسافروں پر اور مانگنے والوںپراور غلاموں کوآزاد کرانے پر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃدیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اُسے پورا کریں اور صابر رہیں سختی اور مصیبت کے وقت میں اور شدت ِجنگ ﴿جہاد﴾ کے وقت میں تویہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ پرہیز گار ہیں- ‘‘

اِس آیت ِمبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مطلوب ومقصود مومن کے عقیدے اور طرزِ عمل کا احاطہ کرتے ہوئے فرمایا ہے-:’’ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیابی و سرخروئی کا انحصار محض قبلہ رُو ہونے پر نہیں بلکہ عقیدے کی درستی اور محبت ِالٰہی کی شدت پر ہے اور درست عقیدہ یہ ہے کہ ایمان لایا جائے اللہ پر، یومِ قیامت پر، فرشتوں پر، انبیا ٔپر اور کتب ِالٰہیہ پر-‘‘﴿۱﴾اللہ پراِیمان یوں ہو کہ اللہ تعالیٰ واحد و حیُّ قیوم ذات ہے جس کا کوئی شریک و ثانی نہیں ذات میں نہ صفات میں- وہ علیم و خبیر بھی ہے، سمیع و بصیر بھی ہے، قادر و قدیر بھی ہے- الغرض وہ ہر صفت کا مالک ہے- ہمارا مالک و رازق ہے- ہم اُس کی بارگاہِ قرب سے اُسی کی طرف سے اِس دنیا میں بھیجے گئے ہیں اورپھر اُسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے، ہر چیز اُسی کی ملکیت ہے اور اُسی ہی نے ہمیں اپنی مملکت میں تصرف بخشا ہے جس کا حساب وہ ہم سے لے گا- لہٰذا ہر امر میں ہمیں اُسی کی طرف رجوع کرنا ہے- اپنی ہر غرض اور ہر طلب کے لئے اُسی سے سوال کرناہے کہ اُس کے سوا اور کوئی چارہ ساز نہیں البتہ مختلف امور کی چارہ سازی کے لئے اُس نے جو اسباب پیدا کئے ہیں اُن سے استفادہ حاصل کرنے یا اُن کی طرف رجوع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ رجوع بھی در اصل اُسی ذات کی طرف رجوع ہے-مطلب یہ ہے کہ مومن کی نگاہ ہر وقت اُس کی توحید پر رہے اور توحید یہ ہے کہ ہر چیز کے باطن میں ذاتِ حق کو دیکھا جائے اور ہر فعل کے پیچھے فاعل ِحقیقی اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھا جائے، اِس کے برعکس سوچ و رویہ شرک کہلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں ظلمِ عظیم ہے کیونکہ ساری کائنات میں اللہ تعالیٰ کے شریک کا کوئی وجود نہیں - اُس کا شریک صرف اِنسان کی اپنی سوچ میں پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی شرک کا رد فرمایا ہے اِنسان کی اِسی سوچ اور اِسی رویے کا رد فرمایا ہے کیونکہ فی الحقیقت تو اللہ تعالیٰ کا شریک ہے ہی نہیں اِسی لئے اللہ تعالیٰ نے بار بار یہی سمجھایا ہے کہ اے انسان! تُوکیوں میرے شریک بناتا رہتا ہے؟ کبھی تُو سورج، چاند اور ستاروں جیسے اجرامِ فلکی کو میرا شریک سمجھ بیٹھتا ہے، کبھی پتھروں اور درختوں کو میرا شریک تصورکر لیتا ہے، کبھی کسی جانور کو میرا شریک سمجھ لیتا ہے ،کبھی صاحب ِاقتدار لوگوں کو اور کبھی اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو میرا شریک ٹھہرا لیتا ہے حالانکہ یہ سب چیزیں میری مخلوق ہیں- تیرے اِس رویے سے میری خدائی میں تو کوئی خلل نہیں پڑتا لیکن تُوخود بے مرکز ہو کرخسارے میں چلا جاتا ہے اور مَیں نہیں چاہتا کہ تُو خسارے کا شکار ہو جائے لہٰذا باز آجا اِس رویے سے-‘‘در اصل سب سے بڑا شرک اِنسان کا اپنی خودی یعنی ’’ مَیں ‘‘ کی پرورش کرنا ہے کیونکہ تمام برائیاں اِسی’’ مَیں‘‘ کی پیداوار ہیں اور یہی’’ مَیں ‘‘ہی اپنے وقت کی فرعون ہے جوہر وقت خدائی کا دعویٰ کرتی رہتی ہے اور اِسی فرعون کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ سزا دیتا چلا آیا ہے-حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دنیا میں تشریف آوری سے چند سال پہلے ابرہہ نامی ایک عیسائی سپہ سالار ہاتھیوں کا لشکر لے کر خانہ کعبہ کو مسمار کرنے آ پہنچا- اُن دنوں خانہ کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے- حاجی لوگ اُن بتوں کی پرستش کرکے اور ننگے بدن خانہ کعبہ کا طواف کرکے حج کیا کرتے تھے- جب وہ خانہ کعبہ منہدم کے لئے اپنے لائو لشکر سمیت آگے بڑھا تو اللہ تعالیٰ نے ابابیل پرندوں کا لشکر بھیج کر اُسے اور اُس کے لشکر کو تباہ و برباد کر ڈالا مگر خانہ کعبہ کے اندر رکھے ہوئے بتوں کو نہ چھیڑا- یہ سارا واقعہ قرآن مجید کی سورۃ الفیل میں درج ہے- اِس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اصل دشمن اور شریک بت نہیں بلکہ اِنسان کا وہ رویہ ہے جس کی نمائندہ اُس کی اپنی’’ مَیں‘‘ ہے- اللہ تعالیٰ نے ابابیل بھیج کر اُس کی’’ مَیں‘‘ کو تو تباہ و برباد کرڈالا مگر بتوں کو نہیں چھیڑا حالانکہ ابرہہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والا تھا اور اُس کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا پیروکار تھا لیکن تھا وہ ’’ مَیں‘‘ کا پجاری- اگر یہ ’’ مَیں‘‘ بندے کے ساتھ حرمِ کعبہ میں ہو یا کسی مسجد میں ہو، حالت ِنماز میں ہو یا حج میں ہو، بندہ مشرک ہی رہتا ہے لیکن اگر بندہ ’’ مَیں ‘‘ سے خالی ہو تووہ جہاں بھی ہو گا موحدہی ہوگا- دیکھتے نہیں کہ بندہ جب مسجد میں با جماعت نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو اکثراُس کے آگے پیچھے دوسرے بندے موجود ہوتے ہیں- کسی کے پیچھے یہ قیام و رکوع و سجود کر رہا ہوتا ہے اور کوئی اِس کے پیچھے قیام و رکوع و سجود کر رہا ہوتا ہے لیکن نہ یہ مشرک ہوتا ہے اور نہ دوسرے مشرک ہوتے ہیں کیونکہ اُس وقت اُس کی سوچ اور اُس کے خیال میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک موجود نہیں ہوتا- نہ تو مسجد کی دیواریں اور ستون اُس کے اندر اللہ تعالیٰ کی توحید کو ضعف پہنچاتے ہیں اور نہ کو ئی بندہ اللہ تعالیٰ کی توحید میںحائل ہوتا ہے کیونکہ اُس کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کے شریک کاکوئی تصور نہیں ہوتااوروہ پکا مومن اور موحد ہوتا ہے- اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ تم جہاں بھی رہو اور جس حال میں رہو اپنے دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کے شریکوں سے پاک رکھو کہ مومن کا دل عرشِ الٰہی ہے- جب دل و دماغ شرک سے پاک ہوگا تو ماحول اور حالات اُسے مشرک نہ بنا سکیں گے، چاہے وہ مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر -مومن کی تو شان ہی یہ ہے کہ شرک کا ارتکاب اُس سے ہوتا ہی نہیں، وہ کبھی بھی اپنے دل و دماغ میں اللہ کے شریک کو جگہ نہیں دیتا- اِسی لئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے-:

’’مجھے اپنی اُمت سے شرک کا کوئی خطرہ نہیں -‘‘

اگر کسی آدمی کو کلمہ طیب ’’ لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ پڑھ لینے کے باوجودبھی کوئی شخص یا کوئی درخت یا کوئی بت یا کوئی پتھر یا کوئی مقام یا کوئی مزار وغیرہ اللہ تعالیٰ کا شریک نظر آتا ہے تو سمجھ لیں کہ اُس نے ابھی کلمہ طیب کو سمجھا ہی نہیں اور وہ ابھی مشرک کا مشرک ہی ہے اور مشرک کی عبادت قبول نہیں ہوتی-

خرد نے کہہ بھی دیا لَآاِلٰہَ تو کیا حاصل؟
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھبھی نہیں

﴿۲﴾قیامت کے دن پراِیمان اِس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو فنا کر دینے کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے- اُس دن کو اپنے مقررہ وقت پر ضرور آنا ہے- اُس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے دنیا میں گزارے ہوئے دنوں کا حساب لے گا- اُن کے برے اعمال پر اُنہیں سزا دے گا اور نیک اعمال پر اجروثواب عطا فرمائے گا- گنہگاروں کو جہنم رسید کیا جائے گا اور نیکو کاروں کو جنت میں داخل کیا جائے گا- جنت میں اللہ تعالیٰ جنتیوں کو اپنا دیدار کرائے گا- پل صراط پر سے بندوں کو گزرنا ہوگا- حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام شفاعت فرمائیں گے اور اُن کے بعد دیگر مقبولانِ حق بھی حسب ِمراتب شفاعت کریں گے- حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سعادت مند لوگوں کو حوضِ کوثر سے سیراب فرمائیں گے - روزِ قیامت کا قیام، پل صراط سے گزرنا، حوضِ کوثر سے سیرابی، روزِ قیامت کے وہ تمام احوال جو قرآن اور دوسری کتب ِالٰہیہ میں آئے ہیں یا جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور دیگر انبیائے کرام نے بیان فرمائے ہیں، سب برحق ہیں-
﴿۳﴾فرشتوںپرایمان لانااِس طرح ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار نوری بندے ہیں- اُن میں نر و مادہ کی تخصیص نہیں ہے- اُن کی تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے- وہ سب ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل اور اُس کے احکام کی بجا آوری میں لگے رہتے ہیں- تمام تکوینی امور وہی سر انجام دیتے ہیں- اُن میں سے چار فرشتے اللہ تعالیٰ کے مقرب اور باقی تمام فرشتوں کے سردار ہیں- اُن کے نام اس طرح ہیں-: جبرائیل علیہ السلام ، میکائیل علیہ السلام ، اسرافیل علیہ السلام اور عزرائیل علیہ السلام-
﴿۴﴾کتب ِالٰہیہ پر اِیمان اِس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوعِ اِنسان کی اصلاح و ہدایت اور رہنمائی کے لئے جو کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے ہیں وہ سب برحق ہیں- اُن میں سے چار بڑی کتابیں ہیں-:٭توریت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی،٭زبور جو حضرت دائود علیہ السلام پر نازل ہوئی،٭انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی اور٭قرآنِ مجید جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی-اِن کے علاوہ پچاس صحیفے حضرت شیث علیہ السلام پر ، تیس صحیفے حضرت ادریس علیہ السلام پر، دس صحیفے حضرت آدم علیہ السلام پر اور دس صحیفے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہوئے-
﴿۵﴾انبیائے کرام پر اِیمان اِس طرح ہے کہ تمام انبیا ٔاور تمام رسول اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں وہ سب کے سب معصوم ہیں یعنی ہر قسم کے گناہ اور عیبوں سے پاک ہیں- اُن کی صحیح تعداد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے- اُن میں سے تین سو تیرہ (313) رسول ہیں- تمام انبیا ٔاور رسول مرد ہیں، کبھی کوئی عورت نبی یا رسول نہیں ہوئی-
سب سے آخر میں تشریف لانے والے نبی حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں-اُن کے بعد کوئی نبی ہوا ہے نہ ہوگا- وہ سب امور جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ سے لائے ہیں بر حق ہیں- جن چیزوں کے کرنے کا آپ نے حکم دیا ہے اُن کا نہ کرنا گناہ اور اُن کا انکارکرنا کفر ہے- اِسی طرح جن باتوں کے کرنے سے آپ نے منع فرمایا ہے اُن کا کرنا گناہ اور اُن کے کرنے پربضد ہونا کفر ہے-ایمان کے بعد محبت ِالٰہی ہی ایسی قوت ہے جو راہِ حق میں صعوبتیں اور سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ بخشتی ہے اور اِنسان ہر قسم کی آزمائش سے ہنستا کھیلتا گزر جاتا ہے- جس دل میں محبت ِالٰہی کا جذبہ موجود ہوگا اُس دل میں کسی اور چیز کا ہونا ناممکن ہے- اِسی لئے اللہ تعالیٰ مومن کو اپنی محبت میں جان و مال کی قربانی سے آزماتا ہے- وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا میری محبت کا دعویدار مومن صرف ایمان کی حد تک ٹکا رہنا چاہتا ہے یا اِس سے آگے بڑھتے ہوئے عشق و محبت کی وادی میں داخل ہو کر دنیا و مافیہا کی ہر چیز کومیری محبت میں قربان کردیتا ہے- لیکن عاشقانِ الٰہی ’’اللہ بس ما سویٰ اللہ ہوس ‘‘کا نعرہ لگاتے ہوئے نغمہ زن ہوتے ہیں-:

ایمان سلامت ہرکوئی منگے،عشق سلامت کوئی ھُو
منگن ایمان شرماون عشقوں دل نوں غیرت ہوئی ھُو
جس منزل تے عشق پہنچاوے ایمان نوں خبر نہ کوئی ھُو
میرا عشق سلامت رہوے باھُو ایمان نوں دیواں دھروئی ھُو

لہٰذا مندرجہ بالا آیت ِمبارک میں ایمان کے بعد محبت ِالٰہی میں مال قربان کرنے کا ذکر فرمایا کہ اگر تم دعوائے ایمان میں سچے ہو تو میری محبت میں اپنا مال خرچ کرکے دکھائو اپنے قریبی رشتہ داروں پر، یتیموں پر، محتاجوں پر، مسافروں پر، مانگنے والوں پر اور غلاموں کو آزاد کرانے پر- اِس میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ مال صرف محبت ِالٰہی کی خاطر خرچ کرو نہ کہ اپنے ننگ و ناموس کی خاطر یا اپنی نمود و نمائش کی خاطر یا کسی کو زیرِ بارِ احسان کرنے کی خاطر یا اجر و ثواب کی خاطر کہ یہ سب ریا کاری اور سوداگری ہے لیکن-:

سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
۱ے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

ایمان اور محبت الٰہی کے بعد اعمالِ صالحہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان اور محبت ِالٰہی کا تقاضا ہے کہ تم میری حاکمیت کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہوئے نماز کو قائم کرو، زکوٰۃ دو اور جب کسی سے عہد کرو تو اُسے پورا بھی کرو کہ اپنے وعدوں کو ایفا نہ کرنے والے میرے قرب کے قابل نہیں ہوتے- علاوہ ازیں میری راہ میں جہاد
کرتے ہوئے سختی و تنگدستی پیش آ جائے تو صبر اختیار کرو کہ-:

یقین محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں یہ ہیں مردوںکی شمشیریں

یاد رہے کہ صبر کی تین شرائط ہیں-:
﴿۱﴾ ترکِ شکایت: یعنی راہِ حق میں جب کوئی دکھ یا تکلیف یا تنگی و سختی پیش آجائے تو اُس کا ذکر نہ تو قول سے کیا جائے اور نہ ہی فعل سے کہ ایسا کرنا گویا اللہ تعالیٰ کی شکایت کرناہے کیوں کہ اِنسان پر ہر حالت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارد ہوتی ہے-
﴿۲﴾ قبولِ قضا : یعنی راہِ حق کی ہر سختی اور تنگی کو اللہ تعالیٰ کی قضا سمجھ کر زبان پرحرفِ شکایت لائے بغیرخوشی سے قبول کر لیا جائے -
﴿۳﴾ صدق و رضا: یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے پورے صدق اور اخلاص سے کوشش کی جائے-
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہونے کے لیے یہ چار عوامل ہیں، ﴿۱﴾ ایمان ﴿۲﴾ محبت ِالٰہی ﴿۳﴾ اعمالِ صالحہ اور ﴿۴﴾ خلوصِ نیت سے جدوجہد اور صبر- اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِس نعمت سے مالا مال فرمائے - آمین!


وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٰ مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰٰلِہٰ وَاَصْحٰبِہٰ وَاَہْلِ بَیْتِہٰ اَجْمَعِیْنَ o

کلامِ اقبال

یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبحگاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقامِ پادشاہی
تری زندگی اِسی سے، تری آبرو اِسی سے
جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تورُوسیاہی
تُو عرب ہو یا عجم ہو تر ا لَآ اِلٰہَ اِلَّا لغت ِ
غریب ، جب تک ترا دل نہ دے گواہی
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل
یہی ہے تیرے لئے اَب صلاحِ کار کی راہ
حدیث دل کسی درویش بے گلیم سے پوچھ
خداکرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ
اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی ، نہ محبت ، نہ معرفت ، نہ نگاہ
فقر کے معجزات تاج و سریر و سپاہ
فقر ہے میروں کا میر، فقر ہے شاہوں کا شاہ
علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفت قلب و نگاہ
علم فقیہہ و حکیم ، فقر مسیح و کلیم
علم ہے جو یاے راہ، فقر ہے داناے ر اہ
فقر مقام نظر، علم مقام خبر
فقر میں مستی ثواب، علم میں مستی گناہ
علم کا ’’موجود‘‘ اور ، فقر کا ’’ موجود‘‘ا ور
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلہَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ
چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغ خودی
ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کار سپاہ
دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہو
تیری نگہ توڑ دے آئینہ مہر و ماہ
کیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تُو نے
گزاری عمر پستی میں مثالِ نقش پا تُو نے
رہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کو
کیا بیرونِ محفل سے نہ حیرت آشناتُو نے
فدا کرتارہادل کو حسینوں کی اداؤں پر
مگر دیکھی نہ اِس آئینے میں اپنی ادا تُو نے
تعصب چھوڑ ناداں ! دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے بُرا تُو نے
زمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے
غضب ہے سطرِ قرآں کو چلیپا کر دیا تُو نے
زباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل؟
بنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تُو نے
ہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی
نصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی
دکھا وہ حسنِ عالم سوز اپنی چشمِ پُر نم کو
جو تڑپاتا ہے پروانے کو ،رلواتا ہے شبنم ک
نرا نظارہ ہی اے بو الہوس! مقصد نہیں اُس کا
بنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشمِ آدم کو
اگر دیکھا بھی اُس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا؟
نظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو
شجر ہے فرقہ آرائی ،تعصب ہے ثمر اُس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو
نہ اُٹھا جذبۂ خورشید سے اِک برگِ گل تک بھی
یہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اُڑتی ہے شبنم کو
پھرا کرتے نہیں مجروحِ اُلفت فکر ِ درماں میں
یہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کو
محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرہ سے بیج سے پیدا ریاضِ طور ہوتا ہے
جو تُو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میں
غلامی ہے اسیرِ اِمتیازِ ما و تُو رہنا
شرابِ روح پرور ہے محبت نوعِ اِنساں کی
سکھایا اِس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا