• image01

    وفی انفسکم افلا تبصرون (51:21)

    اورمیں خود تمہارے نفوس میں ہوں
    تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

  • image02

    ففروا الی اللہ (51:50)

    دوڈو اللہ کی طرف

  • image03

    الفقرو فخری والفقر و منی - الحدیث

    فقر میرا فخر ہے
    اور فقر مجھ سے ہے

رو حا نی وفود

قرآن ِ حکیم میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا ارشاد ھے: [ اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ھونی چاھئے جو لوگوں کو بھلائی اور نیکی کی دعوت دے اور معرفتِ حق تعالیٰ کی تلقین کرے اور برائی سے روکے یھی لوگ فلاح یافتہ ھونگے ] اگر بغور دیکھا جائے تو رسالت مآب ﷺ سمیت تمام انبیأ علیھم السلام کی زندگیاں [ففرو الیٰ اللہ] کہ دوڑو اللہ کی طرف کا پیغام دیتے گزری ھیں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے راستے کی طرف بلانا اور لوگوں کو اس کی راہنمائی فراھم کرنا انبیا علیھم السلام کی سنتِ عظیم ھے ۔ اِس دعوت کی خاطر انبیا علیھم السلام اور امام الانبیا ﷺ نے نہ جانے کتنے مصائب و آلام برداشت کئے اور کیا کیا صعوبتیں اٹھائیں ۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ گرامی پر سلسلۂ نبوت ختم ھوا اور اس کے بعد دعوت الیٰ اللہ کا عظیم فریضہ خلفائے راشدین و صحابۂ کرام و اہلِ بیتِ اطھار رضوان اللہ علیھم اجمعین نے سر انجام دیا اور بعد ازاں اولیائے کاملین و علمائے ربانیین نے اس فریضے کو نبھایا اور اس میں کوئی شک و شُبہ نہیں کہ اسلام کی ترویج اس کے آغاز سے لے کر آج تک دعوت و عمل سے ھوئی ھے گویا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی دعوت کو عوام الناس میں لے کر جانا ھمارے ایمانی و ایقانی فرائض میں شامل ھے ۔

حضرت سلطان محمد اصغر علی نے جب اصلاحی جماعت کی بنیاد رکھی تو اس وقت آپ نے خانقاہِ عالیہ حضرت سلطان باھو کے لاکھوں ارادتمنگان میں سے چند ایک کو منتخب فرمایا اور ان کے لئے دعوت و تبلیغ کا با ضابطہ نصاب مرتب کروایا اور تربیت کے پیمانوں کو پورا کرنے کے بعد آپ نے مختلف تبلیغی وفود تشکیل دئے اور امن کی سفید دستاریں ان کے سر پر سجا کر قُوّتِ عمل سے لبریز فرماکر دعوتِ الیٰ اللہ اور اصلاحِ معاشرۂ انسانی کے لئے انہیں عوام الناس میں بھیجا اور آپ نے آھستہ آھستہ ان مبلغین کی تربیت فرما کر ان کی تعداد میں اضافہ کیا اور اس وقت (الحمد للہ) پاکستان اور دیگر متعدد ممالک میں اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مبلغین مسلسل تبلیغِ دین اور دعوت الیٰ اللہ کا عظیم فریضہ سر انجام دے رھے ھیں ۔ بتوفیقِ الٰہی آج لاکھوں لوگ اس جماعت کی بدولت راہِ حق تعالیٰ میں مشغول بہ عمل ھیں ۔

جو حضرات و خواتین قرآن و سنت پر مبنی اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے تربیتی نصاب کی تربیت مکمل کر لیتے ھیں انہیں [امیر] یا [مبلغ] کی بجائے [صدر] کے لقب سے ملقب کیا جاتا ھے یعنی [صاحبِ صدر] کہ جس کا سینہ قرآن و سنت اور ذکر الٰہی کے نور سے روشن ھو جائے ۔ کم از کم چار چار صدور حضرات پر مشتمل وفود تشکیل دئے جاتے ھیں اور انہیں مساجد ، مارکیٹس اور دیگر پبلک مقامات کی طرف روانہ کیا جاتا ھے جھاں جا کر وہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے حکم کے تحت لوگوں کو بھلائی اور نیکی کی دعوت دیتے ھیں اور معرفتِ حق تعالیٰ کی تلقین کرتے ھیں اور برائی سے روکتے ھیں اور بتاتے ھیں کہ اللہ کی راہ ھی فلاح کی راہ ھے ۔