• image01

    وفی انفسکم افلا تبصرون (51:21)

    اورمیں خود تمہارے نفوس میں ہوں
    تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

  • image02

    ففروا الی اللہ (51:50)

    دوڈو اللہ کی طرف

  • image03

    الفقرو فخری والفقر و منی - الحدیث

    فقر میرا فخر ہے
    اور فقر مجھ سے ہے

سیمینار

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین حضرت سلطان باھو کی خانقاہِ عالیّہ سے معرضِ وجود میں آنے والا ایسا عظیم پلیٹ فارم ھے جو تفریق و تقسیم سے مبرا اور مسلک و فرقہ کی انائے بے جا سے پاک ھے ۔ کیونکہ جب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرما دیا کہ [ الیوم اکملت لکم دینکم ] کہ آج ھم نے دین کو مکمل کر دیا ھے تو اس کے بعد دین میں دین ھی کی شناخت کے علاوہ کسی اور شناخت کی گنجائش نہیں رہ جاتی جس طرح حضرت سلطان باھو اپنے کلام میں ارشاد فرماتے ھیں


نہ میں سنی نہ میں شیعہ میرا دوھاں توں دل سڑیا ھُو


دیگر بھی کثیر اکابرین نے اسی بات پر زور دیا کہ دین کی بقا اسی میں ھے کہ دین کے نام لیوا اپنی مختلف لسانی ، علاقائی ، نسلی ، مسلکی اور سماجی شناختوں کی بجائے دین ھی کی شناخت کو اپنائیں ۔ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین عالمِ اسلام میں موجود قدرِ مشترک اور دردِ مشترک پر اتحاد و یکجھتی قائم کرنے کی سعی پر گامزنِ عمل ھیں ۔ اللہ سبحانۂ وتعالیٰ کا پاک کلام ھمیں یھی بتاتا اور سکھاتا ھے کہ مکہ کی بے آب و گیاہ سنگلاخ وادی میں پانی تلاش کرنے کی پر خلوص سعی کرنا حضرت ھاجرہ رضی اللہ عنھا کے ذمہ تھا اور ننھے و معصوم حضرت اسماعیل کے قدموں سے معجزانہ طور پر پانی کا چشمہ جاری کر دینا اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا اس سعیٔ پر خلوص پر انعام ھے ۔ اس لئے اس مشکل مگر اھم ترین کارِ خیر کی پر خلوص اور مسلسل سعی کرنا ھر مسلمان کے ذمہ ھے اور اس سعیٔ مسلسل کے نتیجے میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ملتِ اسلامیہ کو یقیناً اتحاد و یکجھتی کے انعام سے ضرور نوازیں گے ۔ یھاں یہ بات ذھن نشین رکھنی ضروری ھے کہ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین امتِ مسلمہ کے مابین محدود وقت اور محدود نوعیت کے اتحاد کی مساعی کی بجائے امتِ مسلمہ کے مابین وسیع تر اتحاد کی مساعی کر رھی ھے تاکہ نہ صرف یہ کہ مسلمانانِ عالَم مختلف مذھبی و سیاسی تقاسیم سے آزاد ھوں بلکہ اپنے ممالک میں سماجی و معاشی انصاف ، تعلیم ، صحت ، روزگار ، جان و مال و عزت و آبرو کا تحفظ ، امنِ عامہ اور دیگر بنیادی انسانی حقوق کے فروغ اور نفاذ سمیت داخلی ، خارجی ، دفاعی و تجارتی سطح پر مل جل کر کام کریں جس طرح کہ دنیا کی دیگر اقوام اپنے مسائل کے حل کے لئے متحد ھوئی ھیں مثلاً برِّ اعظم امریکہ میں [ متحدہ ریاست ھائے امریکہ ] ، برِّ اعظم یورپ میں [ یورپین یونین ] ، برِّ اعظم افریقہ میں [ افریقن یونین ] جنوبی ایشیأ میں [ سارک ] خلیجی ممالک میں [ خلیج تعاون تنظیم ] وسطی ایشیا میں [ شنگھائی تعاون تنظیم ] ۔ مذکورہ تنظیمات متعلقہ خطوں کے ممالک کی عوام کی قدرِ مشترک اور دردِ مشترک پر معرضِ وجود میں آئی ھیں اس لئے اسلامیانِ عالم کو بھی ایک علیحدہ و ممتاز قوم ھونے کی حثیت سے دیگر اقوام کی طرح یہ حق پہنچتا ھے کہ یہ اپنی قدرِ مشترک اور دردِ مشترک پر متحد و یکجھت ھو جائیں ۔

اس فکر کو آگے بڑھانے کے لئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے زیرِ اھتمام مختلف نوعیت کی بڑی و چھوٹی تقریبات (کانفرنسز ، سیمینارز) کا انعقاد کیا جاتا ھے جن میں مختلف مذھبی و سیاسی و دفاعی مدبرین و مفکرین کو مدعو کیا جاتا ھے تاکہ عامۃ الناس میں اس سطح کا شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز ادروں اور اتھاریٹیز کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جا سکے ۔