• image01

    وفی انفسکم افلا تبصرون (51:21)

    اورمیں خود تمہارے نفوس میں ہوں
    تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

  • image02

    ففروا الی اللہ (51:50)

    دوڈو اللہ کی طرف

  • image03

    الفقرو فخری والفقر و منی - الحدیث

    فقر میرا فخر ہے
    اور فقر مجھ سے ہے

متاعِ مُصطفےٰ ﷺ ﴿ فقرِ محمدی (ص) اور افکارِ اقبال ﴾

تحریر: صاحبزادہ سلطان احمد علی

۹/ نومبر ۶۰۰۲ئ کو پشاور پریس کلب میں یومِ اقبال کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں بندہ ناچیز کو شرکت کا موقعہ مِلا جہاں پروفیسر پریشان خٹک ﴿مرحوم ﴾ اور پشاور کے دیگر عظیم الفکر لوگوں سے استفادہ میسّر آیا اُس تقریب میں معروف شاعر جناب طٰہٰ خان نے ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کا ایک جملہ کہا جو آج تک میرے شعور و لا شعور میں نغمہ فگن رہتا ہے کہ

’’ یوں تو اقبال قرآن کا شاعر ہے مگرشاعروں کا بھی قرآن ہے ‘‘

گویا ایک شاعر کے لئے جہاں قرآن کا مطالعہ لازم ہے وہاں اقبال کی قرآنی فکر کا مطالعہ بھی لازم ہے کہ اقبال کی فکر کی پختگی کو قرآن ہی نے ابدی و آفاقی بنیادیں فراہم کی ہیں گوکہ ہمارے بہت سے نام نہاد اہلِ زبان اور پست فکر ترقی پسند افکارِ اقبال کے متعلّق اپنی آرأ کا اظہار اپنے فکری میلان کے تحت کرتے رہتے ہیں اور اِس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ کسی طرح اِس معاشرے سے اقبال کا رواج معدوم اور متروک کیا جا سکے جو کبھی اقبال کو اہلِ زبان نہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور کبھی اُن کی فکر کو آفاقی ماننے سے گریز کرتے ہیں اور کبھی اُنہیں فکریاتِ اسلام کی جدید تحریک کا رہنمأ ماننے کی بجائے ﴿ بادلِ نخواستہ ﴾ ’’شاعر اقبال ‘‘ کے طور پر سراہ کر ہی مسرور رہتے ہیں ۔ اقبال کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اِس طرح کے اِلزامات اُن کی اپنی زندگی میں اُن پر آنا شروع ہو گئے تھے جن کا جواب اقبال نے خُود اپنی زبان و قلم سے دے دیا جس پر بحث کی گنجائش تو یقینا رہتی ہے مگر مؤقّف وہی درست سمجھا جائے گا جو اقبال نے اپنی ذات کے متعلّق خود قائم کیا ۔

مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرمِ رازِ درُونِ مئے خانہ

اقبال کی تمام تر شعری اور نثری تحریک تسلسل ہے امام غزالی کی ’’ احیأ العلُوم الدّین ‘‘ کا ۔ اگر اقبال کے فارسی و اُردُو کلیّات ، خطبات ، مضامین ، مکاتیب اور مختلف ﴿Statements ﴾ کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے تو کوئی حرج نہیں کہ اُس کا نام ’’ گلشنِ راز ﴿جدید﴾ ‘‘ کی طرح ’’ احیأ العلُوم الدّین ﴿جدید﴾ ‘‘ رکھ دیا جائے ۔ چونکہ اقبال کی فکری تحریک کا محور و مرکز فکریاتِ اسلامی کو عہدِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسلامی تہذیب و تمدُّن پر چڑھی مختلف علاقائی و نسلی خلعتوں کو چاک کرکے اسلام کی عالمگیریّت کو نکھارنا ہے جس کا صحیح چہرہ ہمیں عہدِ رسالت مآب ﷺ اور آپ کے خُلفائے راشدین کے زمانے میں نظر آتا ہے کہ جب اسلامی تہذیب پر عربی یا عجمی برتری کے احساس کو مٹا دیا گیا تھا بد قسمتی سے بعد میں عرب طریقۂ بادشاہت کو نظامِ اسلامی اور عرب روایات کو تہذیبِ اسلامی﴿ Conceder﴾ کیا جانے لگا اور یہ مروّج ہو گیا ۔ تحریکِ پاکستان کی وہ دستاویز ’ جس نے اِس کے وجُود کو جواز فراہم کیا ‘ یعنی ۰۳۹۱ ئ کے خُطبۂ اِلٰہ آباد میں بھی اقبال نے یہی کہا کہ اُس مجوّزہ ریاستِ اسلامی میں ہمیں یہ موقعہ میسّر آئے گا کہ ہم عرب بادشاہت اور کلچر کی چھاپ سے تہذیبِ اسلامی کو بلند کر کے عہدِ جدید کے تقاضوں کے مطابق آزماسکیں گے اور نافذ العمل کر سکیں گے ۔ جب کسی چیز کو آفاقی ، ابدی ، عالمگیر یا دوامی کے لقب سے مُلقّب کیا جاتا ہے تو اُس کا واضح مطلب یہی ہوتا ہے کہ ایسی تہذیب جو کسی مخصُوص خطّہ یا علاقہ کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیّت کے لئے ہے بلکہ اِس سے بھی آگے بہت آگے یعنی اُن تمام نظام ہائے شمسی کے لئے جو ابھی تک چشمِ انسان کے نظاروں سے اوجھل ہیں ۔ شاید اِس سے کم اِس کا کوئی معیار مقرّر نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’رحمۃ اللعالمین ‘‘ کسی ایک عالَم یا ایک نظامِ شمسی تک محدود نہیں ۔ جسے اقبال رموزِ بیخودی میں ’’عرضِ حالِ مصنّف بحضورِ رحمۃ اللعالمین ‘‘ میں اِن الفاظ سے کہتے ہیں :

شش جہت روشن زِ تابِ رُوئے تو
تُرک و تاجیک و عرب ہندوئے تو
از تو، بالا پایۂ ایں کائنات
فقرِ تو، سرمایۂ ایں کائنات

ترجمہ : ’’ اِس کائنات کا ہر پہلو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کی چمک دمک سے روشن ہے تُرک ہوں تاجک ہوں یا عرب ، سب آپ ﷺ کے غُلام ہیں ۔ اِس ﴿تمام﴾ کائنات کا رُتبہ صرف آپ ﷺ کی بدولت اونچا ہے اور اِس ﴿تمام کائنات﴾ کی دولت آپ ﷺ کے فقر کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ‘‘

اقبال کے نزدیک حضور رسالت مآب ﷺ کا فقر شش جہاتِ کائنات کا احاطہ کرتا ہے اور دُنیا کے تمام عوالم و عوامل پر محیط ہے حضور رسالت مآب ﷺ کے فقر کے امین اِسی فقر کی طاقت سے ہی کائنات کو مسخّر کرتے ہیں ۔

فقرِ مومن چیست؟ تسخیرِ جہات
بندہ از تاثیرِ اُو مولیٰ صفات
فقر بر کرّوبیاں شب خوں زَنَدْ
بر نوامیسِ جہاں شب خوں زَنَدْ

ترجمہ: ’’ مومن کا فقر کیا ہے ؟ کائنات کو مسخر کرنے کانام فقر ہے اِسی فقر کی تاثیر سے مومن صفاتِ الٰہیّہ سے مُتصف ﴿ یعنی اخلاقِ الٰہیّہ سے متخلّق ﴾ ہوجاتا ہے ۔ فقر ﴿ نہ صرف ﴾ فرشتوں بر شبخون لگاتا ہے ﴿ یعنی برتری قائم رکھتا ہے ﴾ بلکہ قدرت کی پوشیدہ قوّتوں کو بھی اپنے شبخون کی زد پر لاتا ہے ﴿ یعنی زیرِ فرمان لاتا ہے ﴾ ۔ ‘‘

گویا انسان کے افکار و اعمال میں عالمگیرو آفاقی نوعیّت کی وُسعت فقرِ محمّدی ﷺ کے حصُول سے نصیب ہوتی ہے جو اُس کے فکر و عمل کے مقاصد کو رفعت میں ثریّا کے ہمدوش کرتی ہے اور انسان اِس قدر بلندی کو چھونے لگتا ہے کہ عرشِ اعظم سے بھی ماوریٰ اُس مکان میں سکونت کا ارادہ مند ہوجا تا ہے جسے رفعتِ لامحدود کی وجہ سے لا مکان کہتے ہیں فقر کا یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے پاؤں زمان و مکان کی زنجیر سے آزاد محسُوس کرتا ہے یہیں وہ اِس سبق کا مُسبّق اور اِس درس کا مُدرِّس بنتا ہے کہ :

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُنّاری
زمان ہے نہ مکاں لا اِلٰہ الّا اللہ

زمان و مکان کی حدود و قیود سے نجات کے وقت مومن وہی تمکنت محسوس کرتا ہے جو مومنین کے لئے اُس تمکنت سے مستعار ہے جو صُورِ اسرافیل پھونکے جانے پر ظُلمت کدۂ خاک سے نجات ملنے کے بعد مومنین محسوس کریں گے کیونکہ اُس کے بعد لافانی زندگی کا آغاز ہوگا زمان و مکان کی قید و بند سے آزادی بھی حیاتِ جاودان کے حصُول کا دوسرا نام ہے جس کے بعد اُس پر نعمتِ فقر کا اتمام ہوجاتا ہے جسے یہ دولتِ عظمیٰ نصیب ہو جائے وہ داخلی و خارجی طور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا محتاج نہیں رہتا اور فقر کا تو خاصہ ہی یہی ہے کہ

الفقر لا یحتاج
فقر کسی کا محتاج نہیں ۔ بقولِ حضرت سُلطان باھُو (رح)

لا یحتاج جنہاں نوں ہویا فقر تنہاں نوں سارا ھُو
نظر جنہاں دی کیمیا ہووے اوہ کیوں مارن پارا ھُو

لا یحتاج ہوجانا کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ اثبات ہے توحیدِ باری تعالیٰ پر قوی ایمان اور قُوّتِ توحید سے مقوّی ہو جانے کا ۔ کہ جب تک انسان فقرِ محمدی ﷺ کی دولت سے سرفراز ہوکر اخلاقِ اِلٰہیّہ سے متخلّق نہیں ہوجاتا اُس وقت تک وہ مادیّت کے ترشے ہوئے کسی نہ کسی بت کی احتیاج ضرور رکھتا ہے جس وجہ سے مومن کا وہ خاصہ ’جو عملِ اسلاف کا سب سے تابندہ پہلُو ہے جسے ہم ’’بے نیازی ‘‘ کی صفت سے جانتے ہیں‘ پیدا ہی نہیں ہوتا یہی بے نیازی ہی تو ہے جو مومن کو ’’ایک‘‘ کی نیازمندی عطأ کر کے دربدر کی گداگری سے نجات دیتی ہے اور مومن اُس ایک بے نیاز کے سوا سب سے بے نیاز ہوجاتا ہے یعنی اپنے خالق کریم کی صفات سے متّصف ہوتے ہوئے کسی کا نیاز مند نہیں رہتا ۔

ہمَّت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
جس فقر کی اصل ہے حجازی
اِس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شانِ بے نیازی

فقر کی ادا ہائے بے نیازی کی ایمان افروز مثالوں سے تاریخِ اَسلاف کے دفاتر ہا سنہرے ہوئے ملتے ہیں کہ کس طرح نگاہِ فقر و رسالت نے اُن کے اذہان و قلوب کو ’’ ایک ‘‘ کے سوا سب سے بے نیاز ، بے خوف و بے خطر کردیا تھا ۔ فقرِ محمدی ﷺ کی یہ شانِ بے نیازی معرکۂ قادسیّہ کے شروع ہونے سے قبل کی سفارت میں پوری طرح عیّاں ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص نے امیر المؤ منین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے حکم سے بارہ مجاہدینِ اِسلام پر مُشتمل سفارت روانہ فرمائی وہ سفرائے اِسلام جس شانِ بے نیازی سے شہنشاہِ ایران یزد گرد کے دربار میں داخل ہوئے اور جس زبانِ بے نیازی سے حضرت نعمان بن مقرن اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہما نے دعوتِ اِسلام پیش فرمائی قصرِ مدائن کے درو دیوار نے وہ جلالِ مومنانہ اور ادائے بے نیازی اُس سے قبل کہاں دیکھی تھی ۔ مومن کی اِنہی اداہائے بے نیازی کو اقبال دین کی قوت کے طور پر لیتے ہیں:

حکمتِ دیں، دِلنوازی ہائے فقر
قُوّتِ دیں، بے نیازی ہائے فقر

ترجمہ : ’’ دین کی حکمت تو فقر کی ادا ئے دلنوازی ہے مگر دین کی قُوَّت فقر کی ادائے بے نیازی ہے ۔ ‘‘

بے نیازی ہائے فقر کے کمالات میں سے یہ بھی ہے کہ مومن اپنا نفع ، نفعِ دین اور اپنا حرج ، حرجِ دین کو تصوُّر کرتا ہے یعنی اپنی ملکیّت حتّیٰ کہ جان بھی قربان کر کے اگر دین یعنی مقصدِ اِلٰہی کو نفع پہنچتا ہے تو وہ اِسی کو اپنا نفع گردانتا ہے اور اُس قربانی سے دریغ نہیں کرتا ۔ اگر کسی کام کے ہوجانے سے اُسے ذاتی حیثیّت میں فائدہ ہو مگر دین کا حرج ہو تو وہ اُس کام کو خُود اپنا حرج سمجھتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اُس کے دائرۂ اختیار سے وہ کام سرزد ہو کیونکہ اُس نے اپنا آپ دین کے سپرد کر دیا ہوتا ہے جب تک مومن اپنے ایمان کو تسلیم و رضا کے اِس معیار پر نہیں لے آتا تب تک اللہ تعالیٰ کی حاکمیّتِ اعلیٰ کے سامنے خود اُس کا اپنا نفس حاکم بن کر رکاوٹ بنا بیٹھا ہوتا ہے کیونکہ چاہتیں صرف دو ہیں ایک اللہ کی دوسری نفس کی ! یہ بندے کے اختیار میں ہے کہ اپنی چاہت اللہ کی چاہت کے سپرد کردے اور فقر کی نعمت دامنِ دِل میں سمیٹ لے یا اپنی زندگی خواہشاتِ نفس کی تکمیل میں ضائع کرکے بے مقصد و ناشاد بسر کرے ۔ متاعِ مصطفےٰ ﷺ یعنی فقر کی امانتِ عظیم کا امین وہی ٹھہرتا ہے جو تسلیم و رضا کے اِس پیمانہ پر اپنے ایمان کی بُنیاد رکھتا ہے ۔ یہاں اقبال ہمیں رہنمائی دیتے ہوئے کہتے ہیں

فقر، ذوق و شوق و تسلیم و رضا ست
ما امینیم، ایں متاعِ مُصطفےٰ ست

ترجمہ : ’’ فقر ذوق ، شوق اور تسلیم و رضا کا نام ہے یہی ﴿ فقر ہی تو ﴾ مصطفےٰ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی متاع ہے اور ہم اِس ﴿ اما نت ﴾ کے امین ہیں‘‘ ۔

حضور رسالت مآب ﷺ نے فقر کے علاوہ کسی چیز پر فخر نہیں فرمایا فقر ہی وہ متاع ہے جسے حضور رسالت مآب ﷺ نے اپنے فخر کی متاع قرار دیا۔ جو سینہ متاعِ مُصطفےٰ ﷺ کا امین ہوتا ہے اُس کی نگاہوں میں شانِ سکندری کوئی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ فقر سے مومن اس قدر مستغنی ہو جاتا ہے کہ جاہ و دولتِ دُنیا کی چمک دمک اُس کی آنکھوں کو خِیرہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی تخت و تاج اُن کا مقصُودِ زندگی ہوتا ہے کہ ظاہری راج سنگھاسن کانٹوں کی سیج ہے اور چمنستانِ جمالِ الٰہی کے لالہ زاروں کے مقیم اپنے دامن کو مادیّت کے کانٹوں سے بچائے رکھتے ہیں کہ فقر خود ایک شہنشاہی کا نام ہے جو باطن کی لا انتہا کائنات پر تو محیط ہے ہی ، فقر اپنا سکّہ ظاہر کی کائنات پر مروّج کر کے اِسے بھی تطہیر عطأ کرتا ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیّت کو قائم کرتا ہے ۔ بقولِ اقبال

ع چوں بہ کمال می رسد فقر دلیلِ خسروی ست

فقر ہی تو وہ طاقت ہے جو استبدادی و استدراجی قوّتوں کے چنگل سے انسانیت کو آزاد کراتا ہے اور حریّت ، اخوّت اور مساوات پر مبنی عالمگیر معاشرہ کا قیام عمل میں لاتا ہے اقبال کے نزدیک انسانیت کی حفاظت اِسی میں ہے کہ فقر اپنے باطن کی معراج کے حصُول کے بعد سُنّتِ نبوی ﷺ کے مطابق اپنے معاشرے کی اصلاح اور نفاذِ احکامِ الٰہی کے لئے نظامِ الٰہی کی تشکیل و تنفیذ کی جد و جہد کرتا ہے ۔

اِسی میں حفاظت ہے انسانیّت کی
کہ ہوں ایک جُنّیدی و اردشیری

اقبال کا مُدّعا یہ ہے کہ انسانیت کی حفاظت اِسی طور ممکن ہے کہ فقر و سلطنت باہم دگر پیوست ہو جائیں درج بالا شعر میں اقبال نے ’’ جنیدی ‘‘ استعارہ لیا ہے حضرت جنید بغدادی کے فقر سے اور ’’ اردشیری ‘‘ استعارہ لیا ہے شہنشاہِ فارس اردشیر کی قُوتِ سلطنت سے ۔ ایک اور مقام پر اقبال نے ایک اور خوبصورت مثال پیش کی ۔

تیغِ ایُّوبی نگاہِ بایزید
گنج ہائے ہر دو عالَم را کلید

ترجمہ : ’’ صلاح الدّین ایوبی کی تلوار اور بایزید بُسطامی کی نگاہ کا اشتراک کونین کے پوشیدہ خزائن کی چابی ہے‘‘ ۔

اقبال کی نظر میں فقر و سلطنت میں زیادہ فرق نہیں دونوں ہی عملِ تیغ بازی ہیں اگر کوئی فرق ہے تو محض اتنا کہ اوّل الذّکر نگاہ کی تیغ بازی ہے اور آخر الذّکر سپاہ کی تیغ بازی ہے ۔

خسروی شمشیر و درویشی نگاہ
ہر دو گوہر از محیطِ لااِلٰہ

ترجمہ : ’’ سلطنت کارِ سپاہ ہے اور فقر کارِ نگاہ ہے اِن دونوں موتیوں کی وجہِ دمک بُنیادِ لااِلٰہ ہے ‘‘ ۔

فقر اور سلطنت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ سلطنت قُوّت و اختیار کے ذریعے فقر کے فیصلوں کو عملی جامہ پہناتی ہے گویا فقر کلیمی ہے اور سلطنت عصائے کلیمی ۔ اقبال کے بقول

ع عصا نہ ہو کلیمی ہے کارِ بے بُنیاد
ع وحدت کی حفاظت نہیں بے قُوّتِ بازُو

جس طرح فقر استقامتِ فرد کے لئے لازم ہے اُسی طرح سلطنت استحکامِ مِلّت کے لئے لازم ہے اقبال کے نزدیک یہ دونوں اپنی نشو و نمأ توحید سے پاتے ہیں فرق ہے تو صرف اتنا کہ فقر توحید کی تجلّیٔ جمال کی نمود ہے اور سلطنت توحید کی تجلّیٔ جلال کی نمود ہے ۔فقر وراثتِ سلمان فارسی(رض) ہے اور سلطنت وراثتِ سلیمان پیغمبر (ع) ہے ۔

فرد از توحید لاہوتی شود
ملّت از توحید جبروتی شود
بایزید و شبلی و بوذر ازوست
اُمّتاں را طُغرل و سنجر ازوست
ہر دو از توحید می گیرد کمال
زندگی ایں را جلال آں را جمال
ایں سلیمانی ست آں سلمانی است
آں سراپا فقر، ایں سُلطانی است

ترجمہ : ’’فرد قُوّتِ توحید سے پروازِ لاہوتی پا لیتا ہے جبکہ ملت اِسی سبب سے غالب و حکمران ہو جاتی ہے ۔ بایزید بسطامی (رح) ، ابو بکر شبلی (رح) اور ابو ذر غفّاری(رض) اِسی قُوّت سے بنے اور ملتوں کو سنجر و طُغرل کی شان و شوکت اِسی قُوّت سے ملی ۔ اِن دونوں ﴿یعنی فقر و سلطنت﴾ کا کمال و عروج توحید ہی سے کامل ہوتا ہے زندگی اِس ﴿ مِلّت / سلطنت ﴾ کو جلال اور اُس ﴿ فرد / فقر ﴾ کو جمال بخشتی ہے ۔ جلال سُنّتِ سلیمان علیہ السّلام ہے اورجمال سُنّتِ سلمان فارسی (رض) ہے ۔ جمال سراپا فقر ہے اور جلال سراپا سُلطانی ہے ‘‘ ۔

اقبال مسلمان بادشاہوں ، فقرأ ، صحابہ اور انبیأ کی امثالِ با کمال پر فقر کے ساتھ سلطنت کے لازم ہونے کے مقدمہ کے دلائل روک نہیں دیتے بلکہ اِن دونوں کو حضور رسالت مآب ﷺ کے فیضِ رُوحانی کا حاصل قرار دیتے ہیں ۔

فقر و شاہی وارداتِ مُصطفےٰ ست
ایں تجلّی ہائے ذاتِ مُصطفےٰ ست

ترجمہ : ’’ فقر اور سلطنتِ اسلامی ﴿ یہ دونوں ﴾ مصطفےٰ ﷺ کی عطائے روحانی ہیں یہ دونوں مُصطفےٰ ﷺ کی ذاتِ بابرکات کی تجلیّات میں سے ہیں ‘‘۔

راقم الحروف اپنے ناقص العلم ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ ’’خطبۂ حجۃ الوداع‘‘ ارشاد و تلقینِ فقر ہے یا دستور و آئینِ سلطنت ؟ کیونکہ اُس خطبہ کو جب انفرادی زندگی میں نافذِ جاں کرنے کی سعی ہوتی ہے تو لگتا ہے یہ تعویذ ہے اُسی خطبہ کو جب اجتماعی زندگی میں نافذ العمل کیا جاتا ہے تو وہ تعزیر معلوم ہوتا ہے گویا جو فقر سلطنت سے جُدا ہو جائے وہ رہبانیّت و استدراج کا متروّج ہے اور اگر سلطنت فقر سے جدا ہو جائے تو وہ لادینیّت و استبداد کی متروّج ہے ۔ اگر فقر کی ڈیوٹی ویرانوں میں ہرزہ گردی و صحرا نَوَرْدی ہی ہوتی تو حضور رسالت مآب ﷺ زندگی کی عمیق گہرائیوں سے متعلّق آدابِ زیست مقرر نہ فرماتے نہ ہی قرآنِ حکیم میں قوانین مرتّب کئے جاتے یہ تمام اسباق اظہار ات ہیں اِس امر کے کہ فقر کی ذِمّہ داری کارِ رہبانی نہیں قیامِ سُلطانی ہے یعنی ’’ خلافت علیٰ منہاج النوّۃ ‘‘۔

اقبال (رح) کے نزدیک یہ بد قسمتی ہے کہ حلقہ ہائے فقر نے اپنے آپ کو کارِ رہبانی تک محدود کر دیا اقبال ایسے فقر کو تسلیم نہیں کرتے ۔

فقر جوعِ رقص و عریانی کجا ست
فقر سُلطانی ست رہبانی کجا ست

ترجمہ : ’’ فقر رقص و عریانی کا متلاشی نہیں فقربادشاہی ہے رہبانیّت نہیں ہے ‘‘ ۔

جو فقر تلخیئِ دوران کا گلہ مند ہو جائے اور شمعِ سوزاں کی طرح رونقِ محفل بننے کی بجائے دشت و صحرا کی خلوتوں میں گم ہوجائے اور عملی زندگی کے اُن تمام پہلؤں سے فرار اختیار کرے جن کا براہِ راست تعلُّق معاشرے کے سماجی ، معاشی ، سیاسی اور فکری تغیُّر سے ہو اقبال کے نزدیک اُس فقر میں ابھی تک بوئے گدائی باقی ہے بلکہ ایسے فقر کو اقبال ’’فقرِ کافر‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں ۔

’’پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق ‘‘ میں اقبال فقرِ کافر اور فقرِ مومن کا تقابلی جائزہ اِن الفاظ میں پیش کرتے ہیں ۔

فقرِ کافر خلوتِ دشت و در است
فقرِ مومن لرزۂ بحر و بر است
زندگی آں را سکونِ غار و کوہ
زندگی ایں را زِ مرگِ باشکوہ
آں خُدا را جستن از ترکِ بدن
ایں خودی را برفسانِ حق زدن
آں خودی را کُشتن و وا سوختن
ایں خودی را چوں چراغ افروختن

ترجمہ : ’’کفار کا فقر صحراؤں کی خلوت اختیار کارنے کا نام ہے جبکہ مومن کا فقر خشکی و تری کو لرزہ بر اندام ﴿ متحرک زندگی ﴾ کرنے کا نام ہے ۔ کافر کے فقر میں زندگی غاروں اور پہاڑوں میں سکون کی تلاش ہے جبکہ مومن کے فقر میں پُر شِکَوْہ موت زندگی ہے ۔ فقرِ کافر وجود کو ترک کر کے خدا کی تلاش کرنا ہے جبکہ فقرِ مومن خودی کو حق کی دھار پر پرکھنا ہے ۔ فقرِ کافر خودی کو مار ڈالنا اور جلادینا ہے جبکہ فقرِ مومن خودی سے جہاں کو چراغ کی مثل روشن کرنا ہے ‘‘۔

اقبال کے نزدیک طریقتِ حقیقی غیرتِ فقر کا نام ہے اگر یہ فقر وجودِ مومن کا نصیبہ نہیں تو وہ مومن خود اپنے کاروان پر ڈاکہ زنی کر بیٹھتا ہے ۔ مذکورہ کتاب میں اپنی نظم فقر میں اِسی حوالے سے فرماتے ہیں ۔

تا کجا بے غیرتِ دیں زیستن
اے مسلمان! مُردن است ایں زیستن
لاجرم از قُوَّتِ دیں بد ظن است
کاروانِ خویش را خود راہزن است

ترجمہ : ’’ غیرتِ دین ﴿ یعنی فقر ﴾کے بغیر زندگی کہاں تک ممکن ہے اے مسلمان ﴿ بغیر فقر کے ﴾ یہ زندگی نہیں بلکہ موت ہے ۔ اگر تجھے دین کی اِس قوت ﴿ فقر﴾ پر یقین نہیں ہے تو پھر تو اپنے کاروان کا خود ہی ڈاکو ہے ‘‘ ۔

یہی رمزِ فقر اقبال ہمیں ضربِ کلیم میں بتاتے ہیں

کچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانی
تری نگاہ میں ہے ایک فقر و راہبانی
سکوں پرستیٔ راہب سے فقر ہے بیزار
فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طُغیانی
یہ فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولتِ سلمانی(رض) و سُلیمانی(ع)

بالِ جبریل میں اقبال فقر کے دونوں نقطہ ہائے نظر یعنی ’’فقرِ رہبانی‘‘ اور ’’فقرِ سُلطانی‘‘ کو بیان کرتے ہیں اور اپنے منصب ’’حکیم الاُمّت‘‘ کا پاس رکھتے ہوئے تشخیص بھی کرتے ہیں کہ کون سا فقر زوالِ اُمّت کا باعث ہے اور کون سا فقر ناموسِ الٰہی کی پاسبانی کرتا ہے جو میراثِ اسلاف ہے ۔

اِک فقر سکھاتا ہے صیّاد کو نخچیری
اِک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہاں گیری
اِک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اِک فقر سے مٹّی میں خاصیّتِ اکسیری
اِک فقر ہے شبّیری(رض)، اُس فقر میں ہے مِیری
میراثِ مسلمانی سرمایۂ شبّیری(رض)

اِس نظم کا پہلا اور تیسرا دونوں مصرعے فقرِ رہبانی پر ہیں جبکہ دوسرا ، چوتھا ، پانچواں اور چھٹا یہ چار مصرعے فقرِ سُلطانی پر ہیں ۔

فقرِ رہبانی کے خاصے یہ ہیں کہ وہ طاقتور کو کمزور بناتا ہے اور اُس میں اِس قُوّت کو نمو بخشنے کی ہمّت نہیں کہ اپنے دیئے ہوئے نظام کو معاشرہ میں نافذ کر سکے یا جھوٹ ، ظلم ، نا انصافی اور جبر کے خلاف جد و جہد کر سکے ۔ اِس کے بر عکس فقرِ سُلطانی کے خواص ہی یہ ہیں کہ وہ مردِ مومن پر جہاں سازی کے اسرار و رموز کھولتا ہے اور جن غلاموں کو آدابِ خود آگاہی بخشتا ہے اُن پر شہنشاہی کے اطوار بھی منکشف کر دیتا ہے وہ فقر دولتِ شاہاں کا محتاج نہیں اُس کی اپنی نگاہ مٹی کو سونا کرنے کی تاثیر رکھتی ہے جسے ہم فقرِ شبّیری (رض) کہتے ہیں وہ فقر سُلطانی ہے اور سیّد الشہدا حضرت امام حسین (رض) کی وراثت یہی فقر ہے ۔

اقبال (رح) نے اپنی نظم اور نثر میں فقرِ محمّدی کو پیش آنے والے اِن سانحات کا ذکر بار بار کیا اور یہ باوَر کروانے کی کوشش کی کہ جو فقر ہمارے ہاں مروّج ہو چکا ہے یہ فقرِ حقیقی کی ایک زوال یافتہ و انحطاط پذیر شکل ہے جو ہندی و عجمی فلسفۂ قدیم سے متاثر ہو کر وجود میں آئی ہے ۔ فقر دینِ اسلام کی قوتِ متحرکہ ہے بلکہ اقبال تو اِسے دین کا کا دوسرا نام قرار دیتے ہیں ۔