• image01

    وفی انفسکم افلا تبصرون (51:21)

    اورمیں خود تمہارے نفوس میں ہوں
    تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

  • image02

    ففروا الی اللہ (51:50)

    دوڈو اللہ کی طرف

  • image03

    الفقرو فخری والفقر و منی - الحدیث

    فقر میرا فخر ہے
    اور فقر مجھ سے ہے

مضامین

اِصلاحی جماعت کی ضرورت کیوں؟

تحریر: سید امیر خان نیازی سروری قادری اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعٰلَمَےْنََ وَا لْعَا قِبَۃُ لِلْمُتَّقِےْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ
الْکَرِےْمِ وَعَلٰی آلِہٰ وَاَصْحَابِہٰ اَجْمَعِےْنَo
ا مَّا بعد !اسلام کا بنیادی اور انتہائی مقصد بنی نوعِ انسان کوامن وسلامتی اور عدل و احسان سے مشرف کرکے قربِ الٰہی سے سرفراز کرنا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کوپیدا ہی اپنے قرب و وصال کی خاطرکیا ہے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے-: ’’وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِ نْسَ اِلاَّلِےَعْبُدُ وْنَ ج ‘‘ ﴿پارہ ۷۲ ، ا لذّٰ ریات ۶۵﴾ -
مزید پڑھیں

سُلطان الفقرکی نظریاتی میراث اور اس کے عملی تقاضے

تحریر: صاحبزادہ سلطان احمد علی 26 دسمبر 2003ئ کو حضور سلطان الفقر، بانیٔ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین حضر ت سلطان محمد اصغر علی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال مبارک ہوا۔ جو تقریب سلطان الفقر ششم رحمۃ اللہ علیہ کے ختمِ مبارک کے لئے منعقد ہوتی ہے اس میں، مَیں ہمیشہ عرض کرتا ہوں کہ ایسی محفل کے انعقاد سے اگر فقط مرحوم کو ثواب پہنچانا مقصود ہو تو مَیں سمجھتا ہوں کہ حضور سلطان الفقر ششم کی ذاتِ گرامی اتنی بلند ہے کہ ہمارے قلیل سے ثواب کی آپ کو ضرورت نہیں۔
مزید پڑھیں

متاعِ مُصطفےٰ ﷺ ﴿ فقرِ محمدی (ص) اور افکارِ اقبال ﴾

تحریر: صاحبزادہ سلطان احمد علی ۹/ نومبر ۶۰۰۲ئ کو پشاور پریس کلب میں یومِ اقبال کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں بندہ ناچیز کو شرکت کا موقعہ مِلا جہاں پروفیسر پریشان خٹک ﴿مرحوم ﴾ اور پشاور کے دیگر عظیم الفکر لوگوں سے استفادہ میسّر آیا اُس تقریب میں معروف شاعر جناب طٰہٰ خان نے ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کا ایک جملہ کہا جو آج تک میرے شعور و لا شعور میں نغمہ فگن رہتا ہے کہ
’’ یوں تو اقبال قرآن کا شاعر ہے مگرشاعروں کا بھی قرآن ہے ‘‘
مزید پڑھیں

قائدِ اعظم کا نصب العین اور عہدِ نو کی ضرورت

تحریر: صاحبزادہ سلطان احمد علی ﴿یٰآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہ، لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ﴾ ﴿البقرہ ۸۰۲﴾ ’’اے ایمان والو اسلام میں پوری طرح داخل ہوجائو اور شیطان کی پیروی مت کرو بیشک وہ تمہار کھلا دشمن ہے۔‘‘ اسی تجدید عہد، عزمِ عمل کے لیے ہم سب اپنے قائد و مرشدِ کریم کے روبرو اکٹھے ہیں۔
مزید پڑھیں

بے سود عبادت

تحریر: سید امیر خان نیازی سروری قادری ہزاراں ہزار بلکہ بے حد و بے شمار حمدوسپاس واحد لاشریک ذات حق کے لئے کہ وحدانیت جس کی صفت مخصوص اور جلال و کبریائی وعظمت و برتری کا وصف خاص ہے‘ اس کے بعد درود نا محدود ہو حضرت محمدﷺ پر جو تمام انبیائ کے سردار‘ سب مومنوں کے راہنما‘ اسرار ربانی کے امین اور ذات خداوندی کے برگزیدہ ہیں اور جنہیں اللہ تعالی نے مقام بلند عطا فرمایا ہے اور آپ کے تمام صحابہ کرام (رض) اور اہل بیت(رض) پر کہ ان میں سے ہر ایک پیشوائے اُمت اور راہ شریعت کا راہنما ہے-
مزید پڑھیں

اِنسانیت اور تکمیل ِاِنسانیت

تحریر: سید امیر خان نیازی سروری قادری سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور جس نے درجات کو عابدوں کے لئے اور مراتب قرب کو عارفوں کے لئے محفوظ فرمایا ہے اور بے حد و بے حساب اور لا محدود درود و سلام ہوں سرورِ دو عالم، حبیب ِکبریا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم پر جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نور ِجمال سے پیدا فرمایا- جیسا کہ حدیث ِقدسی میں فرمانِ الٰہی ہے -: ’’خَلَقْتُ رُوْحَ مُحَمَّدٍ مِّنْ نُّوْرِ وَجْھِیْ‘‘ ترجمہ-: ’’ مَیں نے روحِ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا کیا ہے-
مزید پڑھیں

خانقاہی نظام ﴿حضرت سلطان باہو اور اقبال کے افکار کا جائزہ ﴾

تصوف کو اصطلاحِ قرآنی میں’’ تصدیق بالقلب ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس کا بنیادی مقصد معاشرے کے اندر روحانی آسودگی کی فراہمی ،عوام خواص کیلئے اطمینانِ قلب ،ظاہری وباطنی گناہوں سے محفوظ رہنے کے لئے ﴿تاکہ متوازی وصحیح اسلامی معاشرے کا قیام ممکن ہوسکے﴾تزکیۂ نفس،تصفیۂ قلب اور تجلیۂ روح کا حصول ممکن ہوسکے ،اور ہم جو اقرار کرتے ہیں اس اقرار کی تصدیق نصیب ہوسکے واضح رہے کہ اقرار کا تعلق ظاہر سے ہے یعنی زبان سے ہے
مزید پڑھیں

جعلی پیرا ورمرشد کامل

تحریر: صاحبزادہ سلطان احمد علی سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور جس نے درجات کو عابدوں کے لئے اور مراتب قرب کو عارفوں کے لئے محفوظ فرمایا ہے اور بے حد و بے حساب اور لا محدود درود و سلام ہوں سرورِ دو عالم، حبیب ِکبریا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم پر جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نور ِجمال سے پیدا فرمایا- جیسا کہ حدیث ِقدسی میں فرمانِ الٰہی ہے -: ’’خَلَقْتُ رُوْحَ مُحَمَّدٍ مِّنْ نُّوْرِ وَجْھِیْ‘‘ ترجمہ-: ’’ مَیں نے روحِ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا کیا ہے-
مزید پڑھیں