• image01

    وفی انفسکم افلا تبصرون (51:21)

    اورمیں خود تمہارے نفوس میں ہوں
    تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

  • image02

    ففروا الی اللہ (51:50)

    دوڈو اللہ کی طرف

  • image03

    الفقرو فخری والفقر و منی - الحدیث

    فقر میرا فخر ہے
    اور فقر مجھ سے ہے

سالانہ رپورٹس میلاد مصطفی ﷺ2012

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین دربار حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کے فیضان کا ایک ایسا سرچشمہ ہے جو’’الحمد للہ‘‘ رفتہ رفتہ قلزمِ بیکراں کی صورت میں ڈھل چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے اس جماعت کی صورت میں پوری عالم انسانیت کے لیے قرآن و حدیث کا پُر امن پیغام اور حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کا فیضان امتِ مسلمہ کی تشکیل نو کررہا ہے۔ پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر علاقائی محافل میلاد مصطفی ﷺ میں ہر خاص و عام کی جوق در جوق شرکت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ

سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشمکش مگر یہ دریا سے پار ہوگا

سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین، حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس کی قیادت میںسالِ نو کی ایک نئی اُمنگ، ایک نئے جذبے کے ساتھ 2012ئ کے علاقائی دورہ کا آغاز مظفر گڑھ کے شہر سے ہوا۔

مظفر گڑھ:

07جنوری2012ئ بروزہفتہ علی پور روڈ سیال لان میں دوپہر 12 تا 4بجے تک اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین برانچ مظفر گڑھ کے زیر اہتمام ایک شاندار محفل میلاد مصطفی ﷺ اور جشن حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ منعقد ہوا۔

سٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی محمد شیر القادری نے ادا کیے تلاوت کے لیے صوفی غلام شبیر کو مدعو کیا گیا۔ نعت خوانی اور کلام حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی سعادت محمد رمضان سلطانی کے حصے میں آئی۔ مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ ای الی معرفتہ﴿تفسیر روح المعانی﴾

معرفت الٰہی تمام عبادات کی اصل ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ ہر عمارت کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے اور دین کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے ۔گویا دین اسلام کی بنیاد معرفت الٰہی ہے۔اگر ہمیں معرفت الہٰی نصیب ہے تو ہمارے دین کی بنیاد مضبوط ہے ۔ اگر نہیں تو دین محض چند رسوم کی ادائیگی کے سوا کچھ نہیں۔

مرکزی ناظم اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین الحاج محمد نوازالقادری نے اپنے خطاب میں فرمایا:

انسان کی زندگی کے تین پہلو ہیں ۔ ایک ظاہر ہے ، ایک باطن ہے اورایک حقیقت ہے ۔ ظاہری طور پر انسان عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ فرمان خداوندی ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔روح معرفت الٰہی کے لیے آئی ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی ہے کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا مجھے محبت ہوئی کہ میں پہچانا جائوںبس میں نے اپنی معرفت کے لیے مخلوق کو پیدا کیا ۔ حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی خلافت کے لیے پیدا کیا ہے۔علامہ اقبال صاحب فرماتے ہیں:

منکرِ حق نزدِ ملّا کافر است
منکرِ خود نزدِ من کافر تر است

یعنی اگر بندہ حق کا انکار کردیتا ہے تو کافر ہوجاتا ہے اور اگر وہ اپنی خودی کو کھو بیٹھتا ہے تو علامہ کے نزدیک وہ کافر سے بھی بدتر ہے ۔ جسے قرآن جانور کی مثل بلکہ اس سے بھی بد تر قرار دیا ہے۔

پروگرام کے آخر میں درود و سلام پڑھا گیا اور نئے سال کے آغاز میں مسلمانوں کی زبوں حالی کی اصلاح اور اتحاد و اتفا ق کے لیے صدرِ محفل جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے خصوصی دعا فرمائی۔

اس پروگرام میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے پیغام کو سنا اور سرپرستِ اعلیٰ حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس کے دست اقدس پر بیعت کرکے اس جماعت میں شمولیت اختیار کی۔

راجن پور:

08جنوری 2012ئ دوپہر 12 تا 4 راجن پور برانچ کے کارکنان اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے نہایت ہی شاندار محفل میلاد مصطفی ﷺ و جشن حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ منعقدکرکے اپنی بیداری اور زندہ دلی کا ثبوت فراہم کیا۔

مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے اس پروگرام میں معرفت الٰہیہ کو اپنا موضوعِ سخن بنایااور اس کے حصول کے لیے ذکراللہ کی اہمیت واضح کی۔ الحاج محمد نواز القادری نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا :

آج ہمارے زوال کا اصل سبب قرآن مجید سے دوری ہے ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایابے شک اللہ تعالیٰ اس قرآن مجید کے ذریعے کچھ قوموں کو سربلند کرے گااور کچھ قوموں کو گرادے گا۔آج ہم نے قرآن مجید کو فقط ثواب کے لیے پڑھنے تک اکتفا کر رکھا ہے الا ماشائ اللہ ۔ علامہ اقبال صاحب نے فرمایا:

وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر ا
ور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

پروگرام کے آخر میںحضور رسالتمآب ﷺ کی بارگاہ عالیہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ درود و سلام کے بعد امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے صدرِ محفل جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے خصوصی دعا فرمائی۔

اس محفل میں اہلِ علاقہ کے معززین کے علاوہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھر پور شرکت کی۔

کندھ کوٹ ﴿سندھ﴾:

09جنوری 2012ئ کو کندھ کوٹ کے سٹی پارک میںدوپہر 12 تا 4 جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمدعلی صاحب مدظلہ الاقدس کی قیادت میں اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کندھ کوٹ برانچ کے زیرِ اہتمام محفل میلاد مصطفی ﷺ و جشن حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ منعقد ہوا۔

تلاوت کلام پاک ،رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی کے بعد کلام حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ سے حاضرین محفل کے قلوب کو گرمایا۔کندھ کوٹ اور اس کے گردو نواح کی عوام و خاص سے جو اس محفل میں اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے پیغام کو سننے کے لیے تشریف لائے ان سے خطاب کرتے ہوئے الحاج محمد نواز القادری نے انسان کی اہمیت کو واضح کیا۔ اس کے ظاہر ، باطن اور حقیقت کے تین پہلوئوں کو وضاحت سے بیان کیااور اس بات پر زور دیاکہ انسان کی زندگی کا اصل مق صد اپنی حقیقت تک رسائی ہے کہ وہ اللہ کا خلیفہ بن جائے ورنہ وہ بے مقصد زندگی گزار رہا ہے۔

پروگرام کے اختتام پر درودو سلام کے بعد جانشین سلطان الفقر نے خصوصی دعا فرمائی۔سینکڑوں کی تعداد نے آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کرکے اس جماعت سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ۔

شہداد کوٹ ﴿سندھ﴾:

10جنوری2012ئ کو شہداد کوٹ سندھ میں دوپہر 12تا 4بجے نہایت ہی شاندار محفل میلاد مصطفی و جشن حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ منعقد ہوئی ۔

اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے الحاج محمد نواز القادر ی نے ذکراللہ کی اہمیت پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا ہے اسی میں انسان کی فلاح کا راز پوشیدہ ہے۔ذکر اللہ کے بغیر انسان اپنی حقیقت تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔

محفل کے اختتام پر حضور رسالتمآب ﷺ کی بارگاہ عالیہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔آخر میں ہر فرد نے حضور جانشین سلطان الفقر سے شرفِ ملاقات حاصل کیا۔ اس محفل میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی بھر پور شرکت کی۔

پنوں عاقل ﴿سندھ﴾:

11جنوری 2012ئ بروز بدھ پنوں عاقل میں جانثاران اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے سابقہ روایات سے بڑھ کر اپنی جانثاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امسال بھی 03تا 04بجے تک رسول اللہ ﷺ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے محفلِ میلاد مصطفی ﷺ کا انعقاد کیا جس کی صدارت سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین، جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔ نقیبِ محفل کی ذمہ داری مفتی محمد شیر القادری نے احسن اندازسے نبھائی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت صوفی غلام شبیر اور نعتِ رسول مقبول و کلام حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہسے محمد رمضان سلطانی نے حاضرین محفل کے قلوب کو محظوظ کیا۔

الحاج محمد نواز القادری نے حاضرین محفل سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام کا مقصد امن و سلامتی ہے ۔ انسان امن و سلامتی سے تب ہی رہ سکتا ہے جب وہ دوسرے انسان کی قدر کرے گا۔ انسان کی قدر اسے ہوگی جسے انسان کی پہچان ہوگی۔انسان کی پہچان اولیائ کاملین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہی حاصل کی جاسکتی ہے جنہوں نے قرآن کی راہنمائی میں انسان کو بھی کھول کر بیان کردیا۔

پروگرام کے آخر میںحضور رسالتمآب ﷺ کی بارگاہ میں درود وسلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ اہل علاقہ کے لیے سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ،حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے خصوصی دعا فرمائی۔ شرکائے محفل نے آپ سے شرف ملاقات حاصل کرکے اپنی ارواح کے لیے تسکین کا سامان کیا۔

رحیم یار خان:

12جنوری 2012ئ بروز جمعرات سٹی پارک نزد ٹائون ہال رحیم یار خان میں دوپہر 12 تا 4بجے نہایت شاندارمحفل میلاد مصطفی ﷺ کا انعقاد ہوا۔ مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا:

اللہ تعالیٰ نے فلاح انسان کو کثرتِ ذکر سے مشروط کردیا ہے کہ اگر تم فلاح حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔صاحب تفسیر روح البیان نے فلاح کا یہ معنیٰ ذکر کیا ہے کہ بندہ اور مولیٰ کے درمیان پردے ختم ہوجائیں۔یہ پردے کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے سے ختم ہوجاتے ہیں بشرطیکہ یہ کہنا تصدیق قلب سے ہو نہ محض زبانی۔

خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

مرکزی ناظم الحاج محمد نواز القادری نے شرکائے محفل کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ہم قرآن و حدیث کی تعلیمات کو تھامے رہیں ہماری فلاح و کامیابی یقینی طور پر ہمارا مقدر ہوگی اور قرآن سے دور ہماری ذلت وپسپائی کا سبب بن جائے گی۔ آج اگر پسپا ہیں تو پھر ہمیں قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کو سمجھ کر اس پر عمل بھی کرنا ہوگا۔

پروگرام کے اختتام پر صوفی غلام شبیر نے درود و سلام پڑھا جس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کی اصلاح کے لیے خصوصی دعا کی۔مجمع کے ہر فرد نے آپ سے شرفِ ملاقات حاصل کیا۔ سینکڑوں کی تعداد دستِ بیعت کرکے راہِ حق کی جانب گامزن ہوئے اور بے شمار افراد نے تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے لیے اسم اللہ ذات حاصل کیا۔

اجتماع میں بڑی تعداد میں وکلائ ، پروفیسرزاور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے علاوہ ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور سابق وزرائ نے بھی شرکت کی۔

لودھراں:

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین لودھراں ، ضلع بہاولپور برانچ کے زیرِ اہتمام نیو میونسپل سٹیڈیم میںدوپہر 12 تا 4بجے نہایت پر رونق محفل میلاد مصطفی ﷺ کا انعقاد ہوا۔ اس تقریب کی صدارت حضرت سلطان محمد علی صاحب سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے فرمائی۔ حمد و نعت کے بعد کلام حضور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ پیش کیاگیا ۔

مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم ذلیل و رسوا اس لیے ہورہے ہیں کہ ہمارا اللہ تعالیٰ سے تعلق ختم ہوگیا ہے ۔ ہمارے اشرف ہونے کی وجہ اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے جب یہ تعلق ختم ہوتا ہے تو انسان اشرفیت کے مقام سے گر کر جانوروں کی مثل بن جاتا ہے۔

الحاج محمد نواز القادری صاحب نے اپنے خطاب میں فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہوئے اولیائ کاملین کی تعلیمات سے اس کا حل پیش کیا۔

اس شاندار محفل سے خصوصی خطاب اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ اس کا دین باقی تمام ادیان پر غالب آجائے۔زمین کے چپہ چپہ پر ، ہر گھر تک ، ہر گلی محلے تک ہر فرد تک حتیٰ کہ پورے کرّۂ ارض پر اللہ کے دین کا نفاذ ہوجائے اور تمام عالم انسانیت ایک خدا کی وحدانیت ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت ، اور ان کی رحمت کے پرچم تلے جمع ہوجائے۔ خود رسول اکرم ﷺ اور آپ کے جانثار ساتھیوں نے اسی مقصد کے لیے قربانیاں دیں تاکہ اللہ کا یہ دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔

آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم پر استعماری طاقتوں کا غلبہ ہے۔ اس کا واحد پرامن حل یہ ہے کہ اللہ کے دین کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرلو۔اگر اللہ کے دین کو ، اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت طلب کریں گے تو ہم پھر رسوا کر دیے جائیں گے۔

پرگرام کے آخر میں درود سلام کے بعد حضرت سلطان محمد علی صاحب مد ظلہ الاقدس سرپرست اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے استحکامِ پاکستان و اتحاد امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کی۔سینکڑوں طالبانِ حقیقت نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی اور اسم اللہ ذات حاصل کیا۔

اس پروگرام میں عوام الناس کی ایک بہت بڑی تعداد کے علاوہ وکلائ، ڈاکٹرز، اساتذہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

ملتان:

سرزمینِ اولیائ میں 14جنوری 2012 جناح پارک شاہ رکن عالم کالونی میں 12تا 04بجے عظیم الشان محفل کا انعقاد ہوا۔محفل کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی مدظلہ الاقدس نے فرمائی ۔ سٹیج سیکرٹری مفتی محمد شیر القادری نے محفل کا باقاعدہ آغاز کرنے کے لیے صوفی غلام شبیر کو تلاوت کلام پاک کے لیے دعوت دی۔ نعت رسول مقبول و کلام حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کی سعادت محمد رمضان سلطانی کے حصے میں آئی۔

شرکائے محفل سے خطاب کرتے ہوئے الحاج محمد نواز القادری صاحب نے فرقہ واریت کو موضوعِ سخن بنایا کہ آج امت مسلمہ کی تمام ظاہری و باطنی پریشانیاں فرقہ واریت کی وجہ سے ہیں جہاں ہم نے اپنے آپ کو برادری ازم کے نام پر معاشرتی طور پر تقسیم کیا ہو ا ہے وہیں عقیدے کے اعتبار سے بھی ہم منتشر ہیں ۔

اس عظیم الشان محفل سے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے جنرل سیکرٹری صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

عہد حاضرمیں ہم جدت کے نام پر بے حیائی اور فحاشی کو اپنا کر اپنے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کرچکے ہیں آج ہر جگہ اخلاقی زوال کی آگ لگی ہوئی ہے ۔انسان کی زندگی دو سانسوں پر قائم ہے ۔ ہماری جوانی بھی دو سانسوں پرقائم ہے اور بڑھاپا بھی دوسانسوں پرہی قائم ہے۔ پھر ہم خدا کے دین کو اختیار کرنے میں تاخیر کیوں کرتے ہیں ۔

در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری
وقتِ پیری گرگِ ظالم میشود پرہیزگار

جوانی میں توبہ کرنا، جوانی میں اپنی لَو اللہ سے لگانا جوانی میں اپنا آپ اللہ کے سپرد کردینا ، جوانی میں اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے تابع کردینا ، جوانی میں اپنی گردنوں کو اللہ کی رضا کے سپرد کردینا یہ انبیائ کی سنت ہے یہ پیغمبروں کا شیوہ ہے۔

پروگرام کے اختتام پر درود و سلام پڑھا گیا صدرِ محفل حضرت سلطان محمد علی صاحب مد ظلہ الاقدس نے امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی دعاکی۔سینکڑوں طالبانِ حقیقت نے آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کی۔ کثیر تعداد نے اسم اللہ ذات کی اجازت حاصل کی اور اصلاحی جماعت و تنظیم العارفین کے پیغامِ امن سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

خانیوال:

15جنوری 2012ئ میونسپل سٹیڈیم خانیوال میں دوپہر 12 تا 4بجے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے زیرِ اہتمام نہایت اعلیٰ و ارفع محفل میلاد مصطفی ﷺ اور جشن حضرت سلطان باھورحمۃ اللہ علیہکا انعقاد ہوا۔ مفتی محمد مطیع قادری نے اللہ تعالیٰ کے انسان کے ساتھ تعلق کی اہمیت کو واضح کیا اور اس بات کی اہمیت کو واضح کیا کہ جب تک انسان اپنے اس تعلق کو بحال رکھتا ہے اسے ہر طرح کی عزت و توقیر نصیب رہتی ہے۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ :

نظریہ اسلام کی بقا میں ہی ہماری بقا پوشیدہ ہے۔

آج ملّت اسلامیہ اسی نظریہ سے روگردانی کی وجہ سے ذلت و رسوائی کی چکی میں پس رہی ہے۔ یہ ملک پاکستان اسی نظریہ کی بنیا د پر حاصل کیا گیا ۔اس کی بقا کا ضامن بھی یہی نظریہ ہے۔قرآن کی صورت میں ہمارے پاس ایک آئین موجود ہے جس نے ماضی میں امت مسلمہ کو عروج بخشااس کی روشنی میں ہم مستقبل کے فیصلے کرکے خود کو ذلت و رسوائی سے نکال سکتے ہیں۔

وہاڑی:

16جنوری2012ئ کو اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ضلع وہاڑی برانچ نے فٹبال گرائونڈ میں دوپہر 12 تا 4بجے ایک عظیم الشان محفل میلاد مصطفی ﷺ کا اہتمام کیا۔اس محفل کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحبمدظلہ الاقدسنے فرمائی۔ مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی ناظمِ اعلیٰ الحاج محمد نواز القادری نے فرمایا کہ انسان کی زندگی کے تین پہلو ہیں: ظاہر، باطن اور حقیقت۔ ظاہری طور پرانسان عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔باطنی طور پر روح معرفت الٰہی کے لیے آئی ہے۔ جبکہ حقیقت میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت کے لیے پیدا کیا ہے اس تینوں حوالوں سے تعلیمات قرآن مجید میں موجود ہیں جس سے ہم راہنمائی لے سکتے ہیں۔

مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو خیر امت کا لقب عطا فرمایا ہے اور جتنا بھی یہ امت اللہ تعالی کے قرب و وصال سے دور ہوگی ذلّت و رسوائی اس کا مقدر ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نہ غمگین ہو نہ حزن کرو تم ہی غالب آئو گے اگر تم مومن ہو۔اگرفرد کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہے تو کوئی بھی اس پر غالب نہیں آسکتا۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظریہ اسلام پر آزادی عطا کی۔ ہم نے اس نظریے کی پاسداری نہیں کی اور اسے عملی طور پر اپنا آئینِ ریاست نہ بنایا جس وجہ سے استعمار دوبارہ ہم پر مسلط ہو چکا ہے۔ جب تک قرآن و سنت کا عملی نفاذ نہیں ہوگا ہم استعمار کی غلامی کے شکنجے سے باہر نہیں آسکتے۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے مزید کہا کہ قائد اعظم کو سیکولر آدمی اور پاکستان کو سیکولر ریاست کہنے والے تحریک پاکستان کی روح سے نا آشنا ہیں۔ قائداعظم کی مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کے بعد کوئی ایسی تقریر نہیں جس نے ہندوستان میں بقائے اسلام کی تدبیر آنے کی فکر کو قائد اعظم نے اجاگر نہ کیا ہو۔ اس لیے قائد اعظم اور ان کے پاکستان پر لادینیت کا الزام مغربی آقائوں کو خوش کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔

جلسہ عام کے اختتام پر ہزاروں افراد نے جماعت و تنظیم میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ سرپرستِ اعلیٰ حضرت سلطان محمد علی صاحب نے اتحاد امتِ مسلمہ اور اصلاح انسانیت کے لیے اجتماعی دعا فرمائی۔اس محفل میںوکلائ ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز اور زندگی کے ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے ہر مکتبہ فکر کے افراد نے بھر پورشرکت کی۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ:

17جنوری 2012ئ فٹبال گرائونڈ جھنگ روڈ ٹوبہ ٹیک سنگھ میںدوپہر 12 تا 4بجے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے زیراہتمام عالی شان محفل میلاد مصطفی ﷺ اور جشن حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کا اہتمام کیا گیا۔

مرکزی ناظم اعلیٰ الحاج محمد نواز القادری صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہمارے زوال کا اصل سبب قرآن کی تعلیمات سے دوری ہے اسی سبب سے امتِ مسلمہ کو سربلندی حاصل ہوئی اور اسی کو ترک کرکے ہم ذلت و رسوا ہوئے۔

مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے اپنے خطاب میں معرفت الٰہی کی اہمیت کو واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت انسان کے ساتھ ہے لیکن انسان خدا کو بھول جاتا ہے۔ انسان کا جب تک اپنے خالق و مالک سے معرفت اور پہچان کا رشتہ قائم نہیں ہوتا اس وقت تک اس کا تعلق مضبوط نہیں ہوتا۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہاکہ

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی صورت میں برگزیدہ دین اور قرآن کی صورت میں ایک پسندیدہ آئین عطا فرمادیا ہے۔ ہماری بقا اور عزت اللہ کے دین کو تھامنے میں ہے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے ساتھ وابستہ ہونے میں ہے۔ جس راستے کو آج ہم اپنایا ہوا ہے کیا یہ ہمیں اللہ کے قریب کررہا ہے یا اللہ سے دور کررہا ہے؟ جس چیز کو جدت اور فیشن کا نام دیکرہم اس پر گامزن ہیں کیا ہم اس کا کبھی محاسبہ کیا ہے؟کہ ہم کیا کررہے ہیں ۔جب ہم دین کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ فرد کا نجی معاملہ ہے ۔ پھر ہمار ا اجتماعی معاملہ کیا ہے؟جب فرد اپنے نجی معاملہ میں خدا کے احکامات کی پیروی نہیں کرتا تو پھر وہ اپنے اجتماعی معاملات میں خدا کے احکامات کی پیروی کیسے کرسکتا ہے ؟

حدیث پاک میں ہے کہ برائی کو دیکھو تو اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرو، اگرہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں تو اسے اپنی زبان سے روکنے کی کوشش کرو ، اگر اس کی طاقت نہیں تو اپنے دل میں تو اسے برا کہتے رہو کہ یہ برا کررہا ہے اپنے دل میں برائی کو برا کہنا یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے لیکن اپنے دل میں برے کو برا کہنے کی غیرت ہونی چاہیے ۔

پروگرام کے اختتام پر آقائے دوجہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ درود پیش کیا گیا۔ جس کے بعد صدرِ محفل حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے اصلاح امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ کثیر تعداد نے دستِ بیعت کرکے اپنے سفر کا تعین مقرر کیااور سینکڑوں کی تعداد نے اسم اللہ ذات کی اجازت حاصل کی۔

اس محفل میں کثیر تعداد میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر طبقہ فکر کے افراد نے شرکت کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے پیغام سے اپنی وابستگی کااظہار کیا۔

جھنگ:

حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہکے آبائی علاقہ کی نسبت سے جھنگ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔اسی اہمیت کے پیش نظر یہاں اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے کارکنان کا جوش و جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔ 18 جنوری 2012ئ کو جھنگ شہر کے چرچی گرائونڈ میں جانثارانِ حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نہایت ہی شاندار محفل میلاد مصطفی ﷺ اور جشن حضرت سلطان باھورحمۃ اللہ علیہ کا انعقاد کیا۔ اس پروگرا م کی صدارت جگر گوشہ حضرت سلطان باھورحمۃ اللہ علیہ و سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

نقابت کی ذمہ داری مفتی محمد شیر القادری نے سنبھالی۔تلاوت کلام پاک کی سعادت صوفی غلام شبیر کے حصے میں آئی۔نعت و کلام حضرت سلطان باھورحمۃ اللہ علیہ محمد رمضان سلطانی نے پیش کیا۔

عوام الناس کا ایک جم غفیر اس پروگرام میں شامل ہواجس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے کہا کہ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت کا تاج عطا کیا۔اس کو پوری زمین کا خلیفہ بنایا۔ آج ہم ایک خطہ اور اس کے نظام اور امن کے لیے پریشان ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ اللہ نے خلافت اس لیے دی کہ یہ وہ مکان ہے جس کا مکین خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اے بندے اگر تیرا تعلق میرے ساتھ رہا تو پھر ساری کائنات تیری ہے ، ساری مخلوق تیرے تابع فرمان کر دوں گا۔ اگر تیرا تعلق مجھ سے ختم ہوگیا تو پھر تجھے ذلیل و رسوا کردوں گا۔

مرکزی ناظم اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین الحاج محمد نواز القادری نے خطاب کرتے ہوئے قرآن کی اہمیت پر زور دیا کہ جس طرح انسان کے تین پہلو ظاہر ، باطن اور حقیقت ہیں اسی طرح قرآن کا بھی ایک ظاہر ، ایک باطن اور ایک حقیقت ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اسے محض ایک آلۂ ثواب سمجھنے کی بجائے اسے پڑھیں ، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔علامہ اقبال فرماتے ہیں :

قرآن اک کتاب ہے اسرارِ سرمدی
لیکن آج ہے ملتِ غافل کے ہاتھ میں

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے مرکزی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین انبیائ کرام ، صحابہ کرام اور صوفیائ کرام کی سنت پر عمل پیرا ہے۔ وہ سنت مخلوق کی بھلائی اور بہتری ہے۔اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کو بھی اسی لیے پیدا کیا کہ وہ ہمیں آزما سکے کہ ہم میں کون اچھے اعمال کرتاہے۔

صحابہ کرام جو رسول اللہ ﷺ سے نسبت سے پہلے اونٹ نہیں چرا سکتے تھے اب اس نسبت کی برکت سے وہ سلطنتیں سنبھال رہے ہیں۔ اللہ کی عطا کی ہوئی قوت سے حضرت عمر فاروق دریائے نیل کو حکم دیتے ہیںتو وہ چلنا شروع ہوجاتا ہے۔صحابہ کرام نے جب اذانیں دیں تو کفر کے ایوان ہل گئے۔

ہمیں ہمارے مرشد پاک کی بارگاہ سے اذان دینے کا حکم ہے کہ’’ ففروا الی اللہ ‘‘آئو اللہ کی طرف ، یہی اذان ہے ’’حی علی الفلاح ‘‘ آئو کامیابی کی طرف ، آئو فلاح کی طرف ، یہی اذان ہے’’ اللہ اکبر‘‘ کوئی بڑا نہیں ہے اس سے کوئی حکم بڑا نہیں ہے اس کے حکم سے ، کوئی نظام بڑا نہیں ہے اس کے نظام سے ، کوئی چاہت بڑی نہیں ہے اس کی چاہت سے۔کوئی فکربڑی نہیں ہے اس کی فکر سے، کوئی ذکر بڑا نہیں ہے اس کے ذکر سے ، کوئی سلطنت بڑی نہیں ہے اس کی سلطنت سے، کوئی دستور بڑا نہیں ہے اس کے دستور سے، کوئی منشور بڑا نہیں ہے اس کے منشور سے اور کوئی کتاب بڑی نہیں ہے اس کی کتاب سے، کوئی قانون بڑا نہیں ہے اس کے قانون سے ، یہ ہے اللہ اکبر۔اس کے قانون ودستور کو مانو، اس کے منشور کو مانو، اس کے نظام کو مانو، اس کے نظام کو نافذ کرویہ اذان ہے۔ اسی اذان کی بدولت آج تک اسلام کا نام نہیں مٹایا جاسکا اور نہ آئندہ مٹایا جاسکے گا۔

مٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلماں کہ ہے
اُس کی اذانوں سے فاش، سرِّ کلیم(ع) و خلیل(ع)

پروگرام کے اختتام پر صدرِ محفل حضرت سلطان محمد علی صاحب سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے امت مسلمہ کے اتحا د و اتفاق اور پوری عالمِ انسانیت کی بھلائی کے لیے اجتماعی دعا کی۔سینکڑوں متلاشیانِ حقیقت نے آپ کے دست حق پر شرفِ بیعت کی اور بے شمار افراد اسم اللہ ذات کی حقیقت سے روشناس ہوئے۔

اس پروگرام میں حضرت سلطان باھورحمۃ اللہ علیہکے عقیدت مندوں کے ساتھ ساتھ ہر طبقہ فکر اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین دربار حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کے فیضان کا ایک ایسا سرچشمہ ہے جو’’الحمد للہ‘‘ رفتہ رفتہ قلزمِ بیکراں کی صورت میں ڈھل چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے اس جماعت کی صورت میں پوری عالم انسانیت کے لیے قرآن و حدیث کا پُر امن پیغام اور حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کا فیضان امتِ مسلمہ کی شیرازہ بندی کررہا ہے۔ پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر علاقائی محافل میلاد مصطفی ﷺ میں ہر خاص و عام کی جوق در جوق شرکت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ :

سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگا

سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین، حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس کی قیادت میںسالِ نو کی ایک نئی اُمنگ، ایک نئے جذبے کے ساتھ 2012ئ کے ملک گیر دورہ کا دوسرا رائونڈ لیہ کے شہر سے ہوا۔

لیّہ: 22-01-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ضلع لیّہ برانچ کے زیرِ اہتمام سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کی صدارت میں نہایت ہی پر رونق محفل میلادِ مصطفی ﷺ و جشنِ حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کا اہتمام ہوا۔ کارکنانِ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے نہایت ہی جانفشانی سے محفل کا انتظام کیا۔ عوام الناس کے جمِ غفیر سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے کہا:

انسان کیا ہے ؟ حدیث قدسی میں ہے ’’انسا ن میرا راز ہے اور مَیں انسان کا راز ہوں‘‘ لیکن افسوس ہم انسان کی حقیقت سے بے خبر ہیں ۔

انسان کو کیسے پڑھا جاتا ہے ؟ انسان کو پڑھنے کا طریقہ کیا ہے تو اس کے استاد اولیائ کرام ہیں جو انسان کو پڑھنے کا طریقہ سمجھاتے ہیں جیسے علامہ اقبال نے فرمایا ؛

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی ناظم اعلیٰ الحاج محمد نواز قادری نے کہا: کہ

آج ہماری پستی اور زوال کا سبب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے ،ہمارا عزت و وقار تو دامنِ قرآن سے وابستہ ہونے میں پوشیدہ تھا ہماری کامیابی کا راز تو وحی الٰہی میں مضمر تھا افسوس صد افسوس کہ ہم نے پیغام ِ قرآن کو بھلادیا اور علامہ نے فرمایا ؛

وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

محفل کے اختتام پر حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میںدرود و سلام کے پھول نچھاور کیے گئے جس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے ملتِ اسلامیہ کے اتحاداور اصلاحِ انسانیت کے لیے خصوصی دعافرمائی۔

اس پروگرام میں زندگی کے ہر شعبہ اور ہر مسلک کے افراد نے شرکت کرکے اصلاحی جماعت کے پیغام کو گوش گزار کیا۔ طالبانِ راہ حقیقت نے جانشینِ سلطان الفقر کے دست حق پر بیعت کرکے اصلاحی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور سینکڑوں افراد نے اسم اعظم اسم اللہ ذات کی اجازت حاصل کی۔

میا نوالی: 23-01-12

وابستگانِ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ضلع میانوالی نے نہایت ہی شاندار محفل میلاد مصطفی ﷺ کا انتظام کیا۔تقریب کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے فرمائی۔

مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے اپنے مدلل خطاب میں اولیائے کاملین کی تعلیمات کی روشنی میں قرآن و حدیث کو بیان کیا کہ قرآن انسان کو اس کائنات کے ساتھ ساتھ اپنے اندر تدبر کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔جیسا کہ حضرت سلطان باھورحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ھو

خصوصی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین میدانِ عمل میں اس پیغام کو لیکر آئی ہیں کہ ہمارا اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ، رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کے ساتھ ، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاک کتاب کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ کے ساتھ جو تعلق ہے اس تعلق کو مضبوط کیا جائے کیونکہ یہی تعلق ہماری ہدایت ، کمال ، سرفرازی اور عزت کا باعث ہے کہ جس طرح حضرت مالک بن انس (رض) سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’کہ میں نے دو چیزیں تم میں ایسی چھوڑی ہیں کہ ان دوچیزوں سے تمہارا تعلق جب تک قائم رہے گا ان دو چیزوں کے دامن سے جب تک تم وابستہ رہو گے تو حضور نے فرمایا ’’لن تضلوا‘‘ تم کبھی بھی گمراہ نہیں ہو سکو گے ، تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے ، تم کبھی گمراہ نہیں ہوسکتے ، یا رسول اللہ ﷺ ، وہ دو کون کون سی ایسی چیزیں ہیںکہ جن کے ساتھ ہمارا تعلق استوار ہے ، جن کے ساتھ ہمارا تعلق اگر مضبوط ہے اور جن کے دامن کو ہم نے پوری قوت اور مضبوطی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے ہم کبھی گمراہ نہیں ہونگے، تو حضور رسالت مآب ﷺ نے فرمایا : ایک کتاب اللہ اور دوسری اللہ کے رسول کی سنت ۔جب تک ان دو چیزوں کے ساتھ ، تمہارا تعلق اور تمہارا رشتہ استوار رہے گا اور تم ان دو چیزوں کو پکڑے رہو گے تو اس وقت تک تم کبھی گمراہ نہیں ہوسکتے ، اس وقت تک تم کبھی مصیبت میں مبتلانہیں ہوسکتے اور اس وقت تک اس زمین کے اوپر تمہارے وجود کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے ، تم کامیاب اور کامران رہو گے ۔

محفل کے اختتام پردرود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیاجس کے بعد جانشین سلطان الفقرحضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے حاضرین محفل اور پاکستان کے استحکام و بقائ کے لیے خصوصی دعا کی۔

سینکڑوں افراد نے آپ سے بیعت کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین میں شمولیت اختیار کی۔ بیشمار افراد نے اسم اللہ ذات کی اجازت حاصل کی۔ آپ نے شرکائے محفل کو فرداً فرداً ملاقات کا شرف عطا فرمایا۔

بھکر : 24-01-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ضلع بھکر کے کارکنان نے بروز منگل تحصیل کلور کوٹ چاندنی چوک ڈیلی کراس ایم ایم روڈ پر اپنی سابقہ روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے نہایت ہی شاندار ، پُر وقار ، جذبہ داراور عاشقانہ وار محفلِ میلادِ مصطفی ﷺ کا اہتمام کیا۔اس عظیم الشان محفل کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

خصوصی خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ؛

حضور رسالتمآب ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری تین چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور تین چیزوں کو ناپسند فرماتا ہے ، یا رسول اللہ ﷺ ہمارے ماں باپ آپ پہ قربان ہوجائیں آپ یہ ارشاد فرمائیے کہ اللہ کونسی تین چیزوں کو پسند کرتا ہے اور کونسی تین چیزوں کو ناپسند فرماتا ہے توحضور رسالتمآب ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جن تین چیزوں کو پسند کرتا ہے ان میں پہلی چیز یہ ہے کہ

﴿ان تعبدوہ ولا تشرکوہ﴾

کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو ، اللہ کا شریک کسی کو مت ٹھہرائو ، اللہ کی یہ ایک چاہت ہے ، اللہ کی یہ ایک پسند ہے ، اور اللہ اس چیز کو پسند فرماتا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو ، کسی کو اس کا شریک مت ٹھہرائو ۔ ﴿ایاک نعبد و ایاک نستعین ﴾۔

یا رسول اللہ ﷺ دوسری کونسی بات ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ پسند فرماتا ہے تو حضور رسالتمآب ﷺ نے فرما

یا ﴿واعتصموا بحبل اللہ جمیعا﴾

کہ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو ، یعنی تعلق باللہ کو قائم کرو ، اللہ کے دین کے ساتھ وابستہ ہوجائو ، اللہ کی کتاب کے ساتھ وابستہ ہوجائو، نبی ﷺ کی شریعت کے ساتھ وابستہ ہوجائو اور نبی ﷺ کے دین کے ساتھ وابستہ ہوجائو اور نبی ﷺ کی سنت کے ساتھ وابستہ ہوجائو ، اللہ اس چیز کو پسند کرتا ہےیا رسول اللہ ﷺﷺ تیسری کیا چیز ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے تو حضور رسالتمآب ﷺ نے فرمایا

﴿ ولا تفرقو﴾

اور طبقات میں مت بٹو ، فرقوں میں مت پڑ جائو ، اللہ اس چیز کو پسند کرتا ہے ۔

محفل کے اختتام پر حضور رسالتمآب ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ درود و سلام پیش کیا گیاجس کے بعد سرپرست اعلی اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین حضرت سلطان محمد علی صاحب نے استحکامِ پاکستان اور اتحادِ ملّت اسلامیہ کے لیے خصوصی دعا فرمائی، بعد ازاں ہزاروں افراد نے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین میں شمولیت اختیار کی۔

اٹک: 25-01-12

کارکنانِ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین فتح جنگ نے عید گاہ روڈ پر محفل میلاد مصطفی ﷺ کا نہایت احسن طریقے سے اہتمام کیا ۔ تقریب کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام فرد کے باطنی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشرتی استحکام کا درس دیتا ہے۔ اس لیے اگر ہم اپنے معاشرے میں امن و سکون چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے دین کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا ہے تاکہ صراط مستقیم پر چلا جائے۔

مرکزی ناظم اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین الحاج محمد نواز قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے مگر ہم نے اسے تلاوت تک محدود کردیا اور عمل چھوڑ دیااسی وجہ سے ہم پستی کا شکار ہوگئے۔ نشاۃِثانیہ اسی وقت شروع ہوسکتی ہے جب ہم قرآن و سنت کو عملی طور پر اپنائیںاور اپنا مشعلِ راہ بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایامگر ہم اپنے مقام اور اپنے فرائض سے ناآشنا ہیں ۔ ہماری کامیابی اپنے مقام اور فرائض سے آگاہی حاصل کرکے ہی ممکن ہے۔

محفل کے اختتام پر درود و سلام پڑھا گیا۔جس کے جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب نے شرکائے محفل، اہلِ علاقہ اور عالمِ اسلام کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

ایبٹ آباد: 26-01-12

ایبٹ آباد برانچ کے زیرِ اہتمام پائن ہِل کالج مری روڈ کالا پل پربروز جمعرات نہایت ہی شاندار محفل کا انعقاد ہوا۔جس کی سرپرستی جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مد ظلہ الاقدس نے فرمائی۔

حمد و نعت اور کلام حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کے بعد مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے خطاب کرتے ہوئے قرآن کو موضوعِ سخن بنایاکہ ہماری پستی اور زوال کا سبب بھی یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے یا صرف قرآن خوانی تک ہی رہ گئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن خوانی کیساتھ ساتھ قرآن فہمی پر زور دیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا :

قرآن کی صورت میں ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ نسخۂ کیمیا عطا کردیا ،ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ دوا بتا دی کہ یہ تمہارے تمام امراض کی دوا ہے اور یہ وہ نسخۂ کیمیا ہے کہ اس کے ساتھ اگر پتھر بھی لگ گیا تو وہ بھی سونا بن جائے گا اور اس کے ساتھ تم جس معاشرہ میں جائو گے ، جس سلطنت کے اندر جائو گے ، جس سرزمین پہ اترو گے ، اس سرزمین میں تمہارے لیے کوئی چیلنج پیدا نہیں ہوگا ، تمہارے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوگی ، تمہارے لیے کوئی مصائب پیدا نہیں ہونگے ، بلکہ اس زمین کو بھی تم فتح کرتے جائو گے ، اس زمین کے اوپر بسنے والے لوگوں کو بھی تم فتح کرتے جائو گے کیونکہ قرآن کریم بنیادی طور پر جو دعوت دیتا ہے وہ دعوت وہی ہے کہ قرآن کریم انسان کو اپنے اندر تدبر کرنے کی دعوت دیتا ہے ، قرآن کریم انسان کو اپنے اندر غور کرنے کی ، اپنے اندر فکر کرنے کی ، اپنے اندر سوچنے کی اور اپنے اندر تدبر اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ اپنے اندر سوچو اور میرے اندر سوچو ، یہ دعوت ہے قرآن کریم کی اور جب انسان اپنے اس شرف کو پالیتا ہے اور اسے یہ پتا چل جاتا ہے کہ میرا شرف پر خان ہونے ، ملک ہونے ، چوہدری ہونے یا کسی دنیاوی جاہ و منصب سے نہیں بلکہ اس زمین کے اوپر میرا شرف اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ تعلق اور اس کے تقوے کے اوپر قائم ہے ، یہ تدبر اور یہ فکر انسان کے اندر راسخ ہوجاتی ہے پھر اس انسان کو ہر انسان عظیم نظر آتا ہے اور اس انسان کو انسان کا ہر طبقہ بلند نظر آتا ہے ۔

پروگرام کے اختتام حضرت سلطان محمد علی صاحب نے استحکامِ پاکستان ، عالمِ اسلام کے اتحاد اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

ہری پور: 27-01-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے ہری پور کے کارکنان نے بروز جمعہ محفل میلاد مصطفی ﷺ کے سلسلے میں نہایت ہی جوش و جذبے سے کھلا بٹ ٹائون میں اختر نوازخان سٹیڈیم کو سجایا۔ پورے پنڈال میں اولیائے کاملین کے پیغامات پر مشتمل بینرز آویزاں تھے۔ سٹیج کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب کی زیرِ صدارت ہونے والی اس محفل میں نقابت کے فرائض مفتی محمد شیر القادری نے نبھائے۔

مجمع عام سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوموں کی بالخصوص امتِ مسلمہ کی تقدیر کا فیصلہ اللہ تبارک تعالیٰ نے خود اس اُمت میں دے دیا کہ یہ اگرچاہے تو ذلت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو اپنا لے اور اگر یہ قوم چاہے تو اس زمین کی ، اس جہان کی ظلمت کے اندر ایک نیا سورج طلوع کردے ، وہ اختیار اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس امت کو دے دیا ، یہ اپنے لیے جو فیصلہ کرے ، وہی اس کا مقدر ہوگا ۔ یارسول اللہ ﷺ یہ کیا کرے کہ ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل جائے اور یہ کیا کرے کہ زمانے کے اندر اُجالوں کا اور روشنی کا ایک نیاسورج طلوع کر دے تو حضور رسالتمآب ﷺ نے فرمایا کہ

﴿ان اللّٰہ یرفع بہذالکتاب اقواما و یضع بہ آخرین﴾

کہ اے عمر(رض) !اللہ تبارک و تعالیٰ کی یہ پاک کتاب جو میں تمہارے اندر لے کے آیا ہوں اور اللہ نے میرے اوپر نازل فرمائی ہے ، تم جب تک اس کتاب کے ساتھ اپنے دامن کو وابستہ رکھو گے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں سرفراز رکھے گا اور جب اس کا دامن تمہارے ہاتھ سے چھوٹ گیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں ہلاکت میں مبتلا کردے گا ۔

پروگرام کے اختتام پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مد ظلہ الاقدس نے استحکام پاکستان اور امت مسلمہ کی بقائ و سلامتی کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

اسلام آباد: 28-01-12

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آبادکے کارکنان اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے اس سال محفل میلاد مصطفی ﷺ کے لیے جناح کنونشن سنٹر کا انتخاب کیا۔ پروگرام کا انتظام و انصرام نہایت ہی احسن طریقے سے کیا گیا پورے راولپنڈی اسلام آباد میں تشہیری فلیکس آویزاں کئے گئے تھے۔ حضرت سلطان محمد علی صاحب کی زیرِ صدارت ہونے والے اس پروگرام میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ: حضرت سلطان باھو(رح) فرماتے ہیں کہ

اُس دل تھیںسنگ پتھر چنگے جو دل غفلت اٹی ھو

اس دل سے تو پتھر مٹی اور اینٹیں بہتر ہوتی ہیں کہ جس دل کے اوپر غفلت کا غبار چڑھ جائے جس دل کے اوپر غفلت کی دوبیز تہہ چڑھ جائے اور جس د ل کے اوپر غفلت کا زنگ چڑھ جائے اور اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید میں بتایا

﴿ولقد ذررانا لجھنم کثیرا من الجن والانس ﴾
کہ کثیر تعداد جنوں اور انسانوں کی ایسی ہے جن کا ٹھکا نہ جہنم ہے

۔اس کی وجہ یہ ہے

﴿لھم قلو ب لا یفقھون بھا﴾
میں نے انہیں دل دیے وہ اپنے دلوں سے بے خبر ہیں

﴿ولھم اذان لا یسمعون بھا﴾
میں نے انہیں کان دیے وہ اس سے سنتے نہیں

﴿ولھم اعین لایبصرون بھا﴾
میں نے انہیں آنکھیں دی ہیں وہ ان سے دیکھتے نہیں

اب ان تینوں چیزوں کے اوپر ہم جب اپنی عقل سے دیکھتے ہیں کہ کیا ہم اپنے دل سے بے خبر ہیں ؟نہیں مجھے پتہ ہے کہ میرا دل بائیں جانب ہے ابھی کسی لیبارٹری میں جائیں اور دل کا آلہ لگائیں تو وہ دل کے متعلقہ تمام چیزیں بتا دے گا کہ کس طرح کام کررہا ہے ؟ کتنی Percentage ہے کام کرنے کی اور کتنی دیر مزید کا م کر سکتا ہے ۔ہم کیسے اپنے دل سے بے خبر ہوئے ؟ کیسے غافل ہوئے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا میں نے انہیں کان دیے ہیں وہ اپنے کانوں سے سنتے نہیں ۔ میرے کان ہیں ، ہر انسان کے کان ہیں ، ہم اپنے کانوں سے سنتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے انہیں آنکھیں عطا کی ہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے نہیں ۔اب آنکھیں ہیں تو ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ کن آنکھوں کی بات کررہا ہے ؟یہ کن کانوں کی اللہ بات کررہا ہے ؟ یہ کس دل کی اللہ بات کررہا ہے؟ہم تو بے خبر نہیں ہیں ہم تو سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں ہیںشاید ہم سے پہلے لوگ ان سے بے خبر ہوں تو اللہ تعالیٰ کن آنکھوں ، کان اور دل کی بات کررہا ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس خون کے لوتھڑا جو ہمارے بائیں جانب ہے جس کو ہم اصطلاح میں دل کہتے ہیں اس کی بات نہیں کررہا بلکہ اللہ تعالیٰ دل کی اُس حقیقت کی بات کر رہے ہیں جس کے بارے میں حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا

﴿لا یسعنی ارضی ولا سمائی ولکن یسعنی فی قلب عبدالمومن ﴾
کہ میں زمینوں اور آسمانوں میں نہیں سماتا بلکہ بندہ مومن کے دل میں سماتا ہوں

تو بنیادی طور پر انسان کو جو دل ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جلوہ گاہ ہے اور اسی لیے مولانا رومی ہمیں بتاتے ہیں کہ

گر نبودے ذاتِ حق اندر وجود آب و گل را کے ملک کردی سجود
کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا نور وجودِ آدم کے اندر نہ ہوتا تو مٹی اور پانی کو فرشتے کیسے سجدہ کرتے ۔

یہ وہ فضیلت دل کی ہے اورجس کی جانب بار بار اللہ تعالیٰ توجہ دلاتا ہے کہ اگر دل سے غافل ہوجائو تو تمہارا ٹھکانہ جہنم بنا دیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق کہ اگر میری یاد سے ، میری اذان سے ، میری معرفت سے تمہارے دل ، آنکھ اور کان غافل ہوجائیں گے تو تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور جہنم دارین ہوگا یعنی اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

اب اس آیت کا اگلا حصہ کہ وہ لوگ

﴿اولٓئک کاالانعام بل ھم اضل﴾
وہ جانوروں کی مثل ہیں بلکہ وہ جانوروں سے بھی بد تر ہیں ۔

آج آپ اپنے گردو پیش میں دیکھیں کیا جس طرف اللہ تعالیٰ نے متوجہ کیا ہے کیا وہ حیوانیت ہمارے معاشرے میں نہیں پنپ رہی بالکل ہے مثلاً آپ قتل و غارت کو دیکھ لیجئے یہ بھی حیوانیت ہے مثلاً اکتوبر 2010ئ سے لے کر اکتوبر 2011ئ تک اس چھوٹے سے ملک کے اندر 12580قتل کے کیسز فائل ہوئے ہیں جبکہ قتل اس سے زیادہ ہوئے ہوں گے۔تقریباً ایک ماہ میں ایک ہزار قتل ہورہے ہیں کیا آپ اس کو حیوانیت نہیں کہیں گے ؟ کیا خدا کا یہ قو ل ہم پہ ثابت نہیں آرہا ہے ؟کہ تم جانوروں کی مثل ہوجائو گے بلکہ اس سے بھی بد تر ہو جائو گے ۔

اسی لیے مولانا رومی چیخ اٹھتے ہیں کہ

دی شیخ با چراغ ہمیں گشت گرد شہر
کز دام و دد ملومم انسانم آرزوست

میں نے دیکھا ایک درویش چراغ ہاتھ میں لیے شہر کا چکر لگا رہا تھاتو میں اس نے پوچھا اے درویش! کیا ڈھونڈتا ہے ؟درویش نے جواب دیا کہ میں ان بھیڑیا نما انسانوں سے، ان دو ٹانگوں والے حیوانوں سے تنگ آگیا ہوںمیری آرزو انسان ہے ۔میں کسی انسان کا متلاشی ہوں ، مجھے کوئی انسان نہیں مل رہا ۔علامہ اقبال ہمیں بتاتے ہیں

آدم کو ثبات کی طلب ہے
دستور حیات کی طلب ہے

کہ انسانی معاشرہ حیوانیت کی لپیٹ میں آگیا ہے اور اس درندگی نے ہماری باطن سے ہماری روحانی قوت سے ، ہمارے قلب سے اس محرومی او راس غفلت نے ہمیں حیوانیت کے اندر مبتلا کردیا ہے اور یہ حیوانیت ہے کہ بڑھتی چلی جارہی ہے اور بتدریج بڑھتی جا رہی ہے اور ہمیں مزید تباہی کے دہانے پر لے جا رہی ہے ۔کیا یہ وقت نہیں ہے کہ ہم اللہ کی طرف رجوع کریں ، قرآن کی طرف رجوع کریں ،اسوۂ حسنہ کی طرف رجوع کریں رسالت مآب ﷺ کے احکامات اور آپ کے تشکیل کردہ اس معاشرے کی طرف رجوع کریں ، ہم اپنی اصلاح کریں اپنے دل کو زندہ کریں ۔اپنے کانوں کو کھولیں اور اپنی ان آنکھوں کے سامنے سے گرد کی وہ تہہ ہٹائیں اور آنکھیں کھولیں۔

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
اس جلوہ ٔ بے پردہ کو پردوںمیںچھپا دیکھ

درود و سلام کے بعد پاکستان کے استحکام ، امت مسلمہ کی بقائ اور اصلاحِ انسانیت کے لیے سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے خصوصی دعا فرمائی۔

اجتماع میں سیاسی قائدین ، اراکین پارلیمنٹ ، سماجی کارکنان ، صحافیوں کی بڑی تعداد ، وکلائ، علمائ اور ڈاکٹرز حضرات کے علاوہ ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والی عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔

چکوال : 29-01-12

چکوال کے کارکنان اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے میونسپل سٹیڈیم کو نہایت ہی خوبصورتی سے سجایا۔ تلاوت و نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد کلام حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ پیش کیا گیا۔

محمد رمضان سلطانی اور صوفی غلام شبیر نے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے پیغام کو منظوم صورت میں پیش کرکے عوام الناس کے قلوب کو منور کیا۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی ناظم اعلیٰ الحاج محمد نواز قادری نے کہا:اللہ تعالیٰ نے انسان کی قدر بیان کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ’’ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسان کو زندہ کرنا پوری انسانیت کو زندہ کرنا ہے ‘‘ کا ش کہ ہم انسان سے باخبر ہوجاتے اور مقام انسان کو سمجھ لیتے ۔ اس لیے علامہ اقبال نے فرمایا؛

عجب نہیں کہ خدا تک تیری رسائی ہو
تیری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام

درود و سلام کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے اہلِ علاقہ اور پاکستان کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

پروگرام میں عوام الناس نے بھر پور شرکت کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے پیغام سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔سینکڑوں افرا د نے جانشین سلطان الفقر کے دستِ اقدس پر بیعت کرکے اس جماعت میں شمولیت اختیار کی۔شرکائے محفل نے آپ سے فردا فردا ملاقا ت کا شرف حاصل کیا۔

جہلم: 30-01-12

کارکنان و وابستگان اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین جہلم نے سید ضمیر جعفری سٹیڈیم میں محفل میلاد مصطفی ﷺ کا اہتمام کیا۔ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس کی سرپرستی میں ہونے والی اس محفل میں نقابت کے فرائض مفتی محمد شیر القادری نے نبھائے ۔ حمد و نعت کے بعد اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے پیغام پر مبنی منظوم کلام بھی پیش کیا گیا۔

مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو پوری عالم انسانیت کے لیے راہنمائی کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس کی روشنی میں پوری دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی ناظم اعلیٰ الحاج محمد نواز قادری نے کہا:فرمان الٰہی ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور یہی سیدھا راستہ ہے ۔ شیطان کی پیروی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے ہمیں اپنی خبر لینی چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا کررہے ہیں اورکیا کہہ رہے ہیں ہمیں اپنے قول و فعل کی خبر ہونی چاہیے ﴿ثم تقولون مالا تفعلون﴾ ’’وہ بات کیوں کہتے ہو کرتے نہیں ‘‘

۔ دورنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو جا یا پھر سنگ ہو جا

محفل کے اختتام پر درود و سلام پڑھا گیا جس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے حاضرین محفل، اور ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ کثیر تعداد نے آپ کے دست حق پر بیعت کرکے راہِ حق پر گامزن ہوئے۔حاضرین محفل کو فردا فردا آپ سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔

سیالکوٹ: 31-01-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین سیالکوٹ برانچ نے نہایت اعلیٰ محفل میلاد مصطفی ﷺ  کا اہتمام کیا۔ تقریب کی سرپرستی جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی ۔ حمد و نعت کے بعد حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کا عارفانہ کلام پڑھا گیا۔ مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے کہا کہ اس پرفتن دور میں اولیائے کاملین کی تعلیمات کی اشاعت و تبلیغ کی اشد ضرورت ہے جو امن و سلامتی کا ضامن ہے۔ یہ کام اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین احسن طریقے سے نبھارہی ہے۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی ناظم اعلیٰ الحاج محمد نواز قادری نے کہاکہ ابلیس نے انسان کے صرف ظاہری وجود کو حقیقت انسان سمجھ بیٹھا اور گمراہ ہوگیا آج ہماری دین سے دوری کا سبب یہ ہے کہ آج ہم نے بھی اس مادی وجود کو حقیقت انسان سمجھ رہے ہیں جو ہمیں ابلیس کی میراث مل رہی ہے اور ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں علامہ فرماتے ہیں ؛

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے

ہم نے سب کچھ اس ظاہری وجود کو سمجھ رکھا ہے اور باطن اور باطن سے بے خبر ہیں ۔ پروگرام کے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ درود و سلام پیش کیا گیا جس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے آزادیٔ فلسطین ، کشمیر ، بوسنیا کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعافرمائی۔

گوجرانوالہ: 01-02-12

کارکنان اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین گوجرانوالہ برانچ نے محفل میلاد مصطفی ﷺ    و جشن حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہکے لیے شیخوپورہ موڑ پرواقع منی سٹیڈیم کا انتخاب کیا۔ بدھ کے روز ہونے والی اس محفل کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

صاحبزادہ سلطان احمد علی نے مرکزی خطاب کرتے ہوئے کہا:کہ

بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ ایرانی رہے باقی نہ تورانی نہ افغانی

کہ کوئی بھی باقی نہ رہے صرف ایک ملت اور رشتہ ﴿لا الہ الا اللہ محمد رسو ل اللہ﴾ باقی رہے اور حضور رسالت مآب ﷺ نے جو کام کیا ہے آپ نے یہ کام ایسے نہیں فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ذمہ یہ ڈیوٹی دی تھی کہ آپ جائیں زمین کے اوپر اور جو مَیں نے آپ کے اوپر الہام کیا ہے جو مَیں نے آپ کو وحی کے ذریعے ، قرآن کے ذریعے جو نظام عطا کیا ہے اے حبیبِ مکرم ﷺ آپ تشریف لے جائیے اور یہ قرآن مَیں نے باعث ہدایت ، باعث شفا بنا دیا ہے آپ جائیں اور اس نظامِ الہام کا ، اس نظام وحی کا اور اس نظامِ قرآن کا عملی نفاذ فر مائیں اگر حضور رسالت مآب ﷺ کی اُس پوری تحریک کو دیکھا جائے کہ حضور ﷺ کیا چاہتے تھے؟ تو نتیجے میں یہی پتہ چلتا ہے کہ حضور اس زمین کے اوپر وحی کے نظام کا نفاذ چاہتے تھے ، اللہ کے دین کا نفاذ چاہتے تھے اور حضور ﷺ نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی تمام زندگی مبارک اُسی نظام وحی کے لیے صَرف فرمادی۔اور یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ زمین کے اوپر وحی کے علاوہ مادیت سے جتنے بھی ماخذ نظام ہیں مادی سوچ سے، مادی فکر سے،مادی مفاد سے تشکیل پانے والے جتنے بھی نظام ہیں وہ زمین کے اوپر امن قائم نہیں کرسکتے۔ زمین کے اوپر امن صرف اور صرف نظامِ وحی کے نافذ ہونے سے قائم ہوتا ہے اگر نظام وحی یعنی الہامی نظام جسے ہم قرآنی نظام کہتے ہیں اور جسے ہم مصطفوی نظام کہتے ہیں اگر زمین کے اوپر وہ نافذ ہو تو یہ زمین پُر امن رہتی ہے لیکن اگر زمین کے اوپرکسی مادی تشکیل شدہ نظام کو نافذ کردیا جائے تو زمین کے اوپر فتنہ اور فساد پھوٹ پڑتا ہے ۔

اس لئے حضور ﷺ کے میلاد کو فقط ثواب کا آلہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ حضور کے اسمِ گرامی سے منعقد ہونے والی محفل ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ حضور ﷺ نے جو نظام قائم کیا ہم اُس نظام کو سمجھیں اور اُس نظام کو اپنے اندر راسخ کریں کیونکہ مادیت سے تشکیل دیئے گئے نظام زمین پر امن، اخوت اور بھائی چارے کو قائم نہیں کرسکتے لیکن الہام سے ، وحی سے ،قرآن سے ، مصطفےٰ کریم ﷺ کی سنت سے تشکیل کردہ نظام ہے جو اس زمین پر امن قائم کرسکتا ہے اور تاریخ ِ مذاہب ہی نہیں بلکہ تاریخِ انسانی بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی مادیت کے بتوں سے تشکیل کیے گئے نظام نافذ کیے گئے تو اس زمین پہ ظلم ، تشدد ، تعصب اور استبداد کا بازار گرم رہا ۔ ظلم کے بادل چھٹ جائیں گے جب اس زمین پر ﴿لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ﴾ سے تشکیل کردہ نظام نافذ کردیا جائے گا ۔

تقریب کے اختتام پردرود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیاجس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے اصلاح انسانیت اور امتِ مسلمہ کے اتفاق اور اتحاد کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔سینکڑوں لوگوں نے آپ کے دستِ حق پر بیعت کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین میں شمولیت اختیار کی۔

حافظ آباد: 02-02-12

کارکنانِ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ضلع حافظ آباد نے نہایت ہی شاندار محفل میلاد مصطفی ﷺ کا اہتمام کیاجس کی سرپرستی جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

سٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی محمد شیر القادری نے ادا کیے مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

شریعت نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اس کو نماز سکھائو اور جب دس سال کا ہوجائے تو سختی سے نماز پڑھائو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم مسلمان ہیں پم اپنے بچوں کو نماز سکھاتے بھی ہیں ، خود بھی پڑھتے ہیں اور گھروالوں کو تلقین بھی کرتے ہیں لیکن سوچنا یہ ہے کہ ہم عرصہ دراز سے نمازیں پڑھ رہے ہیں ، روزہ رکھ رہے ہیں کیا ہمیں نماز روزہ اور دیگر اعمال کے ثمرات ہمیں مل رہے ہیں۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے الحاج محمد نواز قادری نے مفتی مطیع اللہ صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے نماز کے بارے میں فرمایا کہ ’’ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ‘‘ کیا ہم ہم رک گئے ہیں؟ مَیں سمجھتا ہوں کہ ہم نماز سے غافل ہیں علامہ اقبال فرماتے ہیں ؛

مدت ہوئی سنتے ہیں نغمے نہ جانا اب تک ساز کیا ہے
جبیں پہ داغِ سجود بھی ہے نہ جانا اب تک نماز کیا ہے

اور حضرت سلطان باھو فرماتے ہیں

؛ òدل توں نماز پڑھائیو ناں کی ہویا جے نیتی ھو

تقریب کے اختتام پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیاجس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمدعلی صاحب مدظلہ الاقدس نے شرکائے محفل ، اہل علاقہ اور پاکستان کی سلامتی اور بقائ کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ بیشمار افراد نے آپ کے دست حق پر بیعت کرکے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔

فیصل آباد: 03-02-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین فیصل آباد برانچ کے زیرِ انتظام پہاڑی والی گرائونڈمیں نہایت ہی شاندار محفل میلادِ مصطفی ﷺ کا اہتمام ہوا۔ محفل کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔ حمد و نعت کے بعد الحاج محمد نواز قادری نے مقام انسان کو بیان کرتے ہوئے کہا: کہ اللہ تعالیٰ نے قسمیں اُٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا فرمایا ہے ﴿ولقد کرمنا بنی اٰدم ﴾ افسوس کہ آج ہم نے انسان کا تعارف گندے قطرے سے بڑھ کر نہیں سمجھا ہمیں گندہ قطرہ تو یاد رہا لیکن احسن تقویم اور ﴿ولقد کرمنا بنی اٰدم ﴾کو بھول گئے ہیں اس لیے علامہ نے فرمایا

تیری نجات غمِ مرگ سے نہیں ہے ممکن
کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی

مرکزی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہااقبال ہمیں یہ بتاتے ہیں :

افرنگ ز خود بے خبرت کرد وگرنہ
اے بندۂ مومن تو بشیری، تو نذیری

کہ افرنگ نے اپنی فکر اور اپنی سو چ سے ، تیری نظر کو ، تیری سوچ کو ، تیری بصیرت کو تیری آنکھ کو دھندلا دیا ہے ورنہ اے بندۂ مومن تو بھی رسالت مآب ﷺ کی صفات سے متصف ہوتے ہوئے اور حضور کے اخلاق سے متخلق ہوتے ہوئے تُو بھی بشیر کا درجہ رکھتا ہے اور تُو بھی نذیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ حضور نے اپنے دین کو نافذ کرنے کی ذمہ داری تمہارے کندھوں کے اوپر ڈال دی ہے اگر اسی طرح قرآن کی اس آیت کی گہرائی میں جا کر دیکھیں کہ ﴿اخرجت للنّاس تأمرون بالمعروف﴾ کہ تم لوگوں کے لیے نکالے گئے ہو ۔ مومن ہے ہی وہ جو اپنی ہر صفت میں اوراپنے ہر عمل میں جو اپنے ہر قول میں حضور ﷺ کے قول کی ترجمانی کر رہا ہو،مومن کو دیکھیں تو حضور کی سنت سننے کی ضرورت پیش نہ آئے مومن کے عمل سے حضور کی سنّت واضح ہوتی جائے ۔ مومن کی گفتار سے ، مومن کے کردار سے حضورکی سنّت واضح ہوتی جائے۔اسی طرح اگر آپ ﴿امر بالمعروف﴾ کی صوفیانہ تشریح دیکھیں تو لفظ ﴿معروف﴾ کو ﴿عرف﴾ سے ماخذکرتے ہیںاور ﴿عرف﴾ کا مطلب ہے پہچاننااور ﴿عرف﴾ کا فاعل ﴿عارف﴾ بنتا ہے اور ﴿عارف﴾ کا مطلب جس نے پہچان کی ہو۔اور ﴿عرف﴾ کا مفعول ﴿معروف﴾ بنتا ہے جس کی پہچان کی گئی ہوصوفیا ئ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ﴿امر بالمعروف﴾ کا مطلب لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینا ، لوگوں کو مشاہدہ ٔ قلب کی طرف دعوت دینااور لوگوں کو اپنے قلب کی حضوری دعوت دینا اور اللہ تعالیٰ کی پہچان کی دعوت دینا اور یہ کہتے ہیں کہ یہ مومن پر فریضہ عائد کیا گیا اور اسے کہا کہ ﴿کنتم خیر امۃ ﴾ تم بہترین امت ہو کیونکہ ﴿تامرون بالمعروف﴾ تم لوگوں کو جاکے معرفت الٰہی کا حکم کرتے ہو۔

حضوررسالت مآب کی یہ صفت کہ ﴿یایھاالنبی انا ارسلنک شاھد ا ومبشرا ونذیرا﴾کہ اے نبی ﷺ بے شک ہم نے آپ کو شاہد بناکربھیجا ،گواہ بناکر،گواہ کس چیزکاگواہ بناکر؟حضور نے کس بات کی گواہی آکے دی؟ حضو ر نے اللہ کی توحید کی گواہی دی ،اللہ کی وحدانیت کی اور اللہ کے لاشریک ہو نے کی گواہی دی ۔ گواہی کا اصول یہ ہے کہ گواہی ہمشیہ دیکھ کے دی جاتی ہے جس نے دیکھانہیں وہ اس معاملے کا گواہ نہیں ہوسکتا یہ گواہی کا وہ سادہ سا فارمولاہے جو دنیاکی عدالتوں میںاس وقت بھی رائج ہے اور زمانہ قدیم سے لیکر آج تک یہی چلاآرہاہے۔ حضور کی یہ صفت اللہ پاک نے بیان فرمائی کہ رسول رسالتِ مآب ﷺ آپ گواہی دیتے ہیں اللہ کے ایک ہونے کی کیونکہ حضور نے اپنے چشمِ مصطفٰے ہی سے ،حضور نے اپنی چشم محمدی سے انوار وتجلیات کا مشاہدہ کیاہے حضور اللہ کی وحدانیت کے ،اللہ کے لاشریک ہونے کے ،اللہ کے ایک ہونے کے ،اللہ کے صمد ہونے کے ،اس کے ﴿لم یلد ولم یولد﴾ ہونے کاخود مشاہدہ کیا اس لیے حضور اس بات کے شاہد ہیں ۔اور مومن کو کہا ﴿ تامرون بالمعروف﴾ میری معرفت کاحکم کرو اور اس لیے ہم جب نماز پڑھتے ہیں اور اپنی اس نماز میں ہم اپنے اللہ کے روبرو یہ گواہی پیش کر تے ہیںکہ جس طرح شیخ الاکبر محی الدین عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اے بندے جب تو کلمہ شہادت پڑھتاہے تو اس وقت تعلق باللہ کی اس کیفیت میں ہو کہ کلمہ شہادت کو اداکرتے ہوئے تیری نگاہوں کے سامنے ، تیرے قلب کی آنکھ کے سامنے ،تیری روح کی آنکھ کے سامنے اللہ تعالی کے انوار و تجلیات ہوں ، لیکن اگر تجھے یہ مقام ومرتبہ نصیب نہیں اگر تجھے اللہ کا یہ قرب نصیب نہیں اگر تجھے قربِ الٰہی کی یہ منزل نصیب نہیں ہے تو سمجھ لے کہ تو کلمہ شہادت کے پڑھنے کے اور اپنی گواہی دینے کے ’’مقامِ اولیٰ‘‘ پر فائزنہیں ہے توگواہی دینے کے مقامِ ’’متبادل پر فائز ‘‘ ہے ۔

درجہ اولیٰ یہ ہے کہ اسکی گواہی اس کی حریمِ ذات میں کھڑے ہو کہ دی جائے ۔اقبال پچھلی دو صدیوں کا وہ عارف گزراہے اور وہ داعی ہے اور اقبال نے جس بے باکی سے اللہ کے حضور ہمیں اپنی شہادت کو کامل کرنے کی دعوت دی ہے میرا خیال ہے کہ پچھلی ان دو صدیوں میں شاید بہت کم لوگوں نے اتنے واشگاف الفاظ میں اور للکار کر ہمیں یہ دعوت دی ہو ؛

دلوں کو مرکز مہر و وفا کر
حریم کبریا سے آشنا کر

جب تُو کلمہ شہادت کہے تو اس وقت تیرا دل اللہ کے حریم سے ،اللہ کے انواروتجلیات سے آشنا ہواور تُو اسے دیکھ کر کہے ﴿اشھد ان لا الہ الا وحدہ، لا شریک لہ، ﴾۔

تقریب کے اختتام پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے استحکامِ پاکستان اور اصلاحِ انسانیت کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ ہزاروں افراد آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کرکے راہِ حق پر گامزن ہوئے۔ شرکائے محفل نے فردا فردا آپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کیا۔

شیخوپورہ: 04-02-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین شیخوپورہ برانچ نے اس سال ہاکی سٹیڈیم کا انتخاب کیا جہاں نہایت ہی عمدہ اور شاندار انتظامات کے ساتھ محفل میلاد مصطفی ﷺ کی تقریب کا اہتمام کیا ۔ تقریب کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے کہا: دنیا میں دو گروہ ہیں ایک حزب اللہ کا اور دوسرا حزب الشیطان کا ۔ اللہ کا گروہ کامیاب ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور شیطان کا گروہ دونوں جہان میںذلیل و رسوا اور ناکام ہے۔ ہمیں اپنی خبر لینی چاہیے کہ ہم کس گروہ میں ہیں کہیں شیطان کی پیروی تو نہیں کر رہے اور اپنا شمار حزب اللہ میں کیے ہوئے ہیں ۔ جب تک اپنی اپنی خبر گیری نہیں ہوگی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی ذات تک رسائی نہیں ہوسکتی ۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا:

اللہ تعالیٰ کا عطاکردہ نظام زندگی ، نظام سیاست ، نظام معیشت،ہر نظام سے بڑا ہے اس کے بغیر بڑا کسی کو مت مانو۔آج یہ اذان کہاں کھوگئی کہ اقبال کو نوحہ کرنا پڑا ۔

واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برقِ طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
رِہ گئی رسمِ اَذاں رُوحِ بلالی نہ رہی

روح بلالی کیا ہے ؟ ’’اُمیہ بن خلف !میرے سینے پر جتنا مرضی بڑا پتھر رکھ لے ، مجھے مکے کی گلیوں میں گھسیٹ لے ، ان سنگلاخ چٹانوں پر گھسیٹ، مجھے تپتی ریت پر لٹا دے، میرے جسم پر کوڑے مار،لیکن اس کی وحدانیت کی کمٹمنٹ کر چکا ہوں اُس کی وحدانیت پر کوئی Compromiseنہیں کروں گا‘‘۔

اصلاحی جماعت وعالمی تنظیم العارفین یہی دعوت لے کر آپ کے پاس آئی ہے کہ خدارا ! ہماری جو بنیاد ہے رسول اللہ ﷺ سے تعلق کی اُس بنیاد پر نظر ثانی کریں کیونکہ اللہ نے فرمایا میرا محبوب جو کہے اُس کو مانوجس سے منع کرے اُس سے رک جائومجھ سے ڈرو ورنہ میرے عذاب کے منتظر رہو۔

حضور ﷺ نے کس چیز کا حکم دیا؟قرآن سے وابستہ ہوجائو، سنّت سے وابستہ ہوجائواور فقرو سلطنت کا راستہ اختیار کرو۔

کس چیز سے منع کیا؟ شرک سے منع کیا، جھگڑے سے ، باہمی لڑائی سے منع کیا،فحاشی سے منع کیا، طلاق سے منع کیا،ان سے باز آجائو اور اللہ سے ڈروورنہ اُس کا عذاب تمہارے اوپر طاری کردیا جائے گا۔

مَیں یہی دعوت آپ سب بھائیوں کو دوں گا کہ آئیں آج ہمیں اپنے آپ سے اس تبدیلی کا آغاز کرنا ہے اور اپنے گھروں میں جا کر حضور ﷺ کی سنت کے مطابق کہ سب سے پہلی دعوت آپ ﷺ نے اُم المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ (رض) کو پیش فرمائی۔ آپ بھی اپنے گھر میں جاکے یہ اذان دیں ، اپنے بچوں میں جاکے یہ اذان دیں ، اپنے رشتہ داروں میں جاکے یہ اذان دیں ، اپنی گلیوں میں جاکے یہ اذان دیں ، اپنے دفاتر میں ، دکانوں میں ، اپنے کالجز میں ، اپنی یونیورسٹیز میں ، اپنی لیبارٹریز میں اور اپنی لائبریریز میں جا کے یہ اذان دیں۔ یہ اذان آج مجھ پر بھی فرض ہے ، یہ اذان آج آپ پر بھی فرض ہے یہ اذان آج ہر اللہ کے نام لیوا پر ، مصطفےٰ ﷺ کے نام لیوا پر فرض ہے بلکہ ہر کلمہ گو پر فرض ہے اور یقین جانیے جب یہ اذان آپ دیں گے تو ظلم و استبداد کی کالی گھٹائیں چھَٹ جائیں گی ، ظلمت اور جہالت کی یہ گھنگھور گھٹائیں چھٹ جائیں گی ، سامراجیت ، تعصب اور استبداد کے اندھیرے جو ہمارے اوپر چھائے ہوئے ہیں، چھٹ جائیں گے اور یہی بات اقبال ہمیں بتاتا ہے۔

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا

آئیں ہم سب مومن بنیں اور دُنیا میں جا کے یہ اذان دیں۔ محفل کے اختتام پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ درود و سلام کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی مد ظلہ، الاقدس نے پاکستان کی بقا اور عالم اسلام کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ ہزاروں لوگوں نے آپ کے دستِ اقدس پہ بیعت کرکے جماعت میں شامل ہوئے۔

لاہور: 05-02-12

ضلع لاہو ر برانچ کے زیر اہتمام ریلوے گریفن فٹ بال گرائونڈ میں 12 ربیع الاول کے بابرکت دن محفل میلاد مصطفی ﷺ و خصوصی دعا برائے آزادیٔ کشمیر کے عنوان سے نہایت ہی شاندار تقریب کا اہتمام ہوا۔ تقریب کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

حمد و نعت کے بعد مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسوہ حسنہ کو اپنایا جائے اور سیرت نبی ﷺ سے انسانی ہمدردی کا پہلو ہمارے معاشرے میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھائی چارے اور اخوت کو فروغ ملے ۔

خصوصی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

ہم نے پاکستان اسلام کے نظریے پہ حاصل کیا مگر اس نظریہ کی پاسداری نہ ہونے کے سبب استعمار ہم پر دوبارہ مسلط ہوچکا ہے ۔ اس غلامی سے نجات کا واحد ذریعہ قرآن و سنت کا عملی نفاذ ہے ۔ آپ نے مزید کہا کہ قائد اعظم پر سیکولر الزامات مغرب کو خوش کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم کی مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کے بعد کوئی ایسی تقریر نہیںجس میں ہندوستان میںبقائے اسلام کی تدبیر آنے کی فکر کو اجاگر نہ کیا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اگر مذاکرات سے حل نہیں ہوتاتو ہمیں جہاد کے ذریعے حل کرنا چاہے ۔ ہمیں فرقہ واریت اور دیگر فروعی اختلافات کو ختم کرکے یکجا ہونا ہے تاکہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اُمت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے ۔

تقریب کے اختتام پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا جس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے آزادیٔ فلسطین، بوسنیا، اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ سینکڑوں افراد نے آپ کے دستِ اقدس پہ بیعت کرکے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔

سرگودھا: 06-02-12

سرگودھا برانچ کے زیرِ اہتمام کمپنی باغ میں بروز پیر نہایت ہی شاندار محفل میلاد مصطفی ﷺ کا انعقاد ہوا۔ تقریب کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے کہا:

کامیاب اور ناکام کی بنیاد ذکراللہ ہے کثرت ذکر کرنے والے کامیاب اور نہ کرنے والے ناکام ہوتے ہیں اب ہمیں اپنی خبر لینی چاہیے کہ ہم ناکام گروہ میں سے ہیں یا کامیاب میںسے ہیں ۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا: اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ اس کا دین باقی تمام ادیان پر غالب آجائے۔زمین کے چپہ چپہ پر ، ہر گھر تک ، ہر گلی محلے تک ہر فرد تک حتیٰ کہ پورے کرّۂ ارض پر اللہ کے دین کا نفاذ ہوجائے اور تمام عالم انسانیت ایک خدا کی وحدانیت ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت ، اور ان کی رحمت کے پرچم تلے جمع ہوجائے۔ خود رسول اللہ ﷺ اور آپ کے جانثار ساتھیوں نے اسی مقصد کے لیے قربانیاں دیں تاکہ اللہ کا یہ دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔

عہد حاضرمیں ہم جدت کے نام پر بے حیائی اور فحاشی کو اپنا کر اپنے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کرچکے ہیں آج ہر جگہ اخلاقی زوال کی آگ لگی ہوئی ہے ۔انسان کی زندگی دو سانسوں پر قائم ہے ۔ ہماری جوانی بھی دو سانسوں پرقائم ہے اور بڑھاپا بھی دوسانسوں پرہی قائم ہے۔ پھر ہم خدا کے دین کو اختیار کرنے میں تاخیر کیوں کرتے ہیں ۔

در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری
وقتِ پیری گُرگِ ظالم میشود پرہیزگار

جوانی میں توبہ کرنا، جوانی میں اپنی لَو اللہ سے لگانا جوانی میں اپنا آپ اللہ کے سپرد کردینا ، جوانی میں اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے تابع کردینا ، جوانی میں اپنی گردنوں کو اللہ کی رضا کے سپرد کردینا یہ انبیائ کی سنت ہے یہ پیغمبروں کا شیوہ ہے۔

آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم پر استعماری طاقتوں کا غلبہ ہے۔ اس کا واحد پرامن حل یہ ہے کہ اللہ کے دین کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لو ۔ اگر اللہ کے دین کو ، اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت طلب کریں گے تو ہم پھر رسوا کر دیے جائیں گے۔

محفل کے اختتا م پر درود و سلام پڑھا گیا جس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے استحکامِ پاکستان و عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

خوشاب: 07-02-12

پریس کلب جوہر آباد میںنہایت ہی شاندار محفل میلاد مصطفی ﷺ اہتمام ہوا جس کی صدارت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے فرمائی۔

عوام کے ایک ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے مرکزی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا:

﴿لا الہ الا اللہ﴾ کہ فقط اللہ کی ذات عبادت کے لائق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کوئی مسجود نہیں ۔ فرعون اور حضرت موسیٰ کے مسئلے کو دیکھ لیجئے ۔ حضرت موسیٰ نے فرعون کو بطور خدا اور بطور معبود ماننے سے انکار کیا اور اللہ کی توحید کا عَلم بلند فرمایا اوریہی کہا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اس لیے تیری خدائی جھوٹی ہے ، تُو مرتد ہے ، تُو مردود ہے اور ہم تجھے قابل عبادت نہیں تسلیم کرتے۔حضور رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ گرامی کو دیکھیے کہ حضور ﷺ کا ابو جہل کیساتھ پہلے پہل مسئلہ ہی یہ تھا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ ﴿یایھاالناس قولوا لا الہ الا للہ تفلحون﴾ کہ اے لوگو کہہ دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم کامیاب ہوجائو گے۔اگر اللہ کو معبود نہیں مانو گے ،اگر کعبے میں سجائے ان ۰۶۳ بتوں کے سامنے تم جھکتے رہو گے تو یاد رکھو کے آخرت میں بھی تمہارا انجام ذلت آمیز ہوگا اور دنیا کے اندر بھی تمہارا انجام ذلت آمیز ہوگا اس لیے تم ایک خدا پر یقین رکھ لو یہ تمہاری اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرائے گااور یہی تکلیف تھی ابوجہل کو حضور ﷺ یہ دعوت کیوں پیش فرمارہے ہیں اور اُن کے بتوں کو جھوٹا کیوں فرما رہے ہیں یہاں سے حضور ﷺ کا ابوجہل کا تنازعہ شروع ہوا۔اس لیے اُس کی جو بنیاد ہے وہ اسی آیت کریمہ کے اوپر دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ و ھو الذی فی السمآئ الہ وفی الارض الہ﴾ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہی ہے آسمانوں میں بھی معبود کی حیثیت وہی رکھتا ہے اور زمینوں میں بھی معبود کی حیثیت وہی رکھتا ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں یہ دین اسلام کا بنیادی اور اساسی نظریہ ہے اور حضو ﷺ کی پوری کی پوری تحریک کا۔اور یہی وہ ہمارا طرۂ امتیاز ہے اور یہی نظریہ توحید ہماری قومیت کی اساس ہے کہ ہر قومیت کی کوئی نہ کوئی اسا س ہوتی ہے مثلاً آج آپ جا کر متحدہ ریاست ہائے امریکہ کو دیکھیں وہ امریکن نیشنلزم کے اوپر اکٹھے ہوئے ، یورپ کو دیکھیں وہ یورپی نیشنلزم کے اوپر اکٹھے ہوئے آپ عرب لیگ کو جاکر دیکھیے وہ عرب نیشنلزم پر اکٹھے ہوئے اور جب یورپ نے سلطنت عثمانیہ سے انتقام لینے کا سوچا تو اس وقت اتا ترک نے ترکی کو بچانے کیلئے تُرک نیشنلزم کا نعرہ لگایا اور اس نعرہ پر لوگوں کا اکٹھا کر کے ترکی کا دفاع کیااسی طرح اور دنیا کی مختلف کونسلز بنی ہوئی ہیں ان کو دیکھیے وہ بھی مختلف یونینز کے اوپر اکٹھے ہوتے ہیں اس لیے مسلمانوں کے پاس جو اساسی نظریہ ہے اکٹھے ہونے کا ، جس بنا ئ کے اوپر ، جس نظریہ کے اوپر پوری دنیا کے مسلمان اکٹھے ہوسکتے ہیں وہ نظریہ ﴿لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ﴾ ہے ۔ آپ ہندوستان کے اندر دیکھیے ہم جھگڑتے تھے ، ہم لڑتے تھے بنگالی ، افغان ، پٹھان اور بلوچی سندھی اور پنجابی یہ صدیوں کا تنازعہ تھا لیکن پاکستان کی تشکیل کے وقت کس نعرے نے ان تمام متحارب اور متصادم اقوام کو اکٹھا کردیا اور انہیں ایک لڑی کے اندر پرو کر ایک پاکستان بنا دیا،وہ ہمارے اکابر کا ، ہمار ے اسلاف کا یہی نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا ہوگا ﴿لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﴾ہوگا اور یہی پیغام توحید ہماری اساس ہے اور اسی اساس کے اوپر ہماری ملّت اکٹھی ہوسکتی ہے ہم چاہے لوکل سطح پہ ہوں ، چاہے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوں ہم چاہے اپنی ملکی سطح پہ چلے جائیں ہم چاہے قومی ، بین الاقوامی ، انٹرنیشنل سطح پہ چلے جائیں ہمارا جو طرۂ امتیاز ہے وہ نظریہ توحید ﴿لا الہ الاا للہ﴾ ہے اور ﴿ا شھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ، لا شریک لہ﴾ ہے ۔

تقریب کے آخر میں صلاۃ و وسلام پڑھا گیا جس کے بعد جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے استحکامِ پاکستان اور عالمِ اسلا م کی بقائ کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔سینکڑوں افراد نے آپ کے دستِ حق پر بیعت کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین میں شمولیت اختیار کی۔ شرکائے محفل نے آپ سے فردافردا ملاقات کا شرف حاصل کیا۔

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین دربار حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کے فیضان کا ایک ایسا سرچشمہ ہے جو’’الحمد للہ‘‘ رفتہ رفتہ قلزمِ بیکراں کی صورت میں ڈھل چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے اس جماعت کی صورت میں پوری عالم انسانیت کے لیے قرآن و حدیث کا پُر امن پیغام اور حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کا فیضان امتِ مسلمہ کی شیرازہ بندی کررہا ہے۔ پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر اجتماعات میں ہر خاص و عام کی جوق در جوق شرکت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ :

سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگا

سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین، حضرت سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس کی قیادت میںسالِ نو کی ایک نئی اُمنگ، ایک نئے جذبے کے ساتھ 2012ئ کے ملک گیر دورہ کا تیسرا رائونڈ چنیوٹ کے شہر سے ہوا۔

چنیوٹ: 28-02-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین برانچ ضلع چنیوٹ کے زیرِ اہتمام اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی کی صدارت میں نہایت ہی پر رونق محفل میلادِ مصطفی ﷺ کا اہتمام ہوا۔ کارکنانِ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے نہایت ہی جانفشانی سے محفل کا انتظام کیا۔حمد و نعت کے بعدمجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے کہا:

’’شریعت نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اس کو نماز سکھائو اور جب دس سال کا ہوجائے تو سختی سے نماز پڑھائو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم مسلمان ہیں ہم اپنے بچوں کو نماز سکھاتے بھی ہیں ، خود بھی پڑھتے ہیں اور گھر والوں کو تلقین بھی کرتے ہیں لیکن سوچنا یہ ہے کہ ہم عرصہ دراز سے نمازیں پڑھ رہے ہیں ، روزہ رکھ رہے ہیں کیا ہمیں نماز روزہ اور دیگر اعمال کے ثمرات ہمیں مل رہے ہیںیا نہیں مساجد کی روز افزوں تعداد کے باوجود فحاشی و عریانی بھی بڑھ رہی ہے ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارے اعمال کیوں بے ثمر ہو گئے ہیں‘‘۔

خصوصی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا :

’’عہدِ حاضر میں ہم جدت کے نام پر بے حیائی اور فحاشی کو اپنا کر اپنے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کرچکے ہیں آج ہر جگہ اخلاقی زوال کی آگ لگی ہوئی ہے ۔ انسان کی زندگی دو سانسوں پر قائم ہے ۔ ہماری جوانی بھی دو سانسوں پرقائم ہے اور بڑھاپا بھی دوسانسوں پرہی قائم ہے۔ پھر ہم خدا کے دین کو اختیار کرنے میں تاخیر کیوںکرتے ہیں ۔

در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری
وقتِ پیری گرگِ ظالم میشود پرہیزگار

جوانی میں توبہ کرنا، جوانی میں اپنی لَو اللہ سے لگانا جوانی میں اپنا آپ اور اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے تابع کردینا انبیائ کی سنت ہے یہ پیغمبروں کا شیوہ ہے ‘‘ ۔

محفل کے اختتام پر حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میںدرود و سلام کے پھول نچھاور کیے گئے جس کے بعد اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے ملتِ اسلامیہ کے اتحاداور اصلاحِ انسانیت کے لیے خصوصی دعافرمائی۔

اس پروگرام میں زندگی کے ہر شعبہ اور ہر مسلک کے افراد نے شرکت کرکے اصلاحی جماعت کے پیغام کو گوش گزار کیا۔ طالبانِ راہ حقیقت نے آپ کے دست حق پر بیعت کرکے اصلاحی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور سینکڑوں افراد نے اسم اعظم ،اسم اللہ ذات کی اجازت حاصل کی۔

پاکپتن: 29-02-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی کی زیرِ صدارت ہونے والی اس محفل میں نقابت کے فرائض علامہ عنایت اللہ قادری نے نبھائے۔ حمد و نعت کے بعدمفتی محمد مطیع اللہ قادری نے اپنے مدلل خطاب میںقرآن و حدیث کی روشنی میں اولیائے کاملین کی تعلیمات کو بیان کیا۔

خصوصی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا :

’’نظریۂ اسلام کی بقا میں ہی ہماری بقا پوشیدہ ہے۔ آج ملّت اسلامیہ اسی نظریہ سے رُو گردانی کی وجہ سے ذلت و رسوائی کی چکی میں پس رہی ہے۔ یہ ملک پاکستان اسی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ۔اس کی بقا کا ضامن بھی یہی نظریہ ہے۔قرآن کی صورت میں ہمارے پاس ایک آئین موجود ہے جس نے ماضی میں امت مسلمہ کو عروج بخشااس کی روشنی میں ہم مستقبل کے فیصلے کرکے خود کو ذلت و رسوائی سے نکال سکتے ہیں۔اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین میدانِ عمل میں اس پیغام کو لیکر آئی ہیں کہ ہمارا اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ، رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کے ساتھ ، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاک کتاب کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کیا جائے کیونکہ یہی تعلق ہماری ہدایت ، کمال ، سرفرازی اور عزت کا باعث ہے‘‘۔

محفل کے اختتام پردرود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیاجس کے بعداصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے حاضرین محفل اور پاکستان کے استحکام و بقائ کے لیے خصوصی دعا کی۔

ساہیوال: 01-03-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین برانچ ضلع ساہیوال کے زیرِ اہتمام فٹبال گرائونڈساہیوال میں اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکریٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی کی صدارت میں نہایت ہی پر رونق اجتماع کا اہتمام ہوا۔ کارکنانِ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین نے نہایت ہی جانفشانی سے محفل کا انتظام کیا۔۔ سٹیج سیکرٹری علامہ عنایت اللہ قادری نے محفل کا باقاعدہ آغاز کیا۔حمد و نعت کے بعدشرکائے محفل سے مفتی محمد مطیع اللہ قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا

’’کہ کامیاب اور ناکام کی بنیاد ذکراللہ ہے کثرت ذکر کرنے والے کامیاب اور نہ کرنے والے ناکام ہوتے ہیں ہمیں اپنی خبر لینی چاہیے کہ ہم ناکام گروہ میں سے ہیں یا کامیاب میںسے ہیں‘‘ ۔

اس عظیم الشان اجتماع سے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’ جس راستے کو آج ہم نے اپنایا ہوا ہے کیا یہ ہمیں اللہ کے قریب کررہا ہے یا اللہ سے دور کررہا ہے؟ جس چیز کو جدت اور فیشن کا نام دیکرہم اس پر گامزن ہیں کیا ہم نے اس کا کبھی محاسبہ کیا ہے؟کہ ہم کیا کر رہے ہیں ۔جب ہم دین کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ فرد کا نجی معاملہ ہے ۔ پھر ہمار ا اجتماعی معاملہ کیا ہے ؟ جب فرد اپنے نجی معاملہ میں خدا کے احکامات کی پیروی نہیں کرتا تو پھر وہ اپنے اجتماعی معاملات میں خدا کے احکامات کی پیروی کیسے کرسکتا ہے ؟ حدیث پاک میں ہے کہ برائی کو دیکھو تو اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرو، اگرہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں تو اسے اپنی زبان سے روکنے کی کوشش کرو ، اگر اس کی طاقت نہیں تو اپنے دل میں تو اسے برا کہتے رہو کہ یہ برا کررہا ہے اپنے دل میں برائی کو برا کہنا یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے لیکن اپنے دل میں برے کو برا کہنے کی غیرت ہونی چاہیے‘‘

۔ محفل کے اختتام پردرود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا جس کے بعد حضرت صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کی اصلاح کے لیے خصوصی دعا کی۔مجمع کے ہر فرد نے آپ سے شرفِ ملاقات حاصل کیا۔

سینکڑوں کی تعداد دستِ بیعت کرکے راہِ حق کی جانب گامزن ہوئے اور بے شمار افراد نے تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے لیے اسم اللہ ذات حاصل کیا۔ اجتماع میں بڑی تعداد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بھی شرکت کی ۔

اوکاڑہ: 02-03-12

کارکنانِ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین برانچ ضلع اوکاڑہ نے فٹبال اسٹیڈیم اوکاڑہ میں محفل میلاد مصطفی ﷺ کا نہایت احسن طریقے سے اہتمام کیا ۔ تقریب کی صدارت اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکریٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے فرمائی۔ نقابت کی ذمہ داری علامہ عنایت اللہ قادری نے سنبھالی۔حمد و نعت کے بعدمفتی محمد مطیع اللہ قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا

’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت کا تاج عطا کیا اس کو پوری زمین کا خلیفہ بنایا آج ہم ایک خطہ اور اس کے نظام اور امن کے لیے پریشان ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ اللہ نے خلافت اس لیے دی کہ یہ وہ مکان ہے جس کا مکین خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اے بندے اگر تیرا تعلق میرے ساتھ رہا تو پھر ساری کائنات تیری ہے ، ساری مخلوق تیرے تابع فرمان کر دوں گا اگر تیرا تعلق مجھ سے ختم ہوگیا تو پھر تجھے ذلیل و رسوا کردوں گا‘‘۔

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکریٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’صحابہ کرام جو رسول اللہ ﷺ سے نسبت سے پہلے چرا گاہوں میں اونٹ چرانے کا ڈھنگ نہیں رکھتے تھے اب اس نسبت کی برکت سے وہ سلطنتیں سنبھال رہے ہیں۔ اللہ کی عطا کی ہوئی قوت سے حضرت عمر فاروق (رض)دریائے نیل کو حکم دیتے ہیںتو وہ چلنا شروع ہوجاتا ہے صحابہ کرام نے جب اذانیں دیں تو کفر کے ایوان ہل گئے ۔ ہمیں ہمارے مرشد پاک کی بارگاہ سے اذان دینے کا حکم ہے کہ’’ ففروا الی اللہ ‘‘آئو اللہ کی طرف ، یہی اذان ہے ’’ حی علی الفلاح ‘‘ آئو کامیابی کی طرف ، آئو فلاح کی طرف ، یہی اذان ہے’’ اللہ اکبر‘‘ کوئی بڑا نہیں ہے اس سے کوئی حکم بڑا نہیں ہے اس کے حکم سے ، کوئی نظام بڑا نہیں ہے اس کے نظام سے ، کوئی چاہت بڑی نہیں ہے اس کی چاہت سے کوئی فکربڑی نہیں ہے اس کی فکر سے، کوئی ذکر بڑا نہیں ہے اس کے ذکر سے ، کوئی سلطنت بڑی نہیں ہے اس کی سلطنت سے، کوئی دستور بڑا نہیں ہے اس کے دستور سے، کوئی منشور بڑا نہیں ہے اس کے منشور سے اور کوئی کتاب بڑی نہیں ہے اس کی کتاب سے، کوئی قانون بڑا نہیں ہے اس کے قانون سے ، یہ ہے﴿ اللہ اکبر ﴾ ۔اس کے قانون ودستور کو مانو، اس کے منشور کو مانو، اس کے نظام کو مانو، اس کے نظام کو نافذ کرویہ اذان ہے۔ اسی اذان کی بدولت آج تک اسلام کا نام نہیں مٹایا جاسکا اور نہ آئندہ مٹایا جاسکے گا‘‘۔

اس محفل میں کثیر تعداد میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر طبقہ فکر کے افراد نے شرکت کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے پیغام سے اپنی وابستگی کااظہار کیا۔

کراچی: 04-03-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کراچی ڈویژن کے زیرِ اہتمام YMCA گراؤنڈ میں فقید المثال اجتماع کا اہتمام کیا گیا تھا جس کی صدارت سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین جانشینِ سُلطان الفقر حضرت سُلطان محمد علی صاحب نے فرمائی ۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سُلطان احمد علی نے کہا:-

’’اصلاحی جماعت وعالمی تنظیم العارفین قرآن و حدیث کی روشنی میں اولیائے کرام کی تعلیمات کو عوام الناس تک پہنچا رہی ہے اور رسالت مآب ، امام الانبیائ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے ہمیں جو دعویٰ محبت و دعویٰ عشق ہے اس دعویٰ کی دلیل کو عملی طور پر سامنے لانے کیلئے یہ جدو جہد ہم سب پر فرض بھی ہے اور لازم بھی ہے کیونکہ جس سے آپ کو محبت کا دعویٰ ہوتا ہے اُس محبت کے دعویٰ کیلئے ہمیں ضرور بہ ضرور کسی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اگر محبت کا دعویٰ ہے لیکن اُس دعویٰ کی دلیل نہیں ہے تو ممکن نہیں کہ اُس کو محبت تسلیم کیا جائے اگر مجھے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے محبت پر یقین اور اعتماد ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے نارِ نمرود میں اتر کے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلا کر اپنے دعویٰ محبت کو دلیل عطا کی۔سیدنا بلال حبشی (رض) کی محبت پر مجھے اگر بھروسہ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا بلال حبشی (رض) نے امیہ بن خلف کے چابک اپنے چہرے پر اپنی پشت پر کھا کے مکے کی نوکیلی پتھروں والی گلیوں میں گھسٹ گھسٹ کے اور تپتی دہکتی سلگتی ریت کے اوپر لیٹ کے بھاری بھر کم پتھروں کے نیچے بھی رسالت مآب ﷺ کی ذات سے کیے ہوئے عہد پہ Compromise نہیں کیایہ حضرت بلال حبشی کے دعویٰ محبت کی دلیل ہے جو مجھے اُن کی محبت کی صداقت کا یقین دلاتی ہے اگر دعویٰ کی دلیل نہ ہو تو کھوکھلے دعووں پر دنیا یقین نہیں کرتی اور نہ ہی اس پر زندہ قوموں کا معیار رکھا جا تا ہے اس لیے ہمیں اگر حضور رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت ہے تو اِس دعویٰ محبت کیلئے ہمارے پاس کیا دلیل ہے ؟ نفاذِ شریعت کیلئے ہم کیا کررہے ہیں اور کیا کچھ کرنا چاہیے؟اقامتِ دین کے لئے ہم کیا جدو جہد کررہے ہیں؟اور یہی ہمارے اکابر اور اسلاف کا پیغام ہے کہ بنیادی بات اپنے ذہن نشین کر لو کہ اگر حضور رسالت مآب ﷺ سے تمہارا رشتۂ اُلفت قائم ہوگیا تو پھر تم کامیاب و کامران ہو جائو گے۔مثلاً جب علامہ اقبال نے اللہ تعالیٰ سے بڑا مدلل اور مفصل شکوہ کیاکہ یا اللہ ہمیں تُو نے کہا کہ﴿کنتم خیرا امۃ ﴾ کہ تم بہترین امت ہو ، ایک عروج بھی دکھایا ایک کمال بھی دکھایا اس کے بعد ہمیں جہالت کے ، ظلمت کے بد ترین اندھیروں میں دھکیل دیا گیاتو اس کی وجہ کیا ہے؟ اور پھر یہ کہ ہم کیسے زوال سے باہر آسکتے ہیں ؟ تو اس شکوہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے علامہ اقبال پر اس حقیقت کو منکشف کیااور بذریعہ الہام اُس عارف کو یہ بتایا کہ یہ تمام عذاب، زوال اور ذلت کیوں تمہارے اوپر لائی گئی ہے اگر تم اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہو تو تمہارے پاس اس کا حل کیا ہے جوابِ شکوہ کے آخری آٹھ بند ملاحظہ کیجیئے ، ہمارے زوال سے نکلنے کی اقبال کے ذہن میں ایک ترکیب ڈال دی کہ اس طریقے سے تم نکل سکتے ہوکہ

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمد سے اُجالا کر دے ا

گر تم اپنے زوال کے دور کا خاتمہ کرنا چاہتے ہو تو رسالت مآب ﷺ کا دامن تھام لو وہ تمہیں جہالت کے اس اندھیرے سے باہر لے جائے گا۔پھر کہا اس نام کو کوئی چھوٹا نام نہ سمجھنا ، اس نام کو کوئی معمولی نام نہ سمجھنا بلکہ

ò خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے

تم جو آسمان کو دیکھتے ہو جو بغیر ستونوں کے قائم ہے اور طبق در طبق کھڑا ہے ﴿ خلق سبع و سموٰت طباقا﴾ یہ نیلی چھت ، یہ نیلی چادر ، یہ نیلا آسمان یہ بغیر سہارے کے کھڑا ہے قرآن تمہیں یہ دعوت دیتا ہے کہ اِس آسمان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو جواب شکوہ میں اقبال سے اسی بات سے پردہ اٹھاتا ہے کہ اگر آسمان بغیر ستونوں کے کھڑے ہیں تو محمد رسول اللہ ﷺ کے اسم گرامی کی برکت سے کھڑے ہیں ۔

ò نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

کائنات کی روح کی دھڑکن ، کائنات کی رگ کی دھڑکن اسی نامِ محمد ﷺ کی برکت سے ہے ۔ اور پھرحضرت علامہ ہمیں بتاتے ہیں کہ

دامنش از دست دادن مُردن است
چوں گل از باد خزاں افسردن است

کہ رسالت مآب ﷺ کے دامن کو اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینا یہ تیرے لیے موت کا باعث ہے، یہ تیرے لیے ذلت کا باعث ہے۔ کہ جس طرح پھول کی ٹہنی سے گرنے والی پتی خزاں میں مرجھا جاتی ہے اُس سے رونق اور چمک دمک ختم ہوجاتی ہے اے بندے تُو مصطفی کریم ﷺ کے باغ میں ، حضور کی شریعت کے پودے پہ لگے ہوئے پھول کی ایک پتی ہے اگر تُو اس ٹہنی سے گر گیا اور اگر ٹہنی تیرے ہاتھ سے چھوٹ گئی اگر تیرے ہاتھ سے اس ٹہنی کا دامن چھوٹ گیا تو یاد رکھ جس طرح خزاں میں پتی سے خوشبو نکل جاتی ہے ، پیلی پڑجاتی ہے ، مرجھا جاتی ہے اے بندۂ مومن تُو اس دنیا میں پیلا پڑجائے گا ، تُو اس دنیا میں زرد پڑجائے گا ، تُو اس دنیا میں مرجھا جائے گا ، تیرے اندر سے خوشبو جاتی رہے گی ، تیرے اندر سے رونق جاتی رہے گی ، تیرے اندر سے زندگی کی حرارت جاتی رہے گی جس طرح کلی سے مرجھا جانے کے بعد تبسم ختم ہوجا تا ہے اس دنیا میں تیرا تبسم بھی ختم ہوجائے گااے بندۂ مومن اگر دامنِ مصطفےٰ کریم کو چھوڑ دے گاتو تیری زندگی کی مسکراہٹ بھی ختم ہو جائے گی ۔ حضور ﷺ کا دامن تیرے ہاتھ سے چھوٹ گیا تو تیرے اوپر موت واقع ہوجائے گی ۔ اس لیے ہمیں حضور ﷺ کے دامن سے ، حضور کے پیغام سے وابستہ ہونے کی ضرورت ہے اور اس پیغام کی اقامت کی ضرورت ہے۔اس کی وجہ کیا ہے کہ ہر کسی کا کوئی مرکز یا ٹھکانہ ہوتاہے جس ٹھکانے سے وہ آگے بڑھتا ہے ، جس ٹھکانے پہ اُس کے دل کو اُمید ملتی ہے، جس ٹھکانے سے وہ اپنی خوراک حاصل کرتا ہے ہر کسی کا کوئی نہ کوئی ٹھکانہ ہے اسی طرح ہم بے کسوں کا ، بے بسوں کا ، ہم بے اُمیدوں کااگر کوئی ٹھکانہ اس دنیا میں بنا تو وہ رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی ہے اور اگر ہمارے وجود میں ایمان ،تقویٰ اور یقین کی زندگی ہے ، کلمہ پڑھنے کی سعادت اگر ہمیں میسر ہے اللہ کی توحید پر اگر ہم ایمان رکھتے ہیں اگر جنت کی بشارتیں ہمار ے لیے آتی ہیں تو یہ رسالت مآب ﷺ کی نگاہِ کرم کی برکت ہے جس طرح اس امت کے حکیم ، اس امت کے نبض شناس حضرت علامہ اقبال فرماتے ہیں

ò مستِ چشمِ ساقی ئِ بطحا ستیم

کہ ہماری زندگی میں جو مستی اور رونق پائی جاتی ہے یہ اُس شرابِ توحید کی بدولت پائی جاتی ہے جو ہمیں نگاہِ مصطفےٰ سے میسر ہے ‘‘۔

پروگرام کے اختتام پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔جلسہ عام کے اختتام پر ہزاروں افراد نے جماعت و تنظیم میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ سرپرستِ اعلیٰ حضرت سلطان محمد علی صاحب نے اتحاد امتِ مسلمہ اور اصلاح انسانیت کے لیے اجتماعی دعا فرمائی۔اس محفل میںوکلائ ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز اور زندگی کے ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے ہر مکتبہ فکر کے افراد نے بھر پورشرکت کی۔

جام شورو: 06-03-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ضلع جام شورو برانچ کے زیرِ اہتمام جشن میلادِ مصطفےٰ ﷺمنعقد کیا گیا۔تلاوت کلام پاک ،رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی کے بعد کلام حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ سے حاضرین محفل کے قلوب کو گرمایا۔

مولانامفتی منظور حسین صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا :

’’آج اگر ہم غور کریں کہ نیک اعمال تو ہم کر رہے ہیں لیکن اس کا ثمرہ ہمیں نہیں مل رہا ہے جیسا کہ نماز تو ہم دن میں پانچ مرتبہ ادا کرتے ہیں لیکن اس کا ثمرہ جو قرآن نے بیان کیا ’’ بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘‘ یہ حاصل نہیں کرپا رہے اور جونماز مومن کی معراج ہے چالیس پچاس سال نماز ادا کرنے کے باوجود معراج حاصل نہ کر سکے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے جیسا کہ حضور غوث الاعظم الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الفتح الربانی میں فرماتے ہیں ’’عبادت یہ ہے کہ عادت کو ترک کیا جائے نہ کہ عبادت کو عادت بنا لیا جائے‘‘ یہی وجہ ہے کہ ہم نے عبادت کو عادت کے طور پر اپنایا ہے نہ کہ عبادت کو عبادت کے طور پر ادا کیا اور اصلاحی جماعت بھی یہی دعوت دیتی ہے کہ عادت کو ترک کر یں اور صحیح معنوں میں عبادت سے اپنی نماز کو معراج بنائیں۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی ناظم اعلیٰ الحاج محمد نواز قادری نے کہا:

’’اللہ تعالیٰ نے انسان کی قدر بیان کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ’’ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسان کو زندہ کرنا پوری انسانیت کو زندہ کرنا ہے ‘‘ کا ش کہ ہم انسان سے باخبر ہوجاتے اور مقام انسان کو سمجھ لیتے ‘‘ ۔

محفل کے اختتام پر درود و سلام پڑھا گیا حاضرین محفل، اور ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

بد ین: 07-03-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے زیراہتمام عالی شان محفل میلاد مصطفی ﷺ کا اہتمام کیا گیا۔تلاوت کلام پاک ،رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی کے بعد مفتی محمد شیر القادری نے اپنے خطاب میںکہا :

’’آج ہم دین کے دو ارکان ایمان اور اسلام یعنی عقیدہ اور اعمال کو تو فروغ دیا اور اس کو اپنایا اور اس کی روح جو کہ دین کا تیسرا رکن احسان ہے اُس کو ترک کردیا جس کی وجہ سے ہم اپنے اعمال کا نتیجہ نہیں پارہے اصلاحی جماعت اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ایمان اسلام کیساتھ ساتھ احسان کو اختیار کیا جائے جسے صوفیائے کرام اور صالحین نے تصوف کا نام دیا ہے اکابرین کا یہی طریقہ رہا ہے کہ علمِ ظاہر کو حاصل کرنے کے بعد علمِ تصوف یعنی احسان کو حاصل کرنے کیلئے اولیائے کاملین کے پاس جا کر شرف ِ تلمّذ حاصل کر کے مرتبۂ احسان کو حاصل کیااور دونوں جہان میں کامیابی و کامرانی حاصل کی‘‘۔

مرکزی ناظم اعلیٰ الحاج محمد نواز القادری صاحب نے اپنے خطاب میں کہا :

’’ہمارے زوال کا اصل سبب قرآن کی تعلیمات سے دوری ہے اسی سبب سے اُمتِ مسلمہ کو سربلندی حاصل ہوئی اور اسی کو ترک کرکے ہم ذلت و رسوا ہوئے‘‘۔

پروگرام کے اختتام پر آقائے دوجہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں ہدیہ درود پیش کیا گیااور اصلاحِ اُمت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

میرپور خا ص: 08-03-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے زیراہتمام اجتماع کا اہتمام کیا گیا۔تلاوت کلام پاک کی سعادت صوفی غلام شبیر کے حصے میں آئی۔نعت و کلام حضرت سلطان باھورحمۃ اللہ علیہ محمد رمضان سلطانی نے پیش کیا۔مولانامفتی منظور حسین صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا :

’’اللہ تعالیٰ تو ہر وقت انسان کے ساتھ ہے لیکن انسان خدا کو بھول چکاہے۔ انسان کا جب تک اپنے خالق و مالک سے معرفت اور پہچان کا رشتہ قائم نہیں ہوتا اس وقت تک اس کا تعلق مضبوط نہیں ہوتا۔اور اپنے خالق و مالک کی معرفت انسان کو اپنی معرفت سے نصیب ہوتی ہے جیسا کہ آقائے دوعالم ﷺ کا فرمان مبارک ہے ’’جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘‘﴿تفسیر مظھری ج۱،ص۸۹۱﴾

علامہ اقبال فرماتے ہیں ؛

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

خطاب کرتے ہوئے الحاج محمد نواز القادری نے انسان کی اہمیت کو واضح کیا کہ :

’’انسان کے ظاہر ، باطن اور حقیقت کے تینوں پہلوئوںپر نظر رکھنا ضروری ہے اور انسان کی زندگی کا اصل مق صد اپنی حقیقت تک رسائی ہے کہ وہ اللہ کا خلیفہ بن جائے ورنہ وہ بے مقصد زندگی گزار رہا ہے‘‘۔

پروگرام کے اختتام پر آقائے دوجہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں ہدیہ درود پیش کیا گیااور اصلاحِ اُمت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

دادُو: 09-03-12

مفتی محمد شیر القادری نے اپنے خطاب کرتے ہوئے کہا :

’’ شیطان انسان کا دشمن ہے لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اس کی انسان سے دشمنی کی وجہ کیا ہے اور انسان نے اس کا کیا بگاڑا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان کی گمراہی کی وجہ آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے اور اپنے آپ کو اس سے بہتر کہنا ہے اور شیطان اب یہی چاہتا ہے کہ جیسے میں اَنا اور تکبر کر کے گمراہ ہواہوں اب اسے بھی اس سے دوچار کرکے گمراہ کیا جائے جس طرح مَیں اللہ سے دور ہوا اس کو بھی ذاتِ باری تعالیٰ سے دور کیا جائے یاد رکھو کہ ہماری کامیابی اور نجات اسی میں ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اولیائے کاملین کی تعلیمات کو اپنا کر اپنے ظاہر کیساتھ ساتھ اپنے باطن کو پاک کر کے اس ازلی دشمن سے نجات حاصل کر کے اللہ اور اس کے رسولﷺ کا قرب و وصال حاصل کریں‘‘۔

مرکزی ناظم اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین الحاج محمد نواز قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا :

’’قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے مگر ہم نے اسے تلاوت تک محدود کردیا اور عمل چھوڑ دیااسی وجہ سے ہم پستی کا شکار ہوگئے۔ نشاۃِثانیہ اسی وقت شروع ہوسکتی ہے جب ہم قرآن و سنت کو عملی طور پر اپنائیںاور اپنا مشعلِ راہ بنائیں‘‘۔

درود و سلام کے بعد پاکستان کے استحکام ، اُمت مسلمہ کی بقائ اور اصلاحِ انسانیت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

بہاولپور: 13-03-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ضلع بہاولپوربرانچ کے زیرِ اہتمام اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکریٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی کی صدارت میں نہایت ہی پر رونق محفل اجتماعِ میلادِ مصطفی ﷺ ہاکی اسٹیڈیم بہاولپور میں اہتمام ہوا۔

حمد و نعت کے بعد حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کا عارفانہ کلام پڑھا گیا۔ مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانامفتی منظور حسین نے کہا :

’’اس پرفتن معاشرہ میں اولیائے کاملین کی تعلیمات کی اشاعت و تبلیغ کی اشد ضرورت ہے جو امن و سلامتی کا ضامن ہے ۔ کیونکہ اولیائے کاملین ہی انسان کو اس کی انسانیت سے روشناس کراکرامن اور محبت کا پیکر بناتے ہیں اور یہ کام اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین احسن طریقے سے نبھارہی ہے‘‘۔

مرکزی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے کہا :

’’انسانی معاشرہ حیوانیت کی لپیٹ میں آگیا ہے اور ہمارے باطن ، رُوحانی قوت اور قلب سے اس محرومی او راس غفلت نے ہمیں حیوانیت کے اندر مبتلا کردیا ہے اور یہ حیوانیت ہے کہ بڑھتی چلی جارہی ہے اور بتدریج بڑھتی جا رہی ہے اور ہمیں مزید تباہی کے دہانے پر لے جا رہی ہے ۔

دی شیخ با چراغ ہمیں گشت گرد شہر
کز دام و دد ملومم و انسانم آرزوست
﴿مولانا رومی ﴾

ترجمہ:میں نے دیکھا ایک درویش چراغ ہاتھ میں لیے شہر کا چکر لگا رہا تھاتو میں اس نے پوچھا اے درویش! کیا ڈھونڈتا ہے ؟درویش نے جواب دیا کہ میں ان بھیڑیا نما انسانوں سے، ان دو ٹانگوں والے حیوانوں سے تنگ آگیا ہوںمیری آرزو انسان ہے ۔میں کسی انسان کا متلاشی ہوں ، مجھے کوئی انسان نہیں مل رہا ۔علامہ اقبال ہمیں بتاتے ہیں ؛

آدم کو ثبات کی طلب ہے
دستورِ حیات کی طلب ہے

کیا یہ وقت نہیں ہے کہ ہم اللہ کی طرف رجوع کریں ، قرآن کی طرف رجوع کریں ، اسوۂ حسنہ کی طرف رجوع کریں رسالت مآب ﷺ کے احکامات اور آپ کے تشکیل کردہ اس معاشرے کی طرف رجوع کریں ، ہم اپنی اصلاح کریں اپنے دل کو زندہ کریں ۔اپنے کانوں کو کھولیں اور اپنی ان آنکھوں کے سامنے سے گرد کی وہ تہہ ہٹائیں اور آنکھیں کھولیںاور مغربی استعمار کے قائم کردہ انسانی تباہی کے نظام کے خاتمے اور اُلوہی نظام کے قیام کے لئے جد و جہد کریں تاکہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم ہو جائے ‘‘۔

درود و سلام کے بعد پاکستان کے استحکام ، اُمت مسلمہ کی بقائ اور اصلاحِ انسانیت کے لیے سیکرٹری جنرل اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے خصوصی دعا فرمائی۔

اجتماع میں سماجی کارکنان ، صحافیوں کی بڑی تعداد ، وکلائ، علمائ اور ڈاکٹرز حضرات کے علاوہ ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والی عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔سینکڑوں افرا د نے آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کرکے اس جماعت میں شمولیت اختیار کی۔شرکائے محفل نے آپ سے فردا ًفرداً ملاقا ت کا شرف حاصل کیا۔

چشتیاں: 14-03-12

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین برانچ چشتیاں ضلع بہاولنگرکے زیرِ اہتمام اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سیکریٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی کی صدارت میں نہایت ہی پر رونق محفل میلادِ مصطفی ﷺ کا اہتمام ہوا۔

حمد و نعت کے بعد حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کا عارفانہ کلام پڑھا گیا۔ مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانامفتی منظور حسین نے ذکر اللہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا:

’’انسان کی زبان تسبیح بیان کرتی ہے اور تسبیح کی اہمیت یہ ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے اور کل قیامت کے دن تسبیح اُس کے میزان کو بھاری کردے گی جیسا کہ بخاری شریف کی آخری حدیث مبارکہ میں آقائے دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ دو کلمے جو زبان پر خفیف ہیں لیکن میزان میں بہت بھاری ہیں اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں ﴿سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم﴾ یا د رکھیں کہ صرف تسبیح تک محدود نہ ہوں بلکہ اس سے آگے گزر کر ذکراللہ کر کے اپنے قلوب کو پاک کرواللہ تبارک وتعالیٰ کی معرفت اور پہچان حاصل کراور یہی اصلاحی جماعت کا پیغام ہے‘‘۔

مجمع عام سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا۔

’’خالق یہ چاہتا ہے کہ مخلوق میرے ساتھ اپنا تعلق قائم کرے سب کچھ جس کیلئے بنایا ہے وہ انسان میری طرف متوجہ ہو اور جس انسان کو زندگی میں سانسوں کی تسبیح عطا کی ہے وہ اس سانسوں کی تسبیح کو میرے ذکر میں پروئے کیونکہ ’’سانس گنتی کے ہیں جو سانس ذکراللہ کے بغیر نکلا وہ مردہ ہے‘‘ جب سانس ختم ہوجائے تو تیرے یہ سب دنیاوی رشتے ختم ہوجائیں گے جیسے جب آدمی دنیاسے رخصت ہوتا ہے تو اُس کے سب تعلق والے’’ دعا واسطے حاضر اس میت کے ‘‘ کہتے ہیں گویا وہ یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ اب اس سے سب دنیاوی رشتے منقطع ہوچکے ہیں ۔ جو باپ کہتا تھا اے میرے چشم و چراغ ، اے میرے جگر کے ٹکڑے ، میری نظروں سے دور نہ ہونا وہ خود اپنے ہاتھوں سے دفن کردے گا آج اگر ہم غور کریں تو ہمیں صرف دنیا کی فکر ہے اور آخرت کی فکر نہیں جہاں ہمیں ابدی نعمتیں ملیں گی ۔یا د رکھیں اگر ہم دنیا و آخرت کی نعمتیں اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں،اگر ہمیں حضور ﷺسے دعویٰ محبت ہے تو اس کو دلیل عطا کرنا ہوگی ۔ اور حضور رسالت مآب کی غُلامی تہہِ دل سے قبول کر کے حضور کی دین کی اقامت اور حضور کے کلمہ کی سربلندی کے لئے جد و جہد کرنا ہوگی اگر ہمارے عمل کا یہ معیار ہے تو ہمیں مبارک ۔ بہ صُورتِ دیگر حضور سے ہمیں کیا دعویٰ ئِ تعلُّق ہو سکتا ہے ۔

محمد کی غلامی دینِ حق کی شرطِ اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے‘‘

تقریب کے آخر میں صلاۃ و وسلام پڑھا گیا جس کے بعد صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب مدظلہ الاقدس نے استحکامِ پاکستان اور عالمِ اسلا م کی بقائ کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔سینکڑوں افراد نے آپ کے دستِ حق پر بیعت کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین میں شمولیت اختیار کی۔ شرکائے محفل نے آپ سے فردافردا ملاقات کا شرف حاصل کیا۔